گیس پائپ لائن منصوبہ اور صدرمملکت

12 مارچ 2013

پاکستان کے دیرینہ دوست چین کو گوادر بندرگاہ سونپنے کے بعد صدرمملکت آصف علی زرداری اور ایران کے صدر محمود احمدی نژاد نے ایران میں پاکستان ایران گیس پائپ لائن منصوبے کا سنگ بنیاد رکھ دیا ہے۔ پیپلزپارٹی کی حکومت کے آخری ایام میں گوادر بندرگاہ کے بعد پاکستان ایران گیس پائپ لائن منصوبے کا سنگ بنیاد رکھنا دوسرا بڑا شاندار اقدام ہے جسے لازمی طور پر تاریخ میں سنہری الفاظ میں رقم کیا جاتا رہے گا۔ایران پاکستان گیس پائپ لائن منصوبے کا سنگ بنیاد رکھنے کی تقریب میں سب سے خوش آئند بات یہ رہی کہ عرب ممالک کے نمائندوں نے بھی اس تقریب میں خصوصی طور پر اپنی شرکت کو یقینی بنایا اور ایرانی صدر نے واضح کیا کہ پاکستان ایران گیس پائپ لائن منصوبے کا جوہری تنازعہ سے کوئی تعلق نہیں۔ انہوں نے پرعزم ہو کر کہا کہ پاکستان اور ایران کو مل کر اپنے ملک اور عوام کی خوشحالی کیلئے کام کرنا ہے۔ مستقل مزاجی اور عزم سے منزل حاصل کی جا سکتی ہے۔ ان کا کہنا درست تھا کہ پاکستان اور ایران گیس پائپ لائن منصوبے کا سنگ بنیاد رکھنے کے پیش نظر آج کا دن پاکستان ایران اور خطے کے لئے تاریخی دن ہے۔ پاکستان زرعی شعبے میں ایران سے تعاون کر رہا ہے۔ پائپ لائن منصوبہ دونوں ممالک کو مزید قریب لائے گا۔ اس منصوبے کو پاکستان کے شمال تک مزید وسعت دی جا سکتی ہے اور ہم علاقائی مسائل کو بات چیت سے حل کر سکتے ہیں۔ ایران کا شمار بھی پاکستان کے مخلص دوست ممالک میں ہوتا ہے۔ قیام پاکستان کے بعد پاکستان کا وجود سب سے پہلے ایران نے تسلیم کیا تھا۔ گوادر بندرگاہ چین کو سونپ دی گئی ہے اور ایران پاکستان گیس پائپ لائن منصوبے کا سنگ بنیاد رکھ دیا گیا ہے۔ دوسری طرف ماضی میں سوویت یونین کی طاقت روس بھی پاکستان کے ساتھ تعلقات کو وسعت دیکر بڑھانے کی خواہش کا اپنے مختلف انداز اور اقدامات سے اظہار کر چکا ہے۔ جب روس کی طرف سے ایسے اقدامات میں چند ماہ پہلے تیزی سامنے آئی تو امریکہ اور بھارت کی طرف سے گہری تشویش کا اظہار بھی سامنے آنے لگا تھا۔ گوادر بندرگاہ چین کے حوالے کرنے پر بھی امریکہ اور بھارت گہری تشویش کا اظہار کر رہا ہے۔ ایران پاکستان گیس پائپ لائن کا منصوبہ گذشتہ کئی سالوں سے التوا کا شکار رہا ہے۔ اس کی بنیادی وجہ امریکہ ہی تھا۔ امریکہ نے چونکہ جوہری تنازعہ کو جواز بنا کر ایران پر مختلف پابندیاں عائد کر رکھی ہیں۔ جب ایران پاکستان گیس پائپ لائن منصوبے کی بات سامنے آتی تو امریکہ کے دبا¶ پر ہمارے حکمران اس منصوبے سے کنی کتراتے رہے۔جبکہ ایران کی طرف سے پاکستان تک گیس پائپ لائن کا منصوبہ مکمل کیا جا چکا ہے ۔ اب صدرمملکت آصف علی زرداری جنہوں نے گذشتہ پانچ سالوں تک امریکہ کی ہر ڈکٹیشن پر عملدرآمد کو یقینی بنایا اور امریکہ کے ایسے فرنٹ لائن اتحادی بنے رہے جس سے ملک لاقانونیت، دہشت گردی، بھوک، افلاس اور ننگ جیسے خطرناک مسائل اور بحرانوں میں گھرا رہا۔ آج وہی زرداری جن کیلئے نعرہ لگایا گیا تھا کہ ایک زرداری سب پر بھاری انہوں نے امریکہ کی پالیسیوں کے متضاد چلنا شروع کر دیا ہے۔ انکے ایسے اقدامات کسی سے ڈھکے چھپے نہیں ہیں اسی لئے تو ہر حلقہ اور بالخصوص عوام حیران ہیں کہ آخر آصف علی زرداری کے اندر ایک دم ایسی تبدیلی کیسے رونما ہو گئی۔ لگتا ہے کہ آصف علی زرداری جان چکے ہیں کہ امریکہ نے اپنے ہر ہمنوا اور دوست کا انجام بخیر نہیں ہونے دیا۔ لہٰذا وہ مفاہمت کے نام پر جس طرح ملک کی سرحدوں کے اندر سیاست کے دا¶پیچ کھیل کر حکمرانی کرتے رہے ہیںعین اسی طرح وہ اب امریکہ کو چکمہ دے کر ایک طرف ملک کے اندر پیپلزپارٹی کی انتہائی گری ہوئی ساکھ کو ایک مرتبہ پھر عوام کی نظروں میں بحال کرنا چاہتے ہیں اور دوسری طرف وہ امریکہ کو بھی باور کروانا چاہتے ہیں کہ وہ اتنے کمزور صدراور سیاست دان نہیں۔ جو بھی ہو آصف علی زرداری کے حالیہ دونوں اقدامات ملک اور قوم کی ترقی کے لئے سنگ میل کا کردار ادا کریں گے جس پر آصف علی زرداری مبارکباد کے مستحق ہیں۔ ہو سکتا ہے ان کے اندر بھی محب الوطنی کا جذبہ جاگ اٹھا ہو اور محب الوطنی کی اس بیداری میں وہ امریکہ کی ان متضاد راہوں پر نکل پڑے ہوں جس کا انجام بالاخر ملک کی خوشحالی اور ترقی کی طرف بڑھے گا۔ ایران پاکستان گیس پائپ لائن منصوبے کا سنگ بنیاد رکھنا اور اس تقریب میں عرب ممالک کے نمائندوں کا بھی شامل ہونا اس بات کا اعلان ہے کہ اسلامی دنیا میں امریکہ کے خلاف نفرت تو موجود تھی ہی اب اسلامی ممالک ایک ایسی سمت چاہتے ہیں جس پر وہ چل کر اپنی بقائ، خوشحالی اور ترقی کے لئے کچھ کر سکیں۔ صدرمملکت آصف علی زرداری نے ایرانی صدر کے ملک میں جا کر گیس پائپ لائن منصوبے کیلئے سنگ بنیاد رکھ کر امریکہ کو ایک اچھا پیغام دیا ہے۔ یقینا اس سے بھارت کو بھی علم ہوا ہو گا کہ ایٹمی پاکستان ابھی بھارت کے آگے اس طرح نہیں بیٹھا جیسا وہ امریکی ایماءپر چاہتا تھا اور بڑی حد تک خوش فہمی میں بھی مبتلا تھا۔ اب صدرمملکت آصف علی زرداری کو چاہیے کہ روس کا دورہ کریں اور روس کے اعلیٰ حکمرانوں کے ساتھ مل کر روس کو کچھ دیں یا پھر روس سے کچھ لے آئیں کہ کم از کم بھارت اور امریکہ ایٹمی پاکستان کے رعب، دبدبے اور جاہ و جلال کو پہچان سکیں۔