بھارتی ظلم و ستم کیخلاف کشمیریوں کا احتجاج

12 مارچ 2013

حریت رہنما یاسین ملک کی بھارتی ائرپورٹ پر تذلیل کے خلاف مقبوضہ کشمیر میں مظاہرے کئے گئے۔ جھڑپوں اور پُرتشدد مظاہروں کے دوران ایک ایس ایچ او سمیت بیسیوں افراد زخمی ہو گئے۔ پولیس نے 200 نوجوانوں کو گرفتار کر کے مقدمات درج کر لئے۔
یاسین ملک گزشتہ روز بھارتی ائر پورٹ پر اُترے تو شیوسینا اور بی جے پی کے کارکنوں نے ان پر حملہ کر دیا۔ پولیس سخت پہرے میں یاسین ملک کو وہاں سے نکالنے میں کامیاب ہوئی تھی۔ یاسین ملک گزشتہ دنوں اپنے سسرال پاکستان کے شہر راولپنڈی آئے ہوئے تھے۔ بھارتی انتہا پسندوں نے انہیں صرف اس بات پر زدوکوب کرنے کی کوشش کی کہ پاکستان میں وہ جماعة الدعوة کے امیر حافظ سعید سے ملے تھے۔ بھارتی بہت تنگ نظر اور تنگ دل ہیں انہیں ایسا کوئی آدمی یا رہنما نہیں بھاتا جو کشمیر کی آزادی کی بات کرے یا ایسے افراد سے ملے جو کشمیر کو آزادی دلوانا چاہتے ہیں۔ بھارتی ہوش کے ناخن لیں کشمیریوں پر ظلم و ستم کرنا چھوڑ دیں۔ 64 سال ہونے کو ہیں اب تحریک آزادی کشمیر نئی نسل کو منتقل ہو چکی ہے ، کشمیری نوجوان ظلم و ستم سے تنگ آ چکے ہیں اگر انہوں نے ہتھیار اٹھا لئے تو پھر انہیں بٹھانا مشکل ہو جائے گا لہٰذا بھارتی حکمران کشمیریوں کو بزور بازو دبانے کی کوشش مت کریں اور کشمیریوں پر اتنا ظلم مت کریں کہ کل کو خود برداشت نہ کر سکیں۔ بھارت حریت رہنماﺅں کی نظربندی ختم کر کے کشمیر میں جاری ظلم و ستم کو بند کرے۔