طالبان، امریکہ مذاکرات اور صدر کرزئی کی پریشانی

12 مارچ 2013

افغانستان میں فوج رکھنے کیلئے امریکہ اور طالبان ”گٹھ جوڑ“ کر رہے ہیں : کرزئی۔ دونوں افغان عوام کو یہ تاثر دینا چاہتے ہیں کہ آئندہ سال کے بعد بھی قیام امن کیلئے افغانستان میں غیر ملکی افواج کا قیام ضروری ہے۔ اس سلسلے میں قطر میں طالبان اور امریکہ میں مذاکرات ہو رہے ہیں۔
افغان صدر حامد کرزئی کا یہ انکشاف حیران کن ہے اور کوئی بھی اسے قبول کرنے پر مشکل سے تیار ہو گا کہ جو قوت یعنی طالبان گذشتہ 11 برسوں سے افغانستان میں امریکہ اور اسکے اتحادی افواج سے برسر پیکار ہے وہ کس طرح چاہے گی کہ اسکے مدمقابل عناصر افغانستان میں مزید قیام کریں، رہی بات طالبان اور امریکہ میں مذاکرات کی تو اس حوالے سے پہلے بھی اطلاعات ملی ہیں کہ عرب ممالک میں ان دونوں کے درمیان گفت و شنید چل رہی ہے۔ اب کرزئی صاحب نے بتایا ہے کہ ایک سال کے وقفے کے بعد یہ مذاکرات دوبارہ بحال ہو گئے ہیں جبکہ طالبان کے ترجمان نے اس کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے مذاکرات معطل ہیں۔ صدر کرزئی نے درست کہا کہ افغانستان میں بم دھماکے کرنیوالے امریکیوں کی مدد کر رہے ہیں کیونکہ ایسا کر کے وہ یہاں غیر ملکی افواج کے قیام کی مدت بڑھانا چاہتے ہیں۔ یادش بخیر خود حامد کرزئی صاحب نے بھی امریکہ اور اسکے اتحادیوں کے ساتھ افغانستان میں قیام کا 10 سالہ معاہدہ کیا ہے‘ اگر افغانستان میں قیام امن کیلئے خود جناب کرزئی صاحب اپنے دورِ حکومت میں مثبت پالیسیاں اختیار کرتے اور امن و امان کی حالت بہتر بنانے میں تمام برسر پیکار قوتوں کو اعتماد میں لیتے ان سے مذاکرات کرتے تو آج افغانستان کی یہ حالت نہیں ہوتی۔ افغانستان میں امن کیلئے طالبان جیسی اہم قوت سے مذاکرات تو بہر صورت کرنا ہی ہوں گے کیونکہ حامد کرزئی صاحب سے قبل انکی افغانستان پر حکومت تھی اور آج بھی وہ ایک بااثر مسلح قوت ہیں اور افغانستان کے بڑے حصے میں انکے حامی موجود ہیں۔