واشنگٹن کنسنسس

12 مارچ 2013

عالمی معےشت غیر مربوط ہے۔ ترقی ےافتہ ممالک کی آبادی اےک ارب اور اس کی آمدنی عالمی مجموعی آمدنی کا اسی فےصدہے جبکہ ترقی پذےر ممالک کی آبادی پانچ ارب اور اسکی آمدنی عالمی مجموعی آمدنی کا بےس فےصد۔ امریکی معیشت زوال پذیر ہے اسکی کریڈٹ ریٹنگ کم ہو گئی ہے۔ یورپ کے سیاسی ، معاشی اور سماجی حالات بھی دگر گوں ہیں۔ مزید برآں واشنگٹن کنسنسس یعنی -Washington Consensus - کی حالیہ ناپائیداری کی وجہ سے اب ترقی پذےر ممالک کو اپنی ضرورےات پورا کرنے کےلئے اپنے ہی وسائل پر انحصار کرنا ہوگا‘ یعنی گلوبولائیزیشن نہیں گلوکولائیزیشن !
یہ امر پاکستان پر بھی لاگو ہوگا لیکن پاکستان کے پاس اتنے وسائل ہےں کہ ان پر انحصار کر کے اقتصادی سیاسی خود مختاری حاصل کی جا سکتی ہے۔ ورلڈ بےنک اور اےف بی آر کی اےک رےسرچ کیمطابق ملک کی 56 فےصد معےشت پر پورا ٹےکس ادا نہےں کےا جاتا۔ اگر صحےح ٹےکس ادا کےا جا تا توسال 2011-12 مےں تقریباً 2000 ارب روپے اضافی آمدنی ہو سکتی تھی جس سے کل آمدنی بڑھ کرتقریباً4000 ارب روپے ہوتی اور اس سال کے حدف 588,1ارب روپے کے مقابلے مےں بہت زےادہ ہوتی۔ اےف بی آر کے چےر مےن کا توکہنا ہے کہ ٹےکس نہ ادا کےا جانیوالی معےشت مجموعی آمدنی کا 79 فیصد ہے جس سے تقریباً 2000ارب روپے حاصل ہو سکتے ہےںاور مجموعی آمدنی تقریباً 8000 ارب روپے ہو سکتی ہے ! اگر ےہ رقم ہی وصول کر لی جائے تو پاکستان کو کسی امداد ےا قرضوں کی ضرورت نہےں جس کےلئے ہمےں اپنی سےاسی، سماجی اور اقتصادی خود مختاری کو داﺅ پر لگانا پڑتا ہے۔
 لمحہ فکر یہ بھی ہے کہ ہم ترقی ےافتہ ممالک کی تقلےد کرتے ہےں جو لبر لائےزیشن،ڈی رےگولےشن اور پرائےوٹاےز ےشن ےعنی گلو بولائزےشن کا دعویٰ تو کرتے ہےں لےکن خود اس پر عمل نہےں کرتے۔پاکستان کو اس گلو بولائزےشن کے نظرئےے سے بچنا چاہئے ۔ آئی اےم اےف کے سابق مےنےجنگ ڈائرےکٹر ڈومےنق اسٹراس کاہن بھی اسکی مذمت ان الفاظ مےں کرتے ہےں ” کہ گلوبولایزیشن کی وجہ سے اصل میں بے روز گاری، سماجی ناپائیداری اورسےاسی عدم استحکام پیدا ہوا ہے اور اس مہلک امتزاج سے معاشی توازن بری طرح متا ثر ہوا ہے“۔
ورلڈ بےنک کے سابق صدر وولفےنسن نے بھی مندرجہ بالا نظرئےے کی توثےق کی ہے۔ وولفےنسن کہتے ہےں ” گلوبولایزیشن کے عمل سے لوگوں کی امےدےں معدوم ہو گئےں۔ انکی ماےوسی،نا امےدی اور زوال کے مناظر تکلےف دہ ہےں۔ لہٰذا مقامی ملکےت اور مقامی شراکت کی ضرورت ہے۔“
گلوبولائزےشن کی تقلےد مےں پاکستان سراسر خسارے مےں رہا ہے۔ پاکستان کی صنعت کو کم پےداوار،بے روزگاری اور قلےل بچت جےسے مسائل کا سامنا رہا ۔ مثلاً ےہاں دس فےصد غرےب ترےن طبقہ قومی آمدنی کا صرف چار فےصد حاصل کر پا تا ہے جبکہ دس فےصد امےر ترےن طبقہ اسکا ستائےس فےصد ! پس ہمےں اپنی توجہ گلوبولائزےشن کی بجائے گلو کولائزےشن پر مرکوز کرنا چاہئے۔
 آجکل پاکستان اور بھارت کے درمےان تجارت کا بھی چرچاہے اس باہمی تجارت سے فائدہ اٹھانے کےلئے پاکستان کو دونوں ممالک کے ما بےن زرِ مبادلہ کے فرق کا خےال رکھنا پڑیگا۔ مثال کے طور پرپاکستان مےں اےک ڈالر 95 روپے کا ہے جبکہ انڈےا مےں 45روپے کا۔مزےد برآں انڈےن معےشت متوازن اور تحفظ ےافتہ ہے ےعنی جو اشےاءانڈےا مےں بنائی جاتی ہےں وہ محصولات ےا دوسری پابندےوں کے باعث انڈےا مےں در آمد نہےں کی جا سکتےں۔ انڈےا مےں سات موٹر سائیکل بنانے والے اور چند اےک کار بنانے والے ادارے ہےں جبکہ پاکستان مےں موٹر سائیکل بنانے والے 75 ادارے ہےں۔ مزید کی آمد آمد ہے ۔ کئی ا دارے استعمال شدہ کارےں درآمد کرتے ہےں جس سے سال بہ سال مقامی صنعت کو نقصان پہنچتا ہے۔ انڈےا کی پےداواری صلاحےتےں روز مرہ اشےاءسے بڑھ کر مشےنےں وغےرہ بنانے تک پہنچ چکی ہےں۔ ےہ ملک انجینئرنگ کےمےکل پلانٹس،حتٰی کہ اےٹمی پرزے اور دےگر پرزہ جات کی برآمد کرتا ہے بلکہ خود کار گاڑےاں بھی برآمد کرنے کے قابل ہو گےا ہے۔ مسئلہ کشمےر سے مبرا اگر تجارت پر غورکرنا ہے تو پاکستان کو تےار شدہ اشےاءکی بجائے انڈےا سے خام مال اور مشےنری درآمد کرنا چاہئے جو پاکستان مےں نہےں بنتی ۔ پاکستان سے برآمدات کو بھی یقینی بنانا چاہیئے۔
عالمی حالات کی بے ےقےنی اور پاکستان مےں ناقص امن و امان کی صورتحال سے قطع نظر غےر ملکی سرماےہ کار پاکستان مےں سرماےہ کاری کرنے سے گرےزاں ہےں ۔ کےونکہ ےہاں آئے دن پالےسےاں تبدےل ہوتی رہتی ہےں جن سے ان اشےاءکی درآمد کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے جو غےر ملکی سرماےہ کار پاکستان مےں پےدا کرسکتے ہےں۔ انڈےا اور ملائےشےا سمےت دےگر ممالک مےں اےسا نہےں ہوتا۔ انڈےا غےر ملکی سرماےہ کاری، اسکے فروغ، پےداوار اور برآمدات مےں اضافے کےلئے نہاےت پسندےدہ ملک ہے جبکہ پاکستان اسکے بر عکس ہے۔ ےہاں غےر منظم ،انڈر انواےئسڈ اور ٹےکس چوری شدہ اشےاءدر آمد کی جاتی ہےں وہ بھی زےادہ تر ایک دوست ملک سے ! اس کےلئے بھاری سماجی و اقتصادی قےمت چکانا پڑتی ہے۔ انڈےا اسطرح کی بے ضابطہ درآمدات سے، خواہ وہ کسی قےمت ےا کسی بھی ملک سے ہوں،مکمل طور پر بچا ہوا ہے ۔ دوسری طرف ملائےشےا نے تو -IFIS آئی اےف آےز کی امدا د ےا قرضے لےنے سے انکار کر دےا اور فائدے مےں رہا۔
پاکستان دنےا کا چھٹا بڑا ملک ہے جہاں 18 ارب کنزےومرز ہےں اور جی ڈی پی کے 5 فےصد جتنی خےرات دےتے ہےں۔ ےہ شرح دنےا مےں سب سے زےادہ ہے۔ جبکہ دوسری طرف ٹےکس کی ادائےگی مجموعی جی ڈی پی کے 8.6فےصد کے برابر ہے جو دنےا مےں کم ترےن ہے۔ اسکے اسباب وہی ہےں ےعنی 79فےصد آمدنی جس پر ےا تو ٹےکس دےا ہی نہےں جاتا ےا پھر مختلف اشکال مےں ٹےکس کی چھوٹ حاصل ہے۔ بےن الا قوامی تجارت پر ٹےکس کی راشن بندی کے حوالے سے اےک تازہ سروے مےں مشورہ دےا گےا ہے کہ محصولات مےں چھوٹ کو ختم کےا جائے،ٹےرف کوتمام سےکٹرز کےلئے جائز اور ےکساں بناےا جائے،ڈےوٹی فری درآمدات کو کم کر دےا جائے اور درآمدات پر زےرو رےٹنگ کو کم سے کم کر دےا جائے۔ اسی طور جی ڈی پی مےں بےن الا قوامی تجارت سے ٹےکس کا تنا سب بڑھے گا۔ مزےد برآں فری ٹرےڈ اےگرےمنٹس (اےف ٹی اےز) اور پرےفےرےشنل ٹرےڈاےگرےمنٹس(پی ٹی اےز) کا از سرِ نو جائزہ لےناہوگا تا کہ ان ممالک کیساتھ برآمدات اور زرِ مبادلہ کے فوائد کا کسٹم ڈےوٹی مےں چھوٹ وغےرہ سے موازنہ کےا جا سکے۔ ےہ بھی دےکھنا ہو گا کہ بےن الا قوامی تجارت کے حوالے سے درآمدات سے ٹےکس وصولی اور جی ڈی پی مےں ا سکا کےا تناسب ہے۔
چند شعبوں پر درآمدی محصولات کا بوجھ بہت زےادہ ہے ۔ ان شعبوں کی درآمدات کے حجم مےں ذرا سی تبدےلی محصولات کی آمدنی کو تہہ و بالا کر سکتی ہے۔ لہٰذا آمدنی مےں اضافے کےلئے ضروری ہے کہ محصولات مےں توازن ہو او ر ےہ تمام شعبوں پر لاگو کئے جائےں ۔مختلف شعبوں مےں محصولات مےں واضح فرق ہے۔ گاڑےوں پر بھاری ٹےکس سمجھ مےں آتا ہے۔ لیکن سال 2011-12 کےلئے منجملہ تقرےباً 200ارب روپے کی بھاری رقم کسٹم ڈےوٹی کی مد مےں چھوٹ پر مختص کی گئی ہے۔ چار سو اشےاءپر زےرو رےٹنگ کی وجہ سے کوئی آمدنی نہےں ہوتی۔ ےہ نقصان بھی چھوٹ کے علاوہ ہے۔ ماضی کا مطالعہ کےا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ قابلِ ڈےوٹی اشےاءکی درآمد ہمےشہ ڈےوٹی فری اشےاءکی درآمد کے مقابلے مےں زےادہ رہی ہے۔ لےکن گذشتہ چند سال سے صورتحال مختلف ہو گئی ہے۔ ڈےوٹی فری درآمدات (بشمول زےرو رےٹنگ کے) کا تناسب اب مجموعی درآمدات کے نصف سے بھی تجاوز کر گےا ہے۔ اسی لئے جی ڈی پی مےں ٹےکس کا تناسب نہاےت قلےل ہے۔عالمی معےار کے حوالے سے پاکستان مےں جی ڈی پی مےں ٹےکس کا تناسب نہاےت ہی قلےل ہے۔ پچھلی دو دہائےوں مےں خصوصاً محصولات مےں اصلاحات اور زےرو رےٹنگ سمےت ٹےکس کی چھوٹ کی وجہ سے نہ صرف درآمدی محصولات کی مد مےں کمی واقع ہوئی ہے بلکہ جی ڈی پی مےں اس کا تناسب بہت گر گےا ہے۔ لہٰذا محصولات مےں اضافے کی شدےد ضرورت ہے ۔ اس کےلئے ٹےکس کی بنےاد کو وسےع او ر ٹےکسوں مےں چھوٹ کو ختم کرناہو گا کےونکہ درآمدی اسٹےج پر اتنی چھوٹ سے آمدنی نہ ہونے کے برابر رہ جاتی ہے۔
 پاکستان کی معیشت پائیدار ہے۔ پاکستان کی آبادی 18 کروڑ ہے جو دنیا میں چھٹے نمبر پر ہے۔ پاکستان کی ٹےکسٹائل کی صنعت دنیا بھر میں پانچوےں نمبر پر ہے۔ دھاگے کی برآمد دنیا بھر میں چوتھے نمبر پر ہے۔ ملک مےں سونے کے ذخائر بھی پانچوےں نمبر پر ہےں۔ اسکے علاوہ ملک مےں کوئلے، چاندی اور دےگر معدنےات کا بےش بہا ذخےرہ ہے جسے ابھی تک استعمال نہےں کےا گےا ۔ پاکستان کی افرادی قوت بھی بہترےن ہے۔ مزدور بہترین مزدور ہے، مینیجر بہترین مینیجر ہے اور سرمایہ کار بھی کسی سے کم نہیں۔ لہٰذا بلا مبالغہ، سرماےہ کاری،پےداوار اور برآمدات،سماجی ا نفراسٹرکچر،بجلی کی پےداوار، انرجی، پانی اور ٹرانسپورٹ کے شعبوں اور مقامی معےشت مےں مقامی لوگوں کی رسائی یعنی گلوبولایزیشن سے نہیں گلوکولایزیشن سے ہی روزگار کے مواقع مہےا کئے جا سکتے ہےں تا کہ عوام سے روٹی کپڑا اور مکان کا کےا ہوا وعدہ پورا کےا جا سکے۔ خےرات وغیرہ ےا کسی اور طرےقے سے نہےں۔