کوئی اقبال سے کہہ دے کہ شاہین مر گیا تیرا

12 مارچ 2013

مکرمی! ہمارے سیاستدان کراچی ٹارگٹ کلنگ اور بادامی باغ جیسے افسوسناک واقعات پر اپنی سیاست چمکا رہے ہیں بجائے اس کے کہ اس کا مل کر کوئی حل نکالا جائے۔ اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ ان کے سامنے غریب آدمی کی زندگی کوئی معنی نہیں رکھتی۔ حقیقت میں دیکھا جائے تو یہ لوگوں کی زکوٰة سے پلتے ہیں۔ نوجوان نسل سے کچھ لوگوں کی امیدیں وابستہ ہیں خدا کرے یہ امیدیں پوری ہو جائیں لیکن حقیقت کچھ یوں ہے:اسیر زلف و رخسار و لب جاناں ہوا مسلمکوئی اقبال سے کہہ دے کہ شاہین مر گیا تیراان اندھیروں کو بُرا کہنے سے کچھ نہیں ہو گا اور ہم سب کو اپنے حصے کا چراغ خود جلانا ہو گا اور ہم سب کو اس دفعہ سوچ سمجھ کر ووٹ دینا ہو گا اور ایک نیا پاکستان بنانا ہو گا۔(رائے ارشد کھرل، وہاڑی۔ rai.arshad54@gmail.com)