الیکشن کمشن نے صدر کی منظوری کے بغیر نئے کاغذات نامزدگی کی چھپائی کا حکم دیدیا‘ صدر کی اجازت رسمی ہوتی ہے: آئینی ماہرین‘ ضروری ہے: فاروق نائیک

12 مارچ 2013
الیکشن کمشن نے صدر کی منظوری کے بغیر نئے کاغذات نامزدگی کی چھپائی کا حکم دیدیا‘ صدر کی اجازت رسمی ہوتی ہے: آئینی ماہرین‘ ضروری ہے: فاروق نائیک

اسلام آباد (جاوید صدیق) حکومت کی طرف سے الیکشن کمشن کی امیدواروں کے کاغذات نامزدگی ترامیم پر حکومتی اعتراضات کو الیکشن کمشن نے مسترد کر کے صدر سے منظوری کے بغیر نئے کاغذات نامزدگی کی پرنٹنگ کا حکم دیا ہے ۔ الیکشن کمشن کے اس فیصلے سے حکومت اور الیکشن کمشن کے درمیان انتخابات سے قبل ہی کشمکش کا آغاز ہو گیا ہے ۔ حکومت کو گذشتہ روز تک کی مہلت دی گئی تھی کہ وہ کمشن کی طرف سے کاغذات نامزدگی میں ترامیم کے بارے میں فیصلہ کرے۔ وزارت قانون نے الیکشن کمشن کی ترامیم پر اعتراضات کی سمری صدر کو فیصلے کے لئے بھیج دی لیکن صدر پاکستان ایران گیس پائپ لائن منصوبے کے افتتاح کے لئے ایران چلے گئے۔ کمشن نے فیصلہ کیا ہے کہ حکومت کے جواب کا مزید انتظار نہ کیا جائے۔کمشن نے جو کاغذات نامزدگی تجویز کئے ہیں ان کی پرنٹنگ شروع کردی جائے گزشتہ روز سہ پہر چار بجے کمشن کے اجلاس کے بعد جب کمشن کی ترامیم والے کاغذات نامزدگی کی پرنٹنگ کی منظوری دی گئی تو اس کے فوراً بعد کمشن کے فیصلے کا فیکس چاروں صوبائی الیکشن کمشنروں کو بھیج دیا گیا اور فیصلہ کیا گیا کہ میڈیا کو کمشن کے فیصلے سے آگاہ کردیا جائے۔ عام انتخابات کے انعقاد میں صرف چند ہفتے باقی ہیں حکومت اور الیکشن کمشن کے درمیان کاغذات نامزدگی پر آویزش شروع ہوگئی ہے گزشتہ شام سیکرٹری الیکشن کمشن سے جب نوائے وقت نے استفسار کیا کہ کاغذات نامزدگی کے بارے میں کیا فیصلہ ہوا تو سیکرٹری الیکشن کمشن نے کہا کہ رات بارہ بجے تک حکومت کے جواب کا انتظارکیا جائے گا جب سیکرٹری الیکشن کمشن یہ کہہ رہے تھے تو اس وقت کمشن کا فیصلہ آچکا تھا کہ فوری طور پر کمشن کے مجوزہ کاغذات نامزدگی کی طباعت شروع کردی جائے، کمشن کے ارکان کا خیال تھا کہ ہم نے مزید انتظار کیا تو اس سے الیکشن کمشن کے اختیارات اور اعتماد کے مجروح ہونے کا احتمال ہے ۔ کمشن نے نئے کاغذات نامزدگی میں تجاویز دی ہیں۔ ان کے تحت امیدوار کو پچھلے پانچ سال کا ٹیکس ریکارڈ‘ بیرون ملک اس کی سفری تفصیلات‘ اس کے خلاف نیب یا دوسری عدالتوں میں چلنے والے مقدمات کی تفصیلات بھی فراہم کرنا ہوں گی۔ حکومت کا کہنا ہے کہ یہ غیر ضروری ترامیم ہیں۔ گزشتہ روز پاکستان پیپلز پارٹی کے ایک رکن نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر نوائے وقت کو بتایا کہ اگر حکومت اور الیکشن کمشن میں اس معاملے پر تصادم کی شکل پیدا ہوئی تو پیپلز پارٹی انتخابات کا بائیکاٹ کرنے پر غور کر سکتی ہے ۔ گزشتہ شام قومی اسمبلی کی لابی میں سیکرٹری الیکشن کمشن نے نوائے وقت سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ جو لوگ یہ لکھ رہے ہیں کہ چیف الیکشن کمشنر ناتواں ہیں اور ان کے کندھوں پر بھاری ذمہ داری ڈال دی گئی ہے وہ غلط فہمی میں ہیں۔ چیف الیکشن کمشنر اندر سے انتہائی مضبوط شخص ہیں وہ اپنے ناقدین کو اپنی توانائی سے حیران کر دیں گے۔ سیکرٹری الیکشن کمشن نے کہا کہ بہت سے لوگوں کی خواہش کے برعکس نہ تو چیف الیکشن کمشنر کہیں جائیں گے اور نہ ہی کمشن کا کوئی دوسرا رکن۔ دریں اثناءالیکشن کمشن کے جاری بیان کے مطابق الیکشن کمشن نے آئندہ عام انتخابات کے مجوزہ نامزدگی فارمز کی چھپائی کیلئے پرنٹنگ کارپوریشن کو ہدایات جاری کر دی ہیں۔ بیان کے مطابق الیکشن کمشن نے مجوزہ نامزدگی فارمز کو منظوری کیلئے صدر کو بھیجا تھا تاہم پیر کو ان فارمز کی چھپائی کا کام شروع ہونا تھا اور تاحال اس ضمن میں منظوری نہ ہونے پر یہ اقدام کیا گیا۔ الیکشن کمشن کے مطابق تاخیر سے بچنے کیلئے ان فارمز کی چھپائی کیلئے ہدایات جاری کی گئی ہیں۔ بیان کے مطابق مجوزہ فارمز کی چھپائی کیلئے صدارتی منظوری عوامی نمائندگی قانون کے سیکشن 107 کے تحت محض رسمی کارروائی ہوتی ہے البتہ آئین کے آرٹیکل 218 کے تحت ملک میں شفاف، آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کا انعقاد الیکشن کمشن کا مینڈیٹ ہے ، ورکرز پارٹی کے مقدمہ کے فیصلہ میں سپریم کورٹ نے الیکشن کمشن کو آئینی ذمہ داریوں کی آزادانہ اور خودمختارانہ انداز میں انجام دہی اور ہدایات جاری کرنے کا اختیار دیا ہے ۔ بیان میں واضح کیا گیا ہے کہ الیکشن کمشن اپنے آئینی مینڈیٹ کی بجا آوری میں مکمل طور پر خودمختار اور آزاد ہے ۔ ان تمام قانونی تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے الیکشن کمشن نے منظوری کا انتظار کئے بغیر نامزدگی فارمز کی چھپائی کے سلسلہ میں ہدایات جاری کی ہیں۔ بیان کے مطابق 20 فروری کو منظوری کیلئے رجوع کیا تھا۔7 مارچ کو وزیر قانون کے ساتھ ملاقات ہوئی تھی، جس میں وزیر قانون نے نامزدگی فارم پر متعدد اعتراضات سے آگاہ کیا تھا۔ جس پر وزیر قانون کو تحریری طور پر جواب دینے کیلئے کہا تھا تاکہ ان پر غور کیا جا سکے۔ وزارت قانون نے 8 مارچ کو تحریری اعتراضات ارسال کئے اور اسی تاریخ کو الیکشن کمشن کی طرف سے جواب بھیجا گیا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ الیکشن کمشن وزارت کے اعتراضات سے متفق نہیں۔ وزارت قانون سے درخواست کی گئی تھی کہ وہ فارمز کی 11 مارچ تک منظوری کیلئے اسے صدر کو بھجوائے۔ ڈائریکٹر جنرل الیکشن کمشن شیرافگن نے نجی ٹی وی سے انٹرویو میں کہا ہے کہ صدر آصف علی زرداری کی طرف سے مجوزہ ترمیم شدہ فارم پر رسپانس نہ آنے پر مجوزہ ترمیم والا فارم استعمال کرنے کا فیصلہ کیا۔ صدر کی طرف سے ترامیم کے مسترد کئے جانے کے امکان کے بارے میں انہوں نے کہا کہ تاریخی طور پر سابقہ الیکشن کمشنر کی طرف سے تجویز کی گئی ترامیم کبھی مسترد نہیں ہوئیں۔ جب بھی نارمل پراسیس میں ریفرنس الیکشن کمشن کی طرف سے جاتا ہے صدر اُسے منظور کر لیتے ہیں۔ ہم توقع کر رہے ہیں کہ جب ہمارا ریفرنس صدر کے سامنے جائے گا تو وہ اسے قبول کر لیں گے۔ الیکشن کمشن کے رکن جسٹس (ر) کیانی نے کہا کہ اب وہی کاغذات نامزدگی چھپیں گے جس کی الیکشن کمشن نے منظوری دی ہے ۔ ایڈیشنل سیکرٹری جنرل الیکشن کمشن افضل خاں نے کہا ہے کہ ترمیم شدہ کاغذات نامزدگی کی منظوری ملنے پر ان کی چھپائی کا کام شروع کر دیں گے۔ الیکشن کمشن کو حاصل اختیارات کافی ہیں ان کو استعمال میں لانے کی ضرورت ہے ۔ میڈیا سنسنی پھیلانے کی بجائے ذمہ دارانہ رپورٹنگ کرے۔ انتخابات میں حصہ لینے والے امیدواروں کو سخت چانچ پڑتال کے عمل سے گزرنا پڑے گا۔ پیر کو الیکشن کمشن میں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ الیکشن کمشن کی مضبوطی تمام جمہوری قوتوں کے حق میں ہے ، مضبوط الیکشن کمشن کی وجہ سے جمہوریت کے ثمرات عوام تک پہنچ سکتے ہیں۔ وزیر قانون فاروق نائیک نے کہا ہے کہ کاغذات نامزدگی پر الیکشن کمشن کی ترامیم اور ہمارے اعتراضات صدر کو بھیج دئیے گئے۔ کاغذات نامزدگی میں ترامیم کا اختیار صدر کے پاس ہے ۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ آرٹیکل 107کے تحت صدر کی منظوری ضروری ہے ۔ آئین کے مطابق 60دن میں الیکشن ہونے چاہئیں۔ الیکشن پروسس میں تاخیر ہوئی ہے تو 90دن میں ہو جائیں گے۔ سپریم کورٹ کی ہدایت پر انتخابی اخراجات کیلئے الیکشن کمشن کا اکاﺅنٹ کھولا، ہمارے اعتراضات حرف آخر نہیں فیصلہ صدر زرداری کریں گے۔ الیکشن کمشن کا کام الیکشن شیڈول دینا ہے ۔ الیکشن کمشن نے آئندہ انتخابات کیلئے ہمیں مجوزہ شیڈول دیا ہے ، انتخابات کی تاریخ کا اعلان صدر کی صوابدید پر ہے ، انتخابات کیلئے بی اے کی ڈگری ضروری نہیں۔ قومی اسمبلی کی تحلیل کے باوجود وزیراعظم کا نام فائنل نہ ہوا تو آرٹیکل 224اے کے تحت کارروائی ہو گی جس کے تحت وزیراعظم اور اپوزیشن لیڈر دو، دو نام تجویز کریں گے جب تک نئے وزیراعظم کی تعیناتی نہیں ہو گی راجہ پرویز اشرف وزیراعظم ہوں گے۔ قومی اسمبلی کی تحلیل کے بعد وفاقی کابینہ ختم ہو جائے گی۔ کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال آرٹیکل 62اور 63 کے مطابق ہونی چاہئے۔ اُمید کرتا ہوں جلد ازجلد بلوچستان سے گورنر راج ختم کر دیا جائے گا کیونکہ گورنر راج کا خاتمہ ضروری ہے ۔ دی نیشن نے ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ آئندہ دنوں میں ایک لاکھ کاغذات نامزدگی چھاپے جائینگے۔ قانونی و آئینی ماہرین نے کہا ہے کہ الیکشن کمشن کو اختیار حاصل ہے کہ وہ صدر یا حکومتی عہدے دار کو کوئی کام کرنے کا حکم دے سکتا ہے اور انکار کرنے والوں کے خلاف آئین کے تحت ایکشن بھی لے سکتا ہے ۔ جسٹس ریٹائرڈ وجیہہ الدین کے مطابق الیکشن کمشن کو آئینی اختیار حاصل ہے کہ وہ صاف و شفاف انتخابات کے انعقاد کیلئے کسی بھی فرد کو مدد کیلئے ہدایت یا حکم دے سکتا ہے ۔ مدد سے انکار کرنے والوں کے خلاف آئین کے تحت ایکشن بھی لے سکتا ہے ۔ الیکشن کمشن کے موجودہ 2اراکین کا بھی ماننا ہے کہ موجودہ قوانین اور کاغذات نامزدگی کے تحت آزاد اور منصفانہ انتخابات نہیں ہو سکتے تاہم موجودہ حکومت ترامیم کی راہ میں رکاوٹ ہے ۔ ماہرین کی رائے میں الیکشن کمشن انتخابات کے بروقت، آزاد اور منصفانہ انعقاد کیلئے سپریم کورٹ سے بھی رجوع کر سکتا ہے ۔
اسلام آباد (آئی این پی) قومی اسمبلی کی قانون و انصاف وپارلیمانی امورکی قائمہ کمیٹیوں نے انتخابی اصلاحات بل متفقہ طور پر منظور کرلیا اور سفارش کی ہے کہ اس بل کو پارلیمنٹ جلد منظور کرے، قائمہ کمیٹیوں نے تجویز دی ہے کہ انتخابی عمل کے دوران دخل اندازی کرنے والوں کیلئے پچاس ہزار روپے جرمانہ اور چھ ماہ کی سزا ہونی چاہےے امیدواروں اور سیاسی جماعتوں کو پابند کیا گیا ہے کہ پولنگ سٹیشن کی حدود سے چار سو گز کے اندر وہ پارٹی کے جھنڈے نہیں لگا سکتے کوئی بھی امیدوار الیکشن کمیشن کی جانب سے کئے گئے سائز سے بڑے ہولڈنگز ‘ بینرز‘ پوسٹرز اور پمفلٹ تقسیم نہیںکر سکتا۔ قائمہ کمیٹیوں کا مشترکہ اجلاس ممتاز علی گیلانی اور بیگم نسیم اختر چودھری کی زیر صدارت ہوا اور انتخابی اصلاحات سے متعلق ایس اے اقبال قادری کی سربراہی میں قائم ذیلی کمیٹی کی سفارشات کی حتمی طور پر منظوری د ی گئی۔ سیکرٹری الیکشن کمیشن اشتیاق احمد خان نے کمیٹی کو بتایا کہ انتخابی عمل کے دوران امن و امان کی صورت حال کو یقینی بنانے کیلئے الیکشن کمشن نے پریذائیڈنگ افسروں کو اختیارات تفویض کئے ہیں اور پریذائیڈنگ افسر کی زیر نگرانی عملہ ہوگا کسی بھی ایمرجنسی کی صورت میں امن و امان کو یقینی بنانے کیلئے استعمال کیا جاسکے گا 80 ہزار افراد کی تربیت کی جارہی ہے ارکان اسمبلی کی جانب سے امیدواروں کی سلامتی کو یقینی بنانے کیلئے انہیں الیکشن کے روز مسلح گارڈز کے ساتھ گھومنے کی اجازت دینے کے حوالے سے سیکرٹری الیکشن کمشن نے کہاکہ اس حوالے سے ہر امیدوار کو پانچ مسلح گارڈز ساتھ لے کر گھومنے کی اجازت دینے کے حوالے سے فیصلہ کیا گیا تھا تاہم اس حوالے سے ارکان کی کوئی تجویز ہے تو وہ پیش کریں ممتاز عالم گیلانی نے پوچھا کہ اگر کسی امیدوار کا مخالف امیدوار اس کے حق میں الیکشن کمشن کی جانب سے تجویز کردہ پوسٹر یا بینر آویزاں کرا دیتا ہے تو اس کا فیصلہ کیسے کیا جائے گا جس پر سیکرٹری الیکشن کمیشن کے پاس اس کا کوئی جواب نہیں تھا تاہم ان کا کہنا تھا کہ انتخابی قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی کے جائزہ کیلئے مانیٹرز کی ٹیمیں بنائی جائیں گی جو روزانہ کی بنیاد پر رپورٹ کریں گی۔ بعد ازاں صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے سیکرٹری الیکشن کمشن اشتیاق احمد خان نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے اپنی طرف سے تجویز کردہ کاغذات نامزدگی کا فارم قانون و انصاف کے تحفظات کے ساتھ صدر کو منظوری کیلئے بھیجے تھے مقررہ وقت میں صدر کی جانب سے اس کی منظوری نہ ملنے پر الیکشن کمشن اپنی طرف تجویز کردہ کاغذات نامزدگی کے فارموں کی چھپوائی شروع کردے گا۔