واقعہ بادامی باغ پر پنجاب حکومت کی رپورٹ مسترد‘ قائم مقام آئی جی‘ سی سی پی او اور ایس پی کیخلاف کارروائی کی جائے: سپریم کورٹ

12 مارچ 2013

اسلام آباد (نمائندہ نوائے وقت + دی نیشن رپورٹ + اے پی پی + ثناءنیوز + این این آئی) بادامی باغ کے واقعہ کے کیس پر ازخود نوٹس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس افتخار محمد چودھری نے کہا ہے کہ یہ سب کچھ پولیس کی مبینہ ملی بھگت سے ہوا۔ واقعہ پر کسی نے سیاسی نمبرز گیم کی۔ پنجاب کے لوگ پنجاب پولیس کے ہاتھوں محفوظ نہیں، پنجاب حکومت کی بنائی گئی سٹوری کا کوئی سر پیر نہیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ واقعہ پنجاب حکومت کی ناک کے نیچے ہوا، پولیس ملزموں کو ڈھونڈنے کیلئے کیا رائیونڈ جائیگی؟ سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ بادی النظر میں بادامی باغ کے واقعہ میں قائم مقام آئی جی، سی سی پی او اور ایس پی لوگوں کو تحفظ فراہم کرنے میں ناکام رہے۔ عدالت نے قرار دیا کہ قائم مقام آئی جی عدالتی سوالات کا تسلی بخش جواب دینے میں ناکام رہے ۔ پولیس جوزف کالونی کے رہائشیوں کی عزت اور جائیداد کی نگرانی نہیں کر سکی۔ عدالت نے قائم مقام آئی جی ، سی سی پی او لاہور اور ایس پی کو واقعہ کا ذمہ دار قرار دیا۔ سپریم کورٹ نے ایڈووکیٹ جنرل کوہدایت کی کہ اس کیس میں وہ اپنے ریمارکس دیں تاکہ سپریم کورٹ قائم مقامق آئی جی سمیت تمام افسروں کیخلاف کارروائی کا حکم دے۔ عدالت نے کہا اگر پولیس پہلے اقدامات کرتی تو واقعہ روکا جا سکتا تھا ۔ لوہا مارکیٹ کی یونین کے انتخابات کا واقعہ سے تعلق جوڑنا غلط ہے۔ ثناءنیوز کے مطابق عدالت نے قائم مقام آئی جی، سی سی پی او اور ایس پی ملتان خان کیخلاف کارروائی کا حکم دیا اور آئندہ سماعت پر کارروائی کی رپورٹ بھی طلب کی ہے۔ عدالت نے سی سی پی او، ایس پی ملتان خان کو نوٹس جاری کر دئیے ہیں۔ عدالت نے قرار دیا کہ اسے واقعہ سے متعلق مختلف کہانیاں سنائی گئیں عدالتی حکم میں کہا گیا کہ گوجرہ واقعہ کے ذمہ داروں کے خلاف کیوں کارروائی نہیں کی گئی کسی کو قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ رہائشیوں کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی کی گئی۔ ملزم کی گرفتاری کے بعد کسی کو غیر قانونی سرگرمیوں کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ مشتعل افراد نے قانون ہاتھ میں لیا۔ پولیس بروقت کارروائی کرتی تو کوئی قانون ہاتھ میں نہ لیتا۔ چیف جسٹس کی سربراہی میں جسٹس شیخ عظمت سعید اور جسٹس گلزار احمد پر مشتمل تین رکنی بنچ نے سانحہ بادامی باغ ازخود نوٹس کیس کی سماعت کی۔ عدالت نے پنجاب حکومت کی جانب سے واقعہ بادامی باغ کی عبوری رپورٹ کو مسترد کرتے ہوئے قرار دیا کہ رپورٹ میں واقعہ کی وجوہات کا ذکر نہیں کیا گیا۔ عدالت نے کہا کہ واقعہ کے بارے میں کوئی ٹھوس کہانی نہیں بتائی گئی۔ چیف جسٹس نے کہا کہ قائم مقام آئی جی پنجاب کی جانب سے جمع کرائی رپورٹ بھی نامکمل ہے، اس میں ٹھوس وجوہات کا ذکر نہیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ہمارے لئے حضرت محمد کی حرمت سے بڑھ کر کوئی چیز نہیں لیکن 38 گھنٹے بعد درج کی گئی ایف آئی آر کا متن کچھ اور ہی بیان کر رہا ہے۔ کیونکہ گواہوں نے جو بیانات دیئے ہیں وہ فجر کے وقت وہاں پر موجود تھے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ وہ فجر کے وقت وہاں کیا کر رہے تھے ان کا وہاں پر کوئی مقصد نہیں تھا اگر اس واقعہ کی معلومات پہلے سے تھیں تو اس کے حوالہ سے پولیس نے حفاظتی انتظامات کیوں نہیں کئے۔ بستی پہلے خالی کرائی گئی اس کے باوجود کوئی واضح اقدامات نہیں کئے گئے جس سے متاثرین کے جان و مال کو تحفظ فراہم کیا جا سکتا۔ متاثرین کے پورے گھر جلا دیئے گئے۔ تقریباً 20 کنال اراضی پر گھر موجود ہیں۔ عدالت نے آئی جی پنجاب خان بیگ سے اراضی کی مالیت دریافت کی تو انہوں نے کوئی اندازہ لگانے سے انکار کیا۔ آئی جی کا کہنا تھا کہ توہین رسالت کا معاملہ لگتا ہے کیونکہ اس میں کوئی خریدار یا علاقہ کو خالی کرانے کی کوئی وجہ نہیں بتائی گئی۔ چیف جسٹس نے کہا کہ بتائی گئی کہانی پر کوئی یقین نہیں کرےگا۔ چیف جسٹس نے آئی جی پنجاب سے کہا کہ کیا انہوں نے حقائق معلوم کرنے کی کوشش کی، کیا وہ اپنے عہدہ پر رہنے کے اہل ہیں یا نہیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ پولیس افسروں کو واقعہ کا علم ہے اور بظاہر یہ ملزموں کو تحفظ دینے میں کوشاں نظر آتے ہیں۔ جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ ہنگامہ آرائی کے دوران پولیس تماشائی بنی رہی کیوں اس نے ایکشن نہیں لیا؟ چیف جسٹس نے ایڈووکیٹ جنرل پنجاب اشتر اوصاف علی سے کہا کہ جان نہ چھڑائیں، درست جواب دیں کسی کو قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جائےگی۔ چیف جسٹس نے کہا کہ جب بھی اقلیتوں پر حملہ ہوا پنجاب حکومت نے کچھ نہیں کیا علاقہ خالی کرا کر گھروں کو آگ لگائی گئی اگر پہلے سے ہی خدشات موجود تھے تو رینجرز اور سکےورٹی فورسز کو تعینات کیوں نہیں کیا گیا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ وہ آرڈر دکھائیں جس میں علاقہ خالی کرانے کا فیصلہ کیا گیا اس پر قائم مقام آئی جی کا کہنا تھا کہ یہ فیصلہ تو ایس ایچ او نے کیا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ اگر کسی علاقہ میں گڑ بڑ ہو تو کیا علاقہ ہی خالی کرا لیا جائے۔ جسٹس شیخ عظمت سعید نے کہا کہ علاقہ خالی کرا کے فخراً کہا جا رہا ہے کہ کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ توہین رسالت کا قانون موجود ہے اس کے مطابق کارروائی ہونی چاہئے۔ جسٹس عظمت سعید نے کہا کہ علاقہ خالی کرا کے لوگوں کو کہاں رکھا گیا ہے۔ اس پر قائم مقام آئی جی کا کہنا تھا کہ ہم نے کہیں نہیں رکھا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ اب تو حکومت کے پاس تین چار روز رہ گئے ہیں کیا کر لیں گے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ قائم مقام آئی جی کے ہوتے ہوئے شہر میں اس طرح کی صورتحال کا ہو تو پھر تو صوبہ کا اللہ ہی حافظ ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ایک رات پہلے گھر خالی کرائے گئے، پنجاب حکومت اور پولیس یہیں سے پکڑی گئی ہے۔ وزیر اعلیٰ کو کیا رپورٹ بھیجی گئی تھی اس کا بھی بتایا جائے ورنہ ہم چیف سیکرٹری کو بھی طلب کریں گے۔ گوجرہ واقعہ کی رپورٹ پر عمل کیوں نہیں کیا گیا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ سات تارےخ کا واقعہ ہے 36 گھنٹے بعد کس نے ہنگامہ آرائی کےلئے تیار کیا۔ عدالت نے پنجاب حکومت کی جانب سے پیش کی رپورٹ پر عدم اطمینان کا اظہار کیا چیف جسٹس نے پولیس کی تفتیش پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بتایا جائے کہ علاقہ خالی کرانے کا فیصلہ کب اور کیوں کیا گیا اور پولیس کس کو فائدہ پہنچانے کی کوشش کررہی ہے۔ عدالت نے کہا کہ مشترکہ تحقیقاتی کمیٹی کب تک اپنی تحقیقات مکمل کرےگی۔ کس قانون کے تحت یہ کمیٹی بنائی گئی ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ بتایا جائے کہ متاثرہ علاقہ کی زمین میں کس کی دلچسپی۔ چیف جسٹس نے کہا کہ بتایا جائے کہ ایف آئی آر میں کہاں درج ہے کہ آگ لگنے سے قبل گھر خالی کرائے گئے تھے۔ عدالت نے پنجاب میں مستقل آئی جی کی عدم تقرری پر اظہار برہمی کیا اس پر ایڈووکیٹ جنرل نے بتایا کہ وفاقی حکومت کو مستقل آئی جی کی تقرری کےلئے لکھا ہے لیکن ابھی تک عمل نہیں ہوا۔ چےف جسٹس نے استفسار کےا کہ جوزف کالونی کا مالک کون ہے جو اس کا قبضہ حاصل کرنا چاہتا تھا؟ چےف جسٹس نے اےڈووکےٹ جنرل پنجاب سے استفسار کےا کہ جوزف کالونی کی زمےن پر کس نے قبضہ کرنے کی کوشش کی اور ذمہ دار کے خلاف کےا کارروائی کی گئی زمےن کو لوگوں سے کےوں خالی کراےا گےا اگر زمےن کسی کی ملکےت تھی تو وہ عدالت سے رجوع کرتے۔ چےف جسٹس نے قائم مقام آئی جی سے کہا کہ درست جواب چاہےے، جان چھڑانے کی اجازت نہےں ملے گی۔ اگر آپ کو علم نہےں تو آپ کو عہدہ چھوڑ دےنا چاہےے تھا۔ اےڈووکےٹ جنرل پنجاب نے کہا کہ متاثرےن کو معاوضہ ادا کر دےا ہے اس پر چےف جسٹس نے کہا کہ معاوضہ ادا کرنا حکومت کا فرض ہے۔ عدالت نے اشتر اوصاف کو وقت دےتے ہوئے کہا کہ وہ دو تےن چےزوں کی وضاحت کرےں کہ گوجرہ سانحہ کی رپورٹ اب تک عام کےوں نہےں کی گئی اور سفارشات پر کس حد تک عملدرآمد ہوا اور وہ شخص جس کے بارے مےں جسٹس اقبال حمےد الرحمن نے سانحہ گوجرہ کی عدالتی تحقےقات کے بعد لکھا تھا کہ اس شخص کو پولےس کی کوئی کمانڈ نہ سونپی جائے وہ اس وقت کہاں ہے اور اس سے کےا کام لےا جا رہا ہے۔ عدالت نے واقعہ سے قبل کی سپےشل برانچ کی رپورٹ طلب کی۔ چےف جسٹس نے کہا کہ غرےبوں کے نام پر سےاست کی جا رہی ہے، خفےہ رپورٹس روزانہ ملتی ہےں بتاےا جائے اس دن کی رپورٹ کےا تھی؟ اس پر آئی جی نے بتاےا کہ لوہا مارکےٹ مےں الےکشن ہو رہے تھے جس پر جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ سانحہ کا الےکشن سے کےا تعلق ہے؟ چےف جسٹس نے اےس پی سے استفسار کےا کہ ےہ بابو سعےد کون ہے جس پر اےس پی نے بتاےا کہ اس کا گودام بادامی باغ کے اطراف مےں ہے۔ جسٹس شےخ عظمت سعےد نے کہا کہ آئی جی کے دفتر سے صرف تےن مےل دور گھر خالی کروائے جا رہے تھے کےا ان تک اطلاع نہےں پہنچی۔ چےف جسٹس نے کہا کہ کےس کو جاننے کیلئے پس منظر جاننا ضروری ہے۔ جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ ہنگامہ آرائی میں پولیس خاموش تماشائی بنی رہی حکومت کی پسپائی کیا رائیونڈ جا کر رکے گی؟ اب تو اس کے پاس صرف چار دن ہیں اس دوران وہ کیا کر لیں گے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ توہین رسالت قانون کے مطابق واقعہ کے ذمہ دار کے خلاف کارروائی ہونی چاہئے لوگوں کو مشتعل کرکے کس نے مفاد حاصل کیا۔ عالمی سطح پر کیا پیغام گیا کہ پاکستان اقلیتوں کی حفاظت میں ناکام رہا ہے۔ پنجاب حکومت کو مسیحی بستی کے لوگوں کو تحفظ دینے کے لئے فوج اور رینجرز کو بلانا چاہئے تھا۔ عدالت نے پنجاب میں مستقل آئی جی کے بجائے قائم مقام آئی جی کی تعیناتی پر سخت برہمی کا اظہارکیا اس پر اشتراوصاف نے کہا کہ آئی جی کی تعیناتی وفاقی حکومت کا کام ہے سمری ایک ماہ پہلے سے وفاقی حکومت کو بھیجی گئی چیف جسٹس نے کہا اب آئی جی کا عہدہ بھی صرف ایک ”سٹیٹس سمبل“ بن گیا ہے، کارکردگی کچھ بھی نہیں چند روز میں قائم مقام آئی جی نے ٹرانسفر ہو کر کہیں اور چلے جانا ہے، غریبوں کا کیس دب جائے گا پنجاب حکومت کی بنائی گئی سٹوری کا کوئی سر پیر نہیں پولیس کیوں تفتیش نہیں کرتی۔ واقعہ پنجاب حکومت کی ناک کے نیچے ہوا پولیس ملزموں کو ڈھونڈنے کیلئے کیا رائے ونڈ جائے گی؟ پولیس میں کوئی ایماندار افسر نہیں جو عدالت میں آ کر سچ بولے، ”گوجرہ کے واقعہ “ کی رپورٹ کو کیوں پبلک نہیں کیا گیا، سپیشل برانچ کی DSR کو کیوں نہیں دیکھا گیا، چیف جسٹس نے کہا کہ بلوچستان کوئٹہ سانحہ میں بہترین ڈسپلن کا مظاہرہ کیا گیا ایک گلاس تک نہ ٹوٹا، وفاق میں رمشا مسیح کیس ہوا عدالت میں سماعت کے بعد حقائق کچھ اور نکلے احتجاج بھی پرامن ہوا آج کل میڈیا بڑا ایڈوانس ہے، حقائق چھپ نہیں سکتے حقائق سامنے آنے پر ایڈیشنل آئی جی کو نتائج بھگتنا پڑیں گے ایس پی ملتان خان اور سی سی پی او کے خلاف آئندہ سماعت تک ایکشن لیں ورنہ عدالت کوئی حکم دے گی۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ایک آدمی نے جرم کیا اسے سزا ملنی چاہئے مگر اس کیلئے ہلڑبازی جلاﺅ گھیراﺅ لوٹ مار اور بے گناہ افراد کونشانہ بنانا کہاں کا قانون ہے۔ ریاستی رٹ کہاں ہے؟ آگ لگانے سے پہلے جگہ کیوں خالی کرائی گئی یہ کس کا فیصلہ اور حکم تھا؟ یہ نہیں ہو سکتا کہ دنیا کو کچھ پتہ نہ چلے۔ جسٹس گلزار نے کہا کہ ٹریڈ یونین لوہا مارکیٹ کے الیکشن کا اس زمین سے کیا تعلق؟ جسٹس عظمت نے آئی جی سے کہا کہ وہ حقائق بتائیں اقلیتوں کے خلاف ایسی کارروائیاں ٹھیک نہیں وہ بھی پاکستان کے شہری ہیں آپ کو تمام حقائق کا علم ہونا چاہئے۔ سیاسی غیر سیاسی حکومتیں انتظامیہ کسی نے معاملے کو سنجیدگی سے نہیں لیا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ لاہور جیسے بڑے شہر میں ایسا واقعہ ہونا پولیس والوں نے کیا کیا صرف احتجاج کرنے والوں کو ڈنڈے مارے جلاﺅ گھیراﺅ کے وقت پولیس کہاں تھی جگہ ایک رات پہلے خالی کرا لیتے یہ سب پولیس کی مبینہ ملی بھگت سے ہوا واقعہ پر ہر کسی نے سیاسی نمبرز گیم بنائی کسی آدمی کی عزت مال دولت محفوظ نہیں ہر چیز کو سیاسی رنگ دیا گیا پولیس حرکت میں آتی تو دنیا کو پتہ چلتا کہ حکومتی رٹ کیا ہے آئی کو اپنی پوسٹ پر نہیں رہنا چاہئے تھا بستی کے جگہ خالی کرانے کا پولیس تھانہ کے روزنامچہ میں اندراج نہیں ایس ایچ او بادامی باغ اور سی سی پی او امجد سلیمی ایس پی ملتان خان کیا کرتے رہے؟ واقعہ کی انکوائری کیلئے بنائی جانے والی مشترکہ تفتیشی کمیٹی کی کوئی رپورٹ نہیں جسٹس عظمت شیخ نے کہا کہ پولیس اور پنجاب حکومت کو 2 ماہ بھی دیں تو رزلٹ اور تحقیقات زیرو ہوں گی احتجاج کیلئے جمع کرنے والے مولوی کا بیان کیوں نہیں لیا گیا؟ ایڈووکیٹ جنرل نے کہا کہ بستی کی 20 کنال کی جگہ جس میں 66 کوارٹر سٹی گورنمنٹ کے ہیں بورڈ آف ریونیو میں زمین کا کوئی کیس نہیں۔ جسٹس گلزار نے کہا آپ ہمیں رپورٹ کی جگہ اخبار نہ دیں چیف جسٹس نے کہا کہ پنجاب کے لوگ پنجاب پولیس کے ہاتھوں محفوظ نہیں عدالت نے پنجاب حکومت سے جامع رپورٹ طلب کرتے ہوئے سماعت 13 مارچ تک ملتوی کر دی۔