بنگلہ دیش میں محبت وطن پاکستانی زیر عتاب، پاکستان نوٹس لے

12 مارچ 2013

بنگلہ دیش میں جماعت اسلامی کے رہنما دلاور حسین کو سزائے موت کے فیصلے کیخلاف مظاہروں کا سلسلہ گذشتہ روز بھی جاری رہا جس میں فائرنگ کے تبادلے کے دوران ایک پولیس اہلکار ہلاک ہو گیا۔ بنگلہ دیش میں جماعت اسلامی کے رہنما¶ں کو سنائی جانے والی سخت سزا¶ں کے ردعمل میں مظاہروں کے دوران 8 پولیس والوں سمیت 85 افراد جاں بحق ہوئے ہیں۔
بنگلہ دیش کی سرزمین مجیب الرحمن کی بیٹی وزیراعظم حسینہ واجدنے پاکستان کا احترام سے نام لینے والوں کیلئے جہنم بنا دی ہے۔ خصوصی طور پر جماعت اسلامی کے ان رہنما¶ں کو موت جیسی سخت سزائیں سنائی جا رہی ہیں جنہوں نے 1971ءمیں پاکستان کا تحفظ کرنے کی کوشش کی۔ پاکستان میں رہتے ہوئے اسکی حفاظت ہر پاکستانی کی ذمہ داری تھی۔ بے وفائی تو ان لوگوں نے کی جو اس کو توڑنے میں حصہ دار بنے۔ ان لوگوں کی چونکہ بغاوت کامیاب ہو گئی اس لئے وہ ہیرو ٹھہرے اور محب وطن افراد پر عرصہ حیات تنگ کر دیا گیا۔ پاکستان کو ٹوٹے 42 سال ہو گئے۔ اس دوران بنگلہ دیش میں کئی حکومتیں آئیں متعدد بار حسینہ بھی وزیراعظم بنیں لیکن پاکستان سے محبت کرنے والوں کو اس طرح ڈھونڈھ کر سزائیں نہیں سنائی گئیں جس طرح شیخ مجیب کی پارٹی آج سنا رہی ہے۔ اس پر ہمارے حکمرانوں کی طرف سے سفارتکاری کو بروئے کارنہ لانا افسوسناک ہے۔ بنگلہ دیش میں زیر عتاب لوگ تو یقیناً عالمی برادری کو متوجہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں پاکستان کو یہ معاملہ عالمی فورموںپر اٹھانے کے ساتھ ساتھ بنگلہ دیشی حکومت سے اس پر دبا¶ ڈال کر پاکستان بچانے میں اپنا کردار ادا کرنے والوں کے تحفظ کی یقین دہانی حاصل کرنی چاہئے۔