سکے اور 100 روپے کرنسی نوٹ کی عدم دستیابی

12 مارچ 2013

مکرمی! سکوں اور 100 روپے کرنسی نوٹ کی عدم دستیابی نے تاجروں کے کاروبار کو بری طرح سے متاثر کر رکھا ہے۔ کاروبار میں گاہک کی تسلی اور اطمینان اولین شرط ہے مگر بدقسمتی یہ ہے کہ گاہک جب اپنی تسلی اور اطمینان کے مطابق اشیاءپسند کر کے کیش کاﺅنٹر پر پیسوں کی ادائیگی کرتا ہے اور کیشیئر بقایا جات یعنی سکوں یا کرنسی نوٹ کی عدم دستیابی کی صورت میں ٹافیاں یا بسکٹس تھما دیتا ہے یا معذرت کرتا ہے تو گاہک اس عمل کو برے طریقے سے محسوس کرتے ہوئے اپنی توہین سمجھتا ہے۔ جس کی وجہ سے غیر ضروری بحث مباحثہ شروع ہو جاتا ہے۔ان واقعات میں ہر روز اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے اور دکانداری متاثر ہو رہی ہے۔ اسٹیٹ بنک کے پاس سکے اور 100 روپے کرنسی نوٹ لینے جائیں تو وہاں ملازمین کی طرف سے منفی جواب ملتا ہے اور اگر اتفاق سے ہوں تو ضرورت سے کہیں کم (یعنی 100 روپے کے سکے ) مہیا کئے جاتے ہیں اور لمبی قطاروں میں لگنا پڑتا ہے۔گورن سٹیٹ بنک اس کا سد باب فرمائیں ۔ (وحید الدین علامہ اقبال ٹاﺅن لاہور)

مری بکل دے وچ چور ....

فاضل چیف جسٹس کے گذشتہ روز کے ریمارکس معنی خیز ہیں۔ کیا توہین عدالت کا مرتکب ...