ایل این جی درآمد کیخلاف حکم امتناعی 46 ملین ڈالر کا معاملہ ہے سب کچھ جلد کیوں ہو رہا ہے: جسٹس افتخار

12 مارچ 2013

اسلام آباد(نمائندہ نوائے وقت)سپریم کورٹ نے حکومت کو ایل این جی کی درآمد کا ٹھیکہ دینے کیخلاف حکم امتناع جاری کرتے ہوئے حکومت کو کسی بھی کمپنی کو ٹھیکہ دینے سے روک دیا ہے ۔عدالت نے آئندہ سماعت پر سوئی سدرن بورڈ اور ای سی سی کے فیصلوں کا ریکارڈ طلب کرلےا ہے ، وزارت پیٹرولیم اور سوئی سدرن گیس کمپنی کی جانب سے بھی عدالتی فیصلہ آنے تک کوئی کنٹریکٹ نہ دینے کی یقین دہانی پر عدالت نے مقدمہ کی سماعت 18 مارچ تک ملتوی کردی۔ چیف جسٹس نے کہاکہ ای سی سی کی جانب سے منظوری نہ دینا قابل تعریف ہے یہ 46 ملین ڈالر کی قومی دولت کا معاملہ ہے جس میں شفافیت ہر حالت میں ہونی چاہیے سب کچھ جلد جلد کیوں کیا جا رہا ہے ؟ عجلت کا مظاہرہ شکوک پیدا کرتا ہے ۔ انہوں نے پیٹرولیم اور گیس کمپنی کے وکلا سے کہاکہ حکومت اپنے پانچ سال پورے کرنے والی ہے اس کے جانے میں چند روز گئے ہیں اس مرحلے پر آپ اسے مشکل میں نہ ڈالیں،کچھ اچھا نام اور کام بھی لیکر جانے دیں پہلے بھی عدالت نے بڑی مشکل سے معاملے میں ہونے والی کرپشن کو روکا۔ وزارت پیٹرولیم کے وکیل سلیمان اکرم راجہ نے عدالت کو بتایا کہ تاحال کوئی کنٹریکٹ نہیں دیا گیا ،ای سی سی نے معاملہ کابینہ میں لے جانے کا کہا تھا، ابھی معاملہ زیر غور ہے اس حوالے سے میڈیا میں آنے والی رپورٹس درست نہیں ہیں۔ انور منصور نے عدالت کے استفسار پر بتایا کہ تین کمپنیوں ایل این جی ٹرمینل پاکستان، پاکستان گیس پورٹ اور گلوبل انرجی نے بڈنگ کیلئے کوالیفائی کیا ہے مگر ابھی تک سوئی سدرن کے بورڈ کی منظوری نہیں آئی ۔عدالت کو بتایا گیا کہ گیس پورٹ اقبال زیڈ احمد کی ہے ۔ عدالت نے پوچھا کہ کیا یہ کمپنیاں ہیںتو انور منصور نے بتایا کہ یہ کنسورشیم ہیں۔ جسٹس گلزار احمد نے کہاکہ کنسورشیم یقیناً اسی کنٹریکٹ کیلئے بنائے گئے ہوں گے ان کے تو کبھی نام ہی نہیں سنے، ان کا اس فیلڈ میں تجربہ کیا ہوگا تو سوئی سدرن کے وکیل نے اس بات کو تسلیم کیا کہ کنسورشیم اسی کنٹریکٹ کیلئے بنائے گئے ہیں۔ سیکرٹری خزانہ نے عدالت کے استفسار پر بتایا کہ وزارت خزانہ نے شرائط رکھی تھیں کہ شفافیت ہو اور سوئی سدرن بورڈ کی کلیئرنس کے بغیر کنٹریکٹ کی منظوری نہ دی جائے ۔ عدالت کے استفسار پر بتایا گیا کہ طریقہ کار کے مطابق کابینہ کی جانب سے منظوری دیئے جانے کے بعد سوئی سدرن کا بورڈ کنٹریکٹ ایوارڈکرے گا۔