بادامی باغ واقعہ: جمعہ کو یوم رواداری منائینگے‘ پنجاب حکومت‘ علماءکا اعلان‘ وکلاءآج ہڑتال کرینگے

12 مارچ 2013

لاہور (اپنے نامہ نگار سے + خصوصی نامہ نگار + وقائع نگار خصوصی) بادامی باغ واقعہ کیخلاف پنجاب حکومت اور علماء نے جمعہ کو یوم رواداری منانے کا اعلان کیا ہے جبکہ پنجاب بھر کے وکلاء آج ہڑتال کرینگے۔ انسداد دہشت گردی عدالت نے 14 ملزموں کا 4 روزہ جسمانی ریمانڈ دیدیا جبکہ 21 ملزموں کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھجوا دیا۔ بادامی باغ میں حالات معمول پر آ گئے کامران مائیکل اور ڈی سی او نے متاثرین میں چیک تقسیم کئے جبکہ واقعہ کیخلاف ملک بھر میں مشنری سکول بند رہے۔ مولانا طاہر محمود اشرفی، عبدالخبیر آزاد، پال بھٹی، الیگزینڈر جان ملک اور دیگر نے مشترکہ پریس کانفرنس میں کہا کہ توہین رسالت کے مرتکب افراد اور جھوٹی خبریں پھیلانے والے دونوں قومی مجرم ہیں جبکہ لوہا مارکیٹ مصری شاہ کے تاجروں نے غیر معینہ مدت تک کیلئے ہڑتال کردی جبکہ کئی شہروں میں مظاہرے بھی ہوئے۔ تفصیلات کے مطابق وزیراعلیٰ شہبازشریف کی زیر صدارت گزشتہ رات علماءکرام اور مشائخ عظام کے اجلاس کے دوران اتفاق رائے سے طے پانے والے مشترکہ اعلامیے کا متن درج ذیل ہے- ”اسلام دین امن ہے اور یہ معاشرے میں رہنے والے تمام افراد کو ،خواہ ان کا تعلق کسی بھی مذہب اور رنگ و نسل سے ہو، ان کی جان و مال اور عزت و آبرو کے تحفظ کی ضمانت عطا کرتا ہے۔ ایک اسلامی ریاست میں آباد غیر مسلم اقلیتوں کی عزت اور جان و مال کی حفاظت کرنا مسلمانوں پربالعموم اور اسلامی ریاست پر بالخصوص فرض ہے۔ اسلامی ریاست میں غیر مسلم شہریوں کو بھی وہی حقوق حاصل ہیں جو مسلمانو ںکو حاصل ہیں۔ ”تمام مکاتب فکر کے علماءکرام اور مشائخ عظام کا ےہ نمائندہ اجتماع سانحہ بادامی باغ پر شدید غم و غصہ اور گہرے رنج و غم کا اظہار کرتا ہے-ہم تمام شرکاءاجلاس اس امر پر متفق ہیں کہ ےہ ناپاک جسارت اسلام دشمن قوتوں کی طرف سے دنیا بھر میں بسنے والے دو ارب مسلمانوں کے خلاف ایک کھلے چیلنج کی حیثیت رکھتی ہے-ہم شرکاءاجلاس اسلام اور پاکستان دشمن عناصر کی اس مذموم کوشش کے خلاف پوری طرح متحد اور متفق ہیں-ہم اس پروپیگنڈے کے خلاف حکومت پنجاب کے موقف سے متفق ہیں اور ہم وزیراعلی شہبازشریف کے ساتھ مسیحی برادری کے اس غم میں برابر کے شریک ہیں اور اجلاس میں حسب ذیل فیصلے ہوئے۔ اس نمائندہ اجلاس کے تمام شرکاءسے درخواست کرتے ہیں کہ وہ اپنے خطبات اور بالخصوص آمدہ خطبہ جمعتہ المبارک میں عوام سے اسلام دشمن عناصر کے خلاف اتحاد و یگانگت پیدا کرنے، میانہ روی اور مثبت روےہ اختیار کرنے کی اپیل کریں اور مذکورہ سانحہ میں جو اقلیتوں کی املاک کو جلایا گیا اس کی بھرپور مذمت کی جائے- توہین رسالت کرنے والے شخص کو قانون کے مطابق کڑی سے کڑی سزا دی جائے۔ جن شر پسند عناصر نے دہشت گردی پھیلاتے ہوئے اقلیتوں کی املاک کو جلایا اور ان کے مال کو لوٹا ہے، انہیں بھی قانون کے مطابق کڑی سے کڑی سزا دے۔ ےہ نمائندہ اجلاس اس بات پر بھی زور دیتا ہے کہ آمدہ جمعتہ المبارک کو ”یوم روا داری “ کے طور پر منایا جائے گا- اجلاس میں پیر محمد امین الحسنات شاہ، مولانا غلام محمد سیالوی، مولانا محمد اجمل قادری، مولانا طاہر محمود اشرفی، ڈاکٹر راغب حسین نعیمی مہتمم جامعہ نعیمیہ لاہور اور مولانا محمد امجد خان شریک تھے- جبکہ علماءکرام مسیحی رہنماﺅں نے کہا ہے کہ توہین رسالت کرنے والے سے کوئی مذہب، مسلک ہمدردی نہیں رکھتا۔ جمعتہ المبارک مسیحی برادری سے اظہار یکجہتی کے لئے ملک بھر میں یوم رواداری منایا جائے گا جبکہ اتوار کے روز مسیحی برادری یوم رواداری منائے گی، جبکہ علماء کرام اور مسیحی رہنماﺅں پرمشتمل کمیٹی بھی قائم کردی گئی ہے جو سانحہ بادامی باغ کی قانونی، اخلاقی اور مالی امداد کے معاملات کو مانیٹر کرے گی۔ ان خیالات کا اظہار وزیراعظم کے مشیر ڈاکٹر پال بھٹی، الیگزینڈر جان ملک، مولانا طاہر محمود اشرفی، مولانا عبدالخیر آزاد، علامہ زبیر احمد ظہیر، حافظ کاظم رضا نقوی، مولانا عاصم مخدوم، بشپ فرانسس شا، پادری شاہد معراج، کرنل واشنگٹن، ڈینیئل و دیگر نے سینٹ ایتھونی چرچ میں اجلاس کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ الیگزینڈر جان ملک نے کہا کہ کوئی مسیحی حضرت محمد کی شان میں گستاخی نہیں کر سکتا، مسیحی عوام عدم تحفظ کا شکار ہیں۔ الیگزینڈر ملک نے کہا توہین رسالت قانون کے غلط استعمال پر اعتراض ہے۔ علامہ طاہر اشرفی نے کہا واقعہ کی ذمہ دار صوبائی حکومت ہے۔ پنجاب حکومت کے بروقت اقدامات کی وجہ سے بادامی باغ جوزف کالونی میں معمولات زندگی بحال ہونا شروع ہو گئے۔ متاثرین کے غم و غصے میں بھی قدرے کمی واقع ہوئی ہے۔ سانحے کیخلاف میٹرو بس سٹیشنوں کی توڑ پھوڑ میں گرفتار 50 سے زائد مسیحی افراد کو رہا کر دیا گیا۔ انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت کے جج عرفان سعید نے بادامی باغ میں ہنگامہ کرنے والے گرفتار 14 نامزد ملزمان کو 4 دن کے جسمانی ریمانڈ پر پولیس کی تحویل میں دے دیا جبکہ 21 نامعلوم ملزموں کی شناخت پریڈ کے لئے 7 روزکا جوڈیشل ریمانڈ جاری کیا ہے۔ عدالت نے ان ملزموں کو آئندہ پیر کے روز عدالت میں پیش کرنے کی ہدایت کی ہے۔ ڈسٹرکٹ کوآرڈینیشن آفیسر لاہور نور الامین مینگل نے بادامی باغ کے متاثرین سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنے تباہ شدہ گھروں سے اشیا سامان باہر اپنے کیمپ میں لے آئیں تاکہ ٹھیکیدار اور مزدور ان کے گھروں کی تعمیر کو جلد شروع کر سکیں۔ ان خیالات کا اظہار ڈی سی او لاہور نورالامین مینگل نے متاثرین میں امدادی رقوم کے چیک کی تقسیم کرنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ بعدازاں ڈی سی او لاہور نورالامین مینگل، چودھری شہباز، رانا اقبال اور دیگر نے 150 سے زائد متاثرین میں 5 لاکھ فی کس کے حساب سے امدادی چیک تقسیم کئے۔ جبکہ ڈسٹرکٹ کوآرڈینیشن آفیسر لاہور نور الامین مینگل نے سینٹر کامران مائیکل کے ہمراہ جلائے جانے والے گھروں کی تعمیر کا جائزہ لینے کے لئے جوزف کالونی کا درہ کیا اور تعمیراتی کام کی رفتار کو چیک کیا۔ بادامی باغ واقعہ کے خلاف پنجاب بار کونسل نے ہڑتال کی کال دے دی ہے اور آج پنجاب بھر میں وکلاءہڑتال کرینگے ، احمر حسین چیمہ وائس چیئرمین پنجاب بار کونسل، طاہر نصراللہ وڑائچ چیئرمین ایگزیکٹو کمیٹی پنجاب بار کونسل ودیگر ممبران پنجاب بار کونسل نے واقعہ کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ جبکہ لاہور ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کے جنرل ہاﺅس اجلاس میں جوزف ٹاﺅن واقعہ کی بھرپور مذمت کرتے ہوئے متاثرین کیلئے امدادی رقم 5 لاکھ سے بڑھا کر 15 لاکھ فی کس کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ بار کی طرف سے دو کمیٹیاں بھی تشکیل دی گئیں جو جوڈیشل انکوائری کی مانیٹرنگ اور متاثرین جوزف ٹاﺅن کو مفت قانونی امداد فراہم کریں گی۔ لاہور ہائیکورٹ بار کے صدر عابد ساقی کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں دیگر عہدیداروں اور وکلاء کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ ایس ایس پی انوسٹی گیشن کا کہنا ہے کہ بادامی باغ واقعہ میں ملوث 83 نامزد ملزمان میں سے 47 ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ قائم مقام آئی جی پنجاب خان بیگ نے آگ لگانے والے ملزموں کی گرفتاری کے لئے ایس ایس پی انوسٹی گیشن بابر بخت قریشی کی سربراہی میں خصوصی ٹیم تشکیل دی ہے۔ علاوہ ازیں پولیس ترجمان نے کہا ہے کہ اس خبر میں کوئی حقیقت نہیں کہ بادامی باغ واقعہ میں ملوث مرکزی ملزم کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔ سنی اتحاد کونسل (مشہدی) نے وزیراعلی شہباز شریف کی طرف سے جمعتہ المبارک کو یوم رواداری منانے کی اپیل کی مکمل حمایت کرتے ہوئے ملک بھر کی تنظیمات کو یوم رواداری بھرپور انداز میں منانے کی ہدایت جاری کر دی ہیں۔ یہ ہدایت پیر سید محفوظ شاہ مشہدی نے گزشتہ روز کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ جبکہ مرکزی انجمن تاجران لوہا مارکیٹ مصری شاہ کا ہنگامی اجلاس زیر صدارت چودھری شاہد حسین ہوا۔ اجلاس میں بادامی باغ واقعہ کی تحقیقات کی آڑ میں لوہا مارکیٹ اور ملحقہ علاقوں سے سینکڑوں بے گناہ تاجروں مزدوروں اور عام شہریوں کی بلاجواز گرفتاریوں کی شدید مذمت کی گئی۔ گرفتاریوں کی وجہ سے احتجاجاً لوہا مارکیٹ مصری شاہ کے تاجروں نے غیر معینہ مدت کیلئے ہڑتال کر دی ہے اور مطالبہ کیا گیا کہ تاجر رہنماﺅں محمد بشیر کمبوہ، انعام الحق، طیب محمود سمیت تمام شہریوں کو فی الفور رہا کیا جائے۔
لاہور+ گوجرانوالہ + قصور (خصوصی نامہ نگار+ نمائندہ خصوصی+ نامہ نگار) بادامی باغ واقعہ کیخلاف گذشتہ روز بھی لاہور سمیت کئی شہروں میں مظاہرے کئے گئے۔ تفصیلات کے مطابق مجلس وحدت مسلمین پنجاب کے جنرل سیکرٹری علامہ عبدالخالق اسدی نے بادامی باغ واقعہ کے متاثرین سے اظہار یکجہتی کے لئے سول سوسائٹی کے زیراہتمام چیئرنگ کراس اسمبلی ہال پنجاب کے سامنے ہونے والے مظاہرے میں شرکت کی۔ اس موقع پر شہزادہ علی ذوالقرنین ، مظاہر شگری، گوہر عباس اور دیگر ہمراہ تھے۔ علامہ عبدالخالق اسدی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم ہر ظالم کے خلاف ہیں چاہے وہ مسلمان ہی کیوں نہ ہو ۔ اُنہوں نے کہا کہ پاکستانی قوم بیدار ہوچکی ہے، ایک کے جرم کی آڑ میں بے گناہ اقلیتی برادری کو نشانہ بنانا اسلامی تعلیمات کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہے۔ این این آئی کے مطابق جوائنٹ ایکشن کمیٹی فار پیپلز رائٹس اور اس میں شامل سول سوسائٹی تنظیموں کے زیراہتمام بادامی باغ واقعہ کے خلاف شام چیئرنگ کراس پر احتجاجی مظاہرہ اور دھرنا دیا۔ اس موقع پر ہیومن رائٹس کمشن آف پاکستان سے آئی اے رحمن، حنا جیلانی ایڈووکیٹ، ساﺅتھ ایشیا پارٹنر شپ، پاکستان سے عرفان مفتی اور عورت فاﺅنڈیشن سے ممتاز مغل نے خطاب کیا اور اس واقعہ کی پرزور مذمت کی۔ رائیونڈ روڈ پر خیابان جناح چوک میں مشتعل مظاہرین نے ٹائروں کو آگ لگاکر احتجاج کیا۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ دہشت گردی میں ملوث ملزمان کو عبرت کا نشانہ بنایا جائے۔ سروسز ہسپتال کے مسیحی ملازمین نے غوث الاعظم روڈ پر احتجاجی مظاہرہ کیا اور واقعے کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔ منیارٹی موومنٹ کے زیراہتمام پریس کلب کے باہر احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔ نوائے وقت نیوز کے مطابق سماجی رہنما عبدالستار ایدھی کی قیادت میں کراچی میں امن واک ہوئی۔ عبدالستار ایدھی نے کہا کہ مذہب انسانیت سکھاتا ہے، بادامی باغ واقع پر افسوس ہوا۔ گوجرانوالہ کے نمائندہ خصوصی کے مطابق واقعہ کیخلاف احتجاجی جلوس نکالا گیا جس کی قیادت شہر بھر سے آئے تمام مسیحی رہنماﺅں سراج، الیڈر نسیم اختر، پادری ناصر منہاس، پادری عامر ایڈی، پادری صابر گل، عادل شریف گل، ملک نصیر الدین، ریاض مٹو، یوسف کمال،آصف یوسف سلاس بی این، ڈاکٹر رضوان، ہارون بھٹی،عاشر بھٹی نے اپنے اپنے علاقوں میں جلوسوں کی قیادت کی کرسچن ٹاﺅن گھوڑے شاہ بستی ہمساں، بستی ڈوگراں ،محلہ شریف پورہ ،بجلی گھر، فرانسیساں آباد،چھچھروالی ،کھوکھرکی ،محلہ باغ والا گھرجاکھ، نوشہرہ روڈ ، جلوسوں کی صورت میں لیاقت باغ گوجرانوالہ میں اکٹھے ہوئے۔ کمشنر آفس چوک میں دھرنا دیا گیا۔ قصور میں مسیحی برادری نے جلوس نکالا اور احتجاجی دھرنا دیا۔ اس موقع پر خواتین بچوں کی بھی بڑی تعداد موجود تھی۔