قراردادِ مقاصد.... اسلامی‘ جمہوری‘ فلاحی مملکت کی بنیاد

12 مارچ 2013

حصولِ آزادی کے بعد اہم ترین مرحلہ جو بانیانِ پاکستان کے لیے کڑا امتحان تھا وہ قانون اور آئین سازی کا کام تھا۔ قائداعظمؒ نے قیامِ پاکستان سے بہت پہلے دستور کی اسی اساس کی طرف اشارہ کیا تھا جب 1943ءمیں بمقام جالندھر آل انڈیا مسلم سٹوڈنٹس فیڈریشن کی صدارت کرتے ہوئے فرمایا کہ ”میرے خیال میں مسلمانوں کی طرزِ حکومت کا آج سے ساڑھے 13 سو سال قبل قرآن حکیم نے فیصلہ کردیا تھا۔“ قائداعظمؒ نے نومبر 1945ءمیں پیر صاحب مانکی شریف کے نام جو خط لکھا اس میں صاف صاف لکھ دیا تھا کہ ”اس بات کے کہنے کی ضرورت ہی نہیں کہ قانون ساز اسمبلی جس میں بہت زیادہ اکثریت مسلمانوں کی ہوگی‘ مسلمانوں کے لیے ایسے قانون بناسکے گی جو اسلامی قانون کے خلاف ہوں اور نہ پاکستانی غیر اسلامی قانون پر عمل کرسکیں گے۔“ اسلامی حکومت سے مراد وہ حکومت ہے جو اسلام کے بتائے ہوئے اعلیٰ اور پاکیزہ اصول پر چلائی جائے۔ اس لحاظ سے وہ ایک خاص قسم کی اصولی حکومت ہوگی۔ ظاہر ہے کہ کسی اصولی حکومت کو چلانا خواہ مذہبی ہو یا غیر مذہبی دراصل انہی لوگوں کا کام ہوسکتا ہے جو ان اصولوں کو مانتے ہوں۔ پہلی دستور ساز اسمبلی جس کے اراکین کی بڑی تعداد قائداعظمؒ کے رفقاءکار پر مشمل تھی اور یہ لوگ دل و جان سے قائداعظمؒ اور نوآموز مملکت خداداد کے وفادار تھے۔ انہوں نے اولین وزیراعظم قائد ملت خان لیاقت علی خان کی قیادت میں 12مارچ 1949ءکو متفقہ طور پر قرار داد مقاصد منظور کی ۔ اس قرار داد کے ذریعے پاکستان کے آئین اور نظام مملکت کے لیے تمام خدوخال نہایت حسین پیرائے میں واضح کردیے گئے۔ اقتدار اعلیٰ سے لے کر ادنیٰ عوامی حقوق اور دستور حکمرانی کی تمام وضاحتیں قرار داد مقاصد سے عیاں ہوتی ہیں۔ قرار داد مقاصد کو آئین پاکستان کے دیباچہ کے طور پر ہمیشہ ہمیشہ کے لیے آئین کا حصہ بنادیا گیا۔ ملکی تاریخ میں کئی مرتبہ فوجی حکمرانوں یا آمروں نے اپنی اپنی مرضی اور ضروریات کے مطابق آئین کی حرمت کو پامال کیا اور اسے موم کی ناک بنا چھوڑا مگر کسی نے یہ جسارت نہ کی کہ قرار داد مقاصد میں طے شدہ اصولوں سے تجاوز کرے۔ اس قرار داد میں اقتدار اعلیٰ کی ملکیت و تفویض کی وضاحت کے ساتھ ساتھ یہ بھی واضح کردیا گیا کہ کوئی بھی مادہ پرستی پر مبنی یا سفلی نظام مملکت مسلمانوں کے لیے قابلِ عمل ہو ہی نہیں سکتا۔ کیونکہ اگر اس کی کوئی گنجائش ہوتی تو مسلمان کبھی بھی الگ مملکت کا مطالبہ نہ کرتے۔ اس قرار داد کی روشنی میں آئندہ پاکستان ایک ایسی اسلامی ‘ فلاحی‘ جمہوری مملکت کی منازل طے کرے گا جس میں انسانوں کو بنیادی حقوق برابری کی سطح پر میسر ہونگے۔ کیونکہ اسلام نے دنیا کو جن عظیم الشان صفات سے مالا مال کیا ہے‘ ان میں سے ایک صفت عام انسانوں کی مساوات ہے۔ قرار داد مقاصد میں جہاں یہ واضح کردیا گیا تھا کہ پاکستان کے مسلمانوں کو اس قابل بنایا جائے گا کہ وہ انفرادی اور اجتماعی طور پر اپنی زندگی کو قرآن مجید اور سنت رسولﷺ میں متعین تعلیمات کے مطابق ترتیب دے سکیں وہیں یہ بھی طے کردیا گیا کہ مملکت میں بسنے والے اقلیتی باشندوں کو یہ حق حاصل ہوگا کہ وہ اپنے مذاہب اور عقیدے باقی رکھ سکیں‘ ان پر عمل کرسکیں اور اپنی ثقافتوں کو ترقی دے سکیں۔ اس عظیم قرار داد کی روشنی آج ہمیں اس لیے بھی درکار ہے کہ قرارداد مقاصد میں مضبوط وفاق کے لیے واشگاف اصول بیان کردیے گئے تھے کہ مقتدراعلیٰ کی طرف سے تفویض کردہ اختیارات کے حقیقی مالک عوام کو قرار دیا گیا ہے اور عوام کے ذریعے چلنے والے جمہوری عمل کا تسلسل مضبوط فیڈریشن کے تحت ہی ممکن ہے۔ لہٰذا آج قرارداد مقاصد پر عمل کی ضرورت اس لیے بھی زیادہ ہے کہ مضبوط وفاق ہی مضبوط مملکت کی بنیاد ہوسکتا ہے۔قرار داد مقاصد پر اس کی حقیقی روح کے عین مطابق عمل کرنے سے نہ صرف پاکستانی معاشرے کا حسن نکھر کر سامنے آسکتا ہے بلکہ پاکستان پر نام نہاد مادہ پرست اور یاس و قنوطیت کے مارے عناصر کی طرف سے کی جانے والی بے بنیاد تنقید کا سدباب ہوسکے گا اور اہلِ پاکستان فلاح اور خوشحالی کی زندگی بسر کرسکیں گے‘ اقوام عالم کی صف میں اپنا جائزو ممتاز مقام حاصل کرسکیں گے‘ امنِ عالم کے قیام اور بنی نوع انسان کی فلاح و بہبود میں کماحقہ اضافہ کرسکیں گے۔