امریکی دباﺅ کے باوجود پاکستان ایران گیس پائپ لائن منصوبے کا سنگ بنیاد

12 مارچ 2013

رخصت ہوتے حکمرانوں کا یہ آخری تحفہ قوم کو مبارک ہو!

صدر مملکت آصف علی زرداری اور ایران کے صدر محمود احمدی نژاد نے امریکی دباﺅ کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے پیر کے روز ایران میں پاک ایران سرحد کے قریب ”گبدزیرو“ کے مقام پر پاکستان ایران گیس پائپ لائن کے منصوبے کا سنگ بنیاد رکھ دیا۔ سنگ بنیاد کی اس تقریب میں شرکت کیلئے چاروں صوبائی گورنر اور تین وزرائے اعلیٰ بھی صدر زرداری کے ہمراہ گئے تھے جبکہ وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف اس تقریب میں شرکت کیلئے صدر مملکت کے ہمراہ نہیں گئے۔ صدر محمود احمدی نژاد اور صدر زرداری کی جانب سے مشترکہ طور پر پاکستان کی جانب گیس پائپ لائن کی تنصیب کا سنگ بنیاد رکھنے کے ساتھ ہی اس منصوبے کی تکمیل کا آغاز ہو گیا کیونکہ ایران اپنے علاقے میں پہلے ہی گیس پائپ لائن بچھا چکا ہے اور اب پیر سے پاکستان کے علاقے میں 781 کلومیٹر لمبی گیس پائپ لائن بچھانے کا کام شروع ہو گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق حالات سازگار رہنے کی صورت میں پاکستان کے علاقے میں بھی پندرہ ماہ کے اندر اندر گیس پائپ لائن کی تنصیب مکمل ہو جائیگی اور پاکستان کو گیس سپلائی کی فراہمی شروع ہو جائیگی۔ اس منصوبے کے تحت پاکستان کو روزانہ 21.5 ملین کیوبک میٹر گیس درآمد ہونے کا امکان ہے۔
موجودہ حکمرانوں نے اپنے پانچ سالہ اقتدار کے دوران ملک و قوم کے مفاد میں اگر کوئی کام کیا ہے تو وہ پاکستان ایران گیس پائپ لائن کے منصوبے کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کیلئے ان کا پرعزم اور ثابت قدم رہنا ہے ورنہ امریکہ کی جانب سے اس منصوبے کے معاملے میں پاکستان کو جس انداز میں ہر سطح پر دھمکیاں دے کر اس منصوبے سے نکالنے کی کوشش کی گئی‘ اگر کسی مرحلے میں ہمارے حکمرانوں کے پائے استقلال میں کوئی لغزش پیدا ہو جاتی تو یہ منصوبہ بھی قصہ¿ پارینہ بن کر ماضی کی داستانوں میں کہیں گم ہو جاتا۔ اس تناظر میں گیس پائپ لائن کا منصوبہ حکمرانوں کی جانب سے ملک و قوم کیلئے آخری تحفے سے ہی تعبیر کیا جائیگا جس کی تکمیل سے توانائی کے بحران پر قابو پانے میں مدد ملے گی تو ملکی معیشت کا جامد پہیہ بھی چلنا شروع ہو جائیگا اور اقتصادی ترقی کی ہموار ہوتی فضاءعوام کی خوشحالی کی بھی ضمانت بن جائیگی۔ صدر زرداری نے امریکی دباﺅ کے باوجود گزشتہ ماہ تہران کا دورہ کرکے گیس پائپ لائن منصوبے کو حتمی شکل دی تھی جبکہ اس موقع پر انہوں نے ایران کے صدر محمود احمدی نژاد اور ایران کے روحانی پیشوا آیت اللہ خامنہ ای سے ملاقاتوں کے دوران بھی اس عزم کا اظہار کیا تھاکہ کسی بھی بیرونی دباﺅ کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے یہ منصوبہ پایہ¿ تکمیل کو پہنچایا جائیگا کیونکہ یہ منصوبہ دونوں ممالک کے مفاد میں ہے۔ انہوں نے اس موقع پر یہ بھی باور کرایا تھا کہ عالمی اور علاقائی کھلاڑیوں کی پاکستان اور ایران کے تعلقات میں پیش رفت روکنے کی کوشش ناکام رہی ہیں اور عوام نے یہ جان لیا ہے کہ اسلام دشمنوں کیخلاف کیسے نمٹنا ہے۔ گزشتہ روز ایران میں اس منصوبے کا سنگ بنیادرکھ کر صدر زرداری نے اپنا قول نبھانے کی روایت بھی ڈال دی۔
سات اعشاریہ پانچ ملین ڈالر کے اس منصوبے کو پہلے بھارت نے سبوتاژ کرنے کی بھرپور کوشش کی جو اس منصوبے کے ابتدائی مراحل میں خود اس منصوبے کا حصہ تھا چنانچہ وہ پہلے اس منصوے پر کام شروع کرنے میں لیت و لعل کرتا رہا اور پھر گیس کے نرخ زیادہ ہونے کا بہانہ کرکے اس منصوبے سے دستکش ہو گیا جس سے یہ تاثر پختہ ہوا کہ درحقیقت وہ پاکستان اور ایران کے مابین غلط فہمیاں پیدا کرنے کیلئے اس منصوبے کا حصہ بنا تھا۔ بھارت اس زعم میں تھا کہ اسکے دستکش ہونے سے یہ منصوبہ کبھی پایہ تکمیل کو نہیں پہنچ پائے گا مگر ایران اور پاکستان کی قیادتوں نے اس منصوبے کیلئے پرعزم اور ثابت قدم رہ کر نہ صرف علاقائی ترقی کے حامل اس منصوبے کو زمین پر موجود دکھا دیا ہے بلکہ امریکہ اور بھارت دونوں پر واضح کر دیا ہے کہ اس خطہ میں موجود مسلم ممالک کو دنیا کی کوئی طاقت ایک دوسرے کے مفاد میں باہمی تعاون سے نہیں روک سکتی۔ ایران تو پہلے ہی کسی امریکی دھمکی کو خاطر میں نہیں لایا اور اس نے ملکی ضرورت کے پیش نظر ایٹمی ٹیکنالوجی کے حصول کا سلسلہ برقرار رکھا جس پر امریکہ کے ایماءپر اقوام متحدہ نے ایران پر اقتصادی پابندیاں عائد کردیں اور دوسرے رکن ممالک کو باور کرایا کہ ایران کے ساتھ تجارتی اور کسی بھی قسم کے دوسرے تعلقات کی پاداش میں ان پر بھی اقتصادی پابندیاں عائد کردی جائیں گی۔ پاکستان کو اسی تناظر میں گیس پائپ لائن کے منصوبے کے حوالے سے سخت دباﺅ میں رکھا گیا جبکہ پاکستان کو توانائی کے بحران سے عہدہ برا¿ ہونے کیلئے اس منصوبے کی سخت ضرورت تھی۔ یہ طرفہ تماشا ہے کہ امریکہ نے توانائی کے بحران سے نکلنے کیلئے خود بھی اپنے فرنٹ لائن اتحادی کی کوئی مدد نہ کی اور تاپی پائپ لائن سے پاکستان کو تیل فراہم کرنے کی خالی خولی پیشکشیں کرکے اسے عملی جامہ نہ پہنایا مگر جب پاکستان اپنی مجبوری کے تحت ایران کے ساتھ گیس پائپ لائن کے منصوبے کی جانب پیش رفت کرنے لگا تو اسکے ساتھ دھمکی آمیز رویہ اختیار کرلیا گیا۔ اس صورتحال میں پاکستان کی حکومتی قیادت نے ملک و قوم کے بہترین مفاد میں ایران کے ساتھ گیس پائپ لائن کے منصوبے کی تکمیل کا عزم باندھ لیا جس پر گزشتہ روز پاکستان کے علاقے میں گیس پائپ لائن بچھانے کے عملی اقدامات سے اس منصوبے کی تکمیل کی راہ ہموار ہوئی ہے تو اب امریکہ‘ بھارت یا کسی دوسرے ملک کو علاقائی ترقی کے حامل اس منصوبے میں کسی قسم کا رخنہ ڈالنے کی کوشش نہیں کرنی چاہیے بلکہ اس حوالے سے مطمئن ہونا چاہیے کہ اس منصوبے کی تکمیل سے پاکستان میں صنعتی اور اقتصادی ترقی کا عمل شروع ہو گا اور اسکی معیشت اپنے پاﺅں پر کھڑے ہونے کے قابل ہو جائیگی تو پاکستان یکسو ہو کر دہشت گردی کے مکمل خاتمہ کیلئے عملی اور ٹھوس اقدامات اٹھانے کے قابل بھی ہو جائیگا۔ اس طرح یہ منصوبہ تو درحقیقت علاقائی اور عالمی امن و استحکام کی ضمانت بن سکتا ہے‘ اگر امریکہ کو دہشت گردی کا خاتمہ اور عالمی امن مقصود ہے تو اسے گیس پائپ لائن سمیت ایسے کسی بھی منصوبے کی راہ میں حائل نہیں ہونا چاہیے جو دہشت گردی کی آماجگاہ بنے اس خطے میں امن و آشتی کے قیام کی ضمانت بن سکتا ہو۔
یہ خوش آئند صورتحال ہے کہ گیس پائپ لائن کے سنگ بنیاد کی اس تقریب میں متعدد عرب ممالک کے نمائندگان بھی مدعو تھے جس سے دنیا کو مسلم ممالک کے باہمی اتحاد و تعاون کا ٹھوس پیغام ملے گا جبکہ مسلم ممالک باہمی تعاون سے اس خطے میں ایک مضبوط بلاک کی بنیاد بھی رکھ سکتے ہیں جو اپنے وسائل ایک دوسرے کی ضرورتیں پوری کرنے کیلئے بروئے کار لا کر اس خطے کو مثالی انسانی معاشرے میں ڈھال سکتے ہیں۔ اس تناظر میں پاکستان ایران گیس پائپ لائن منصوبہ اس خطہ میں اسلامی بلاک کی تشکیل کی بنیاد بھی بن سکتا ہے‘ بلاشبہ یہ کریڈٹ حکمران پیپلز پارٹی کے حصے میں آئیگا جو اس وقت گھمبیر عوامی مسائل کے تناظر میں سخت آزمائش میں ہے۔ ہمیں یقین ہے اسکے بعد پاکستان ایران سے بجلی بھی حاصل کریگا۔