”بنگلہ دیش میں خون خرابہ“

12 مارچ 2013

بنگلہ دیش کے War Crimes Tribunal نے گزشتہ ماہ 28فروری2013ءکو بنگلہ دیش کے مشہور عالم دین، مفسر قرآن علامہ دلاور حسین سعیدی صاحب کو سزائے موت سنا دی۔ یہ خبر الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا میں نشر ہوئی اور جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی اور دیکھتے ہی دیکھتے ان سے محبت کرنے والے عوام فیصلے کیخلاف احتجاج کرتے ہوئے سڑکوں پر نکل آئے۔ لوگوں کے ٹھاٹھیں مارتے سمندر نے بنگلہ دیش کا پہیہ جام کردیا۔ ٹرانسپورٹ کا تمام نظام درہم برہم ہوگیا اور ایک شہر کا دوسرے شہر سے رابطہ کٹ گیا۔ ٹرین سروس معطل ہوگئی اور شہر شہر گلی گلی میں احتجاج شروع ہوگیا۔ علامہ دلاور حسین سعیدی صرف جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رہنما ہی نہیں ہیں بلکہ وہ بنگلہ بولنے والے تمام مسلمانوں کے دل کی دھڑکن بھی ہیں۔ آپ مفسرِ قرآن بھی اور مدرسِ قرآن بھی ہیں۔ کروڑوں بنگالی مسلمانوں کیلئے وہ پیرومرشد کا درجہ رکھتے ہیں۔جب اس ہر دلعزیز شخصیت کو سزائے موت سنائی گئی تو لوگ حیران اور پریشاں ہوکر اپنے غم اور غصے کا اظہار کیلئے سڑکوں پر نکل آئے۔غم سے نڈھال ان پرستاروں کا پہلے سے تیار سیکیورٹی فورسز سے سامنا ہوا۔
حکومت نے سیکیورٹی فورسز کو پہلے سے ہی تیار کررکھا تھا۔ ہر شہر میں بارڈر سیکیورٹی فورسز کی اضافی نفری لگائی گئی تھی۔ سیکیورٹی ایجینسیز کے تمام افراد اور عوامی لیگ کے مسلح کارکن عوام کے ساتھ مقابلے کیلئے میدان میں آگئے اور انکی طرف سے براہ راست گولیاں چلائی گئیں،لاشیں گرتی گئیں اور خون بہتا گیا۔ ایک خوفناک اور ہولناک تصادم عوام اور پولیس کے مابین شروع ہوگیا۔ یہ ہنگامے اتنے شدید تھے کہ اس میں سینکڑوں کی تعداد میں گاڑیا ں جلا دی گئیں۔ ٹرینوں کو آگ لگا دی گئی اور ٹرین کی پٹریاں اکھاڑ دی گئیں۔ عوام اور سیکیورٹی فورسز کے درمیان یہ مقابلے رات10بجے تک جاری رہے اور ہنگاموں کے دوران پولیس کی گولیوں سے 70سے زائد مظاہرین شہید ہوئے جبکہ تقریباً 900لوگ گولیوں سے زخمی اور دیگر ہنگاموں میںتین ہزار کے قریب لوگ زخمی ہوئے۔ شہید اور زخمی ہونے والوں میں اکثریت کا تعلق جماعت اسلامی اورSHIBIR( جمعیت) سے تھا۔ پورے بنگلہ دیش میں تقریباً دس ہزار کے قریب لوگوں کو گرفتار کیا گیا۔ زخمیوں کو کسی بھی سرکاری اور غیر سرکاری ہسپتال میں علاج معالجے کی سہولت نہیں دی گئی۔پولیس انھیں ہسپتالوں سے ڈھونڈ ڈھونڈ کر گرفتار کرتی رہی اور رات گئے تک یہ سلسلہ جاری رہا۔
یکم مارچ2013ءجمعتہ المبارک کا دن تھا۔ بنگلہ دیش میں خوف کا منظر طاری تھا۔ ہر طرف موت رقص کرتی نظر آرہی تھی۔ ایک طرف شہید ہونے والوں کے جنازے اُٹھ رہے تھے تو دوسری طرف گولیوں اور تشدد سے زخمی ہونیوالے لوگوں کی آہیں اور سسکیاںتھیں۔ گرفتار ہونیوالوں پر سیکیورٹی ایجنسیز نے ظلم و بربریت کی انتہا کردی تھی۔بنگلہ دیش کے عوام جماعت اسلامی اورSHIBIR (جمعیت) کی کال پر چار دن تک سڑکوں پر رہے۔ انہوں نے حکومت کیخلاف بھرپور مظاہرے کئے اور علامہ سعیدی اور دیگر رہنماﺅں کی رہائی کا مطالبہ کیا۔ بنگلہ دیش بھر پہیہ جام ہڑتال رہی۔ٹرینوں کی آمدورفت بھی بند تھی۔ انٹر ڈسٹرکٹ بسوں کی آمدورفت بھی معطل رہی۔ دارالحکومت ڈھاکہ دیگر شہروں سے کٹا ہواتھا۔ دارالحکومت ڈھاکہ سمیت تمام بڑے شہروں میں خوف کا عالم طاری تھا۔سیکیورٹی ایجینسیز کی گاڑیاں سڑکوںپر موجود تھیں اور ایمبولینس شہید اور زخمی ہونیوالے افراد کو اُٹھا رہی تھیں۔ گولیوں کی تڑتڑاہٹ اور ایمبولینس کے سائرن کی آوازیں اور نعرہ تکبیر کی صدائیں بلند تھیں۔سیکیورٹی فورسز لوگوں پر اندھا دھند گولیاں چلاتے گئے اور لوگ شہید ہوتے گئے لیکن پولیس احتجاج ختم کرانے میں ناکام رہی اوراس طرح یہ چار دن بنگلہ دیش پوری دنیا سے کٹا رہا۔ بنگلہ دیش کی واحدبڑی بندرگاہ چٹا گانگ تک بند رہی۔ اشیائے خوردونوش کی قیمتیں آسمان سے باتیں کرتی رہیں۔ ان چار دنوںکی بربریت میں 150 سے زائد افراد شہید، ہزاروں کی تعداد میں زخمی اور ہزاروں لوگوں پر مقدمات درج کئے گئے۔بنگلہ دیش کی حکومت اور سیکیورٹی ایجینسیز نے عوام پر کئے جانیوالے اس ظلم کو بنگلہ دیش کے اکثر اخبارات نے بھی بھرپور طریقے سے شائع کیا۔
علامہ سعیدی اور دیگر رہنماﺅں کا قصور یہ تھا کہ انہوں نے پاکستان کا ساتھ دیا۔ پاکستان کو علیحدگی سے بچانے کیلئے جدوجہد کی۔ یہ تمام لوگ پاکستان کے محسن تھے۔ دیکھنے اور سوچنے کی بات یہ ہے کہ ہمارا دشمن پاکستان کے اندر اور باہر ہمارے ساتھ کیا کررہا ہے۔ اب بھی وقت ہے کہ اپنے آپکو سنبھالنے کی فکر کریں اورپاکستان کے سیکیورٹی چیلنجز کا ازسر نو جائزہ لیں۔ ہمارے دشمن ہمیں اندر اور باہر سے ختم کرنے کی کوشش کررہا ہے۔ بلوچستان میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ بھی آپکے سامنے ہے۔جنوبی ایشائی ممالک نیپال ،بھوٹان اور سری لنکا میں مداخلت اور حکمت عملی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے۔ مشرقی پاکستان کو بنگلہ دیش بنانے والے بھارت کے صدر جناب پرناب مکھرجی نے 4 مارچ 2013ءکو ڈھاکہ میں بنگلہ دیش حکومت سے 1971ءکی جنگ میں اپنی خدمات کے عوض تمغہ وصول کیا ہے اور ہم انڈیا کو پسندیدہ ملک بنانے چلے ہیں۔ ذرا سوچئے!