مسلم لیگ (ن) پردہشتگردوں سے رابطوں کاالزام اور حقائق

12 مارچ 2013

فروری2008 ءکو منتخب ہونیوالی اسمبلیاں اپنی آئینی مدت بڑی تیزی سے پوری کر رہی ہیں۔16مارچ میں دن ہی کتنے رہ گئے؟ اس کے باوجود ہنوز زرداری حکومت نے نگران سیٹ اپ کے حوالے سے آئینی تقاضے پورے کئے نہ انتخابی شیڈول کا اعلان ہی کیا۔ان کی طرف سے انتخابات کے انعقاد کی کوئی کاوش اور جستجو سامنے نہیں آرہی۔ زرداری پیپلز پارٹی کے وزیر داخلہ کی پوری کوشش ہے کہ ملک میں ایسے حالات پیدا کردئیے جائیں کہ حکومت کو ایک سال کی مزید مہلت مل جائے۔یہی ان کا ایجنڈا ہے جس کی تکمیل کیلئے شیخ الاسلام طاہر القادری کو کینیڈا سے درآمد کیا گیا۔ عوام کی طرف ان کے ایجنڈے سے بے اعتنائی اور سپریم کورٹ کی جانب سے سخت سست کہنے پر بھی شیخ الاسلام طاہر القادری اپنے ایجنڈے کی تکمیل کیلئے سرگرداں ہیں جس کا براہ راست پیپلز پارٹی کی حکومت استفادہ کرے گی۔ وزیر داخلہ رحمن ملک تواتر سے پنجاب حکومت اور مسلم لیگ ن کے قائدین پر کالعدم تنظیم سے رابطوں اور ان کی سرپرستی کا الزام لگاتے چلے آرہے ہیں۔ صدر آصف زرداری نے بھی پنجاب میں نان سٹیٹ ایکٹرز کے عمل دخل کی بات کی ہے۔ رحمن ملک نے اپنے ایک بیان میں کراچی میں ہونیوالے عباس ٹاﺅن خودکش حملے کے ڈانڈے پنجابی طالبان کے ساتھ ملانے کی بھونڈی اور بودی کوشش کی ہے۔وہ کہتے ہیں” کالعدم تنظیموں نے انتخابات روکنے کی دھمکی، کراچی میں بھی کارروائی پنجابی طالبان نے کی۔ کوئٹہ اور کراچی کے دھماکے ایک ہی گروپ نے کئے۔ پنجاب حکومت کالعدم لشکر جھنگوی کی مدد کر رہی ہے۔طالبان اور لشکر جھنگوی نے کہا ہے کہ انتخابات نہیں ہونے دیں گے“.... رحمن ملک کا آخری فقرہ بڑا معنی خیز کہ ”طالبان اور لشکرجھنگوی نے کہا ہے انتخابات نہیں ہونے دیں گے“۔ انتخابات سے فرار اور اسمبلیوںکی مدت میں ایک سال کا اضافہ کس کی تمنا، خواہش اور ایجنڈا ہے؟ اسی حکومت کا جو آئینی مدت کے خاتمے پر انتخابات کے انعقاد سے گریز کر رہی اور التوا کے جواز پیدا کررہی ہے۔ کوئی بھی تنظیم یا پارٹی انتخابی عمل کی راہ میں رکاوٹ ڈالناچاہتی ہے یا انتخابی عمل کو سبوتاژ کرتی ہے تو یہ یقینا رحمن ملک کی پارٹی کے ایجنڈے کی مکمل تائید اور تکمیل ہے۔دہشت گردوں، شدت پسندوں کے ساتھ پیپلز پارٹی کے رابطوں کے ناقابل تردید ثبوت موجود ہیں مجھے ایک پیپلز پارٹی کے دوست نے بتایا کہ گزشتہ انتخابات میں گوجرانوالہ ڈویژن کے ایک حلقے میں پی پی پی کے ایم این اے نے اسی کالعدم تنظیم سے معاہدہ کرکے کامیابی حاصل کی۔ وہ ایم این اے اب وزیر ہیں اس معاہدے پر مذکورہ دوست نے بھی دستخط کئے۔ رحمن مَلک مُلک میں دہشت گردی کے خاتمے کو کالعدم تنظیم کے 534 افراد کی گرفتاری سے مشروط کرتے ہیں۔ رحمن ملک کی ایجنسیوں نے ان کو اب تک کیوں گرفتار نہیںکیا؟ کیا باقی گرفتاریاں پنجاب حکومت کی رضا مندی سے ایف آئی اے اور آئی بی جیسے ادارے کر رہے ہیں؟ اسی تنظیم کے کرتا دھرتا اسلام آباد میں مولانا فضل الرحمن کی اے پی سی میں موجود تھے اس وقت رحمن ملک کیوں سوئے رہے؟ مزید برآں یہ لوگ پورے ملک میں موجوداور کاروبار زندگی میں معمول کے مطابق حصہ لے رہے ہیں۔مرکز کو ان کی پنجاب میں موجودگی پراعتراض، ان کے ذہنی خناس اور پنجاب حکومت سے عداوت اور مخاصمت کا شاخسانہ ہے۔ ڈیلی امت کی رپورٹ نے مرکزی حکومت کے پردھانوں کے خبث باطن اور مسلم لیگ ن کی دشمنی میں جاری کردہ منافقانہ بیانات کا مکمل طورپر پوسٹمارٹم کرکے رکھ دیا ہے۔جس کی کسی طرف سے کوئی تردید سامنے نہیں آئی ویسے بھی حقائق کو جھٹلاناممکن نہیں۔”وفاقی حکومت کی طرف سے اہلسنت والجماعت کے خلاف ایکشن کیلئے صوبائی حکومت پر دبا¶ دراصل ایک سیاسی چال ہے‘ جس کا مقصد اہلسنت والجماعت اور مسلم لیگ (ن) کے درمیان فاصلے پیدا کرکے سابقہ الیکشن کی مانند ایک بار پھر اہلسنت والجماعت کا ووٹ حاصل کرنا ہے۔ 2008ءکے الیکشن میں پیپلز پارٹی کے دو درجن سے زائد رہنما اہلسنت والجماعت کے ووٹوں سے کامیاب ہوئے تھے‘ جن میں سے کئی لوگ وفاقی کابینہ میں بھی شامل ہیں۔ پنجاب میں اس وقت پیپلز پارٹی کو شدید مشکلات کا سامنا ہے‘ ایسے میں دینی ووٹ کے حصول کیلئے وزارت داخلہ صوبائی حکومت کو پریشرائز کر رہی ہے۔ جس پھرتی سے وفاقی وزارت داخلہ نے مطلوبہ افراد کی فہرست حکومت پنجاب کے حوالے کی‘ ایسی ہی فہرست باقی تینوں صوبوں کو کیوں نہیں دی گئی؟۔ جبکہ پنجاب میں لشکر جھنگوی کی تربیت گاہیں ہیں‘ نہ ہی کمین گاہیں اور نہ ہی فرقہ وارانہ قتل و غارت گری یہاں ہو رہی ہے۔ جبکہ دوسری طرف فرقہ وارانہ قتل و غارت سب سے زیادہ بلوچستان اور کراچی میں ہے لیکن صرف پنجاب کو لشکر جھنگوی کی آڑ میں اہلسنت والجماعت کے مطلوبہ افراد کی فہرست جاری کرنے کا مقصد کچھ اور ہے۔ حکمران پارٹی ایک طرف تو اہلسنت والجماعت کے خلاف ایکشن کیلئے بے تاب ہے اور دوسری طرف اہلسنت والجماعت سے الیکشن میں تعاون کی بھی خواہاں ہے۔ جمعرات کے روز اسلام آباد میں جے یو آئی (ف) کی اے پی سی میں شریک حکومت کے اعلی سطحی وفد نے اے پی سی میں موجود مولانا محمد احمد لدھیانوی سے بھی ملاقات کی اور ان سے الیکشن میں تعاون کے حوالے سے بھی تبادلہ خیال کیا۔ اس موقعہ پر پی پی کے ایک رہنما کا مولانا لدھیانوی سے کہا گیا یہ جملہ خاصا قابل غور ہے کہ ”آپ کی جماعت کے خلاف بیان بازی ہماری سیاسی مجبوری ہے لیکن ووٹ کیلئے ایک بار پھر ہم نے آپ کے دروازے پر ہی آنا ہے“۔ علاوہ ازیں وفاقی وزیر داخلہ رحمن ملک نے بھی چند روز قبل مولانا محمد احمد لدھیانوی سے ٹیلی فون پر گفتگو کرتے ہوئے ان کی جماعت کے خلاف حکومتی کارروائیوں کے حوالے سے اپنی صفائی پیش کرنے کی کوشش کی۔ 24 فروری کو انتخابی تعاون ہی کے سلسلے میں حکمران پارٹی کی ایک اعلیٰ شخصیت اہلسنت والجماعت کے ایک مرکزی رہنما سے تفصیلی ملاقات بھی کر چکی ہے۔ اہلسنت والجماعت کے مرکزی سیکرٹری جنرل ڈاکٹر خادم حسین ڈھلوں نے ”امت“ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے خلاف کارروائی کیلئے وفاقی وزارت داخلہ کا پریشر دراصل مسلم لیگ ”ن“ کے خلاف سازش ہے۔ رحمان ملک طالبان کو دہشتگرد قرار دیتے ہیں ان کا موقف ہے کہ آخری دہشتگرد کے خاتمے تک ان کے خلاف جنگ جاری رہے گی ۔ان کی حکومت اور اس کی اتحادی جماعتیں انہی دہشتگردوں کے ساتھ مذاکرات کے لئے بے چین ہیں۔ دہشت گردوں سے تو کسی صورت مذاکرات نہیں ہونے چاہئیں۔ ان کے اہم رہنماﺅں کو رہا کون کر رہا ہے؟۔ رحمان ملک کی وزارت داخلہ ہی سب کچھ کر رہی ہے جبکہ اپنے کرتوت چھپانے کے لئے بے بنیاد الزامات پاکستان مسلم لیگ پر لگا کر انتخابات میں کامیابی کی راہ ہموار کرنے کی کوشش کی جارہی ہے ۔ پیپلز پارٹی کے پانچ سالہ نامہ اعمال میں کوئی ایسا کارنامہ نہیں کہ جو ووٹرز کو مطمئن اور اس کو ووٹ دینے پر قائل کر سکے تو ان لوگوں نے محض مسلم لیگ ن کو بدنام اور مذہبی تنظیموں سے مسلم لیگ ن کو دور رکھنے کی سازشیں کرنا شروع کر دیں اور خود ان تنظیموں سے خفیہ رابطے اور تعلقات بڑھا دیئے۔ میری مسلم لیگ ن کی قیادت سے گزارش ہے کہ وہ پی پی پی کی سازشوں کا کامیاب نہ ہونے دے۔ اگر کوئی تنظیم ملکی قوانین کا احترام کرتی اور الیکشن کمیشن کے ضوابط اور آئین کی پابندی کرتی ہے تو اس تنظیم کے ساتھ جس طرح خود پیپلز پارٹی تعلقات بڑھا رہی ہے مسلم لیگ ن بھی موقع محل کے مطابق فیصلے کرے۔(مضمون نگار مسلم لیگ (ن) کے عہدیدار ہیں)