پاک ایران گیس منصوبہ ۔۔ دیر آید درست آید

12 مارچ 2013

پاکستان میں گیس کے ذخائر کی مقدار 31.03ٹر یلین مکعب فٹ ہے۔ ان میں سے روزانہ 4.2ارب مکعب فٹ روزانہ استعمال ہو رہی ہے ،نئے ذخائر در یافت نہ ہوئے تو 2020تک موجو دہ ذخائر نصف رہ جائیں گے جبکہ اصل صورت حال یہ ہے کہ 2020تک گیس کی کھپت میں آج کی نسبت کئی زیادہ اضافہ ہو جائے گا گیس کے حوالے سے آج بھی صورت حال پر یشان کن ہے۔ پورے ملک میں صنعتوں کو ضرورت کے مطابق گیس نہیں مل رہی ، سی این جی سٹیشن گیس کی قلت کے باعث جنوری سے مارچ تک تقر یباً بند رہے، اب شاید ہفتے میں دو یا تین دن کھلا کریں گے۔ گھر یلو صار فین کو بھی بجلی کی طرح گیس کی لوڈ شیڈنگ کا سامنا کرنا پڑتا ہے ،2020میں ایک تو رسد اور کھپت میں ایک وسیع گیپ ہو جائیگا اس پر مزید ذخائر نصف رہ جائیں گے اس کا مطلب گیس کی پیدا وار صرف ایک سیکٹر ، ٹرانسپورٹ ، صنعت یا گھر یلو صار فین کی ضرورت پوری کرسکے گی۔ ملکی ترقی و خو شحالی کے لئے انر جی کا وافر مقدار میں ہونا ضروری ہے۔ اس کے لئے جس حکمت عملی ، منصوبہ بندی اور تدبر کی ضرورت تھی اس کا ہنوز فقدان ہے ،دبئی میں بجلی کی کمی نہیں اس کے باوجود وہاں بجلی کی پید ا وار کے نئے منصوبے جاری ہیں سمندر کے پانی کو بجلی پیدا کرنے کیلئے استعمال میں لا یا جاتا ہے اس بھاپ کو پانی میں تبدیل کر کے شہریوں کی ضروریات پوری کی جاتی ہیں اور اس کے بعد بھی پانی کو ضائع نہیں کیا جاتا، ٹر یٹمنٹ کے ذریعے اس کو کاشتکاری کیلئے استعمال میں لایا جاتا ہے۔ وسائل کو استعمال میں لا کر مستقبل کے منصوبے تشکیل دینے والی قومیں کبھی بحرانوں کا شکار نہیں ہوتیں۔ہمارے رویے اس کے بر عکس ہیں، کچھ تو سرپڑی مصیبت سے جان چھڑانے کیلئے دن رات ایک کرتے ہیں ہم تو بالکل گئے گزرے کہ مصیبت کے نزول کے بعد بھی ٹس سے مس نہیں ہوتے جودن گز گیا اس کو غنیمت جانتے ہیں ۔دہائیوں سے یہی روش اپنا رکھی ہے جس کے باعث آج بجلی گیس کی شدید کمی سمیت ہر بحران ایک طو فان بن کر ہمیں لپیٹ میں لئے ہوئے ہے۔ اب جبکہ پانی سر سے گزر رہاہے اقتدار کی مدت لب بام سے دو چار ہاتھ رہ گئی ہے تو حکمران ایک انگڑائی لے کر اٹھے ہیںاور دو انتہائی اہم فیصلے کر ڈالے اور ان پر عمل بھی ۔۔۔گو ادر پورٹ چین کے حوالے کر دی اور ایران کے ساتھ گیس معاہدے کو عملی شکل دیدی ۔ یہ بہترین قومی مفاد کے فیصلے کافی دیر سے ہی کئے گئے ہیں تاہم دیر آید درست آید ۔ ان دونوں منصوبوں کی امریکہ شدید مخالفت کر رہا ہے۔ بھارت کی مخالفت اپنی جگہ لیکن اس کی مخالفت کی عمو ما پاکستان پر وا نہیں کرتا لیکن امریکی مخالفت ایک بھاری پتھر ہے جس کا بوجھ ہمارے حکمران اٹھانے سے قاصر نظر آئے ہیں لیکن صدر آصف علی زرداری ان دونوں فیصلوں پر ڈٹ گئے ہیں ۔ گوادر پورٹ چین کے حوالے کی جا چکی ہے جس پر بھارت میں ایک کہرام اور ماتم کی کیفیت ہے ۔اس فیصلے سے امریکہ اور بھارت سے بھی زیادہ تکلیف میں ایک برادر اسلامی ریاست مبتلا ہے جس کو اپنی بندر گاہ پر کارو باری سر گر میاں ماند پڑتی نظر آتی ہیں۔ اس کی مخالفت کی بھی پاکستان نے پروا نہیں کی۔ گوادر پورٹ اپر یشنل ہو گئی تو یہ دبئی کی پو زیشن اختیار کر لے گی جو پاکستان کی ترقی و خو شحالی کی ضمانت بن جائے گی ۔دفاع اس کے علاوہ مضبوط ہو گا اور چین کے ساتھ تعلقات مضبوطی کی ایک نئی نہج پر نظر آئیں گے یہ سب کچھ امریکہ کے نا پسندیدہ اور بھارت کیلئے نا قابل بر داشت ہے ۔امریکہ کو پاکستان چین تعلقات پر تحفظات ہیںوہ گوادر پورٹ چین کے حوالے کرنے کی مخالفت کررہا ہے ، ہو سکتا ہے اس حوالے سے کوئی خفیہ منصوبہ بندی بھی کر رہا ہے ہو لیکن فی الحال اس کیلئے پاکستان ایران گیس منصوبہ سوہان روح بنا ہوا ہے وہ اس منصوبے کی اس طرح مخالفت کر رہا ہے جس طرح پاک چین شاہراہ قر اقرم کی کی تھی۔ ایوب خان نے امریکہ کی مخالفت کو پر کاہ بھی اہمیت نہ دی اور با لا آخر عظیم منصوبہ تکمیل پذیر ہوا ۔ صدر زرداری بھی آج اسی عزم ارادے کے ساتھ ایران گیس پائپ لائن منصوبے کی تکمیل کیلئے کمٹڈ ہیں انہوں گزشتہ روز ایران جا کر گیس منصوبے کا سنگ بنیاد رکھ دیا جو دو سال میں مکمل ہو گا اور2020 میں ذخائر نصف رہ جانے کا خدشہ دور ہو جائیگا ۔ آصف علی زرداری کے اس احسن اقدام کو بھی اپوزیشن سیاسی مفاد اور شعبدہ بازی کا نام دے رہی ہے ایسا رویہ افسوسناک ہے جس سے عوامی مسائل حل یا کم ہو ں۔ پاک ایران گیس منصوبہ جن حالات میں شرو ع ہو رہا ہے پوری سیاسی قیادت کو ایک پلیٹ فارم پر ہونا چاہیے۔ امریکہ پاکستان کو ایران گیس منصوبے سے باز رہنے کیلئے دھمکیاں اور تر غیبات دے رہا ہے دھمکیوں کی تو حکومت نے فی الحال پروا نہیں کی، تر غیبات پاکستان کی انرجی ضرور یات پوری نہیں کر سکتیں ۔ امریکہ کہتا ہے کہ اس کے تعاون سے پاکستان میں بجلی کی پیدا وار میں 900میگا واٹ اضافہ ہو گا۔ حقیقتاً پاکستان کو بجلی کی پید وار میں کمی کا سامنا نہیں ۔بجلی پیدا کرنے پر اخرا جات کا مسئلہ ہے سر کلر ڈیٹ جو 500ارب روپے ہے اس پر قابو پا لیا جائے تو آج بھی بجلی ہماری ضرور یات سے زیادہ پیدا ہو سکتی ہے۔ گیس کا امریکہ کے پاس کوئی متبادل نہیں۔ وہ ہمیں تر کمانستان سے گیس کی لائن بچھانے کا مشورہ دیتا ہے، 6ہزار کلو میٹر طو یل لائن کی تنصیب سات سال سے قبل ممکن نہیں پھر اس کے بھاری اخرا جات کس نے ادا کرنے ہیں؟ ایران ہمیں پائپ لائن کی تنصیب میں مالی تعاون بھی فراہم کر یگا۔ امریکہ کے پاس گیس کا ایک متبادل ضرور ہے اگر امریکہ پاکستان کو تیل 40 روپے لیٹر فراہم کروا دے تو پاکستان تو ا نائی کے بحران سے نکل سکتا ہے اور ایران سے گیس در آمد کرنے کی ضرورت بھی نہیں رہے گی۔ امریکہ کیلئے پاکستان کو تیل 40روپے لیٹر فراہمی نا ممکن نہیں کیو نکہ نیٹو کو پاکستان اسی ریٹ پر پٹرول فراہم کر رہا ہے۔ستاروں کی روشنی میں تا حال آنیوالے الیکشن کا انعقاد وقت مقررہ پر مشکوک نظر آ رہا ہے۔