یہ کیسے راستوں پر چل پڑا ہوں!

12 مارچ 2013

 ایک زمانہ تھا کہ سیکولر انڈیا میں آئے دن گرجا گھر نذرِ آتش کیے جا رہے تھے! یہ ایک ایسا سفاّک عمل تھا، جسے پوری دُنیا منہ میں اُنگلی دبائے دیکھ رہی تھی! اور ایک دن ایسا آیا کہ مسیحی دُنیا کا ایک بااختیار وفد حالات کی تفہیم کے لیے نکل پڑا ! وہ پاکستان سے زمینی سفر کرکے بھارت جانے والا تھا کہ پاکستان میں بہاول پور میں ایک گرجا گھر نذرِآتش کر دیا گیا! اور یوں اُس وفد نے پریشان ہوکر پوچھ ہی لیا کہ پاکستان میں،تو، پہلے کبھی ایسا کوئی واقعہ نہیں سننے میں آیا،تو، ہم کندھے اُچکا کے رہ گئے! کیونکہ ہم یہ بات کہنے کے مجاز نہیں تھے کہ یہ کام بھارتی ایجنٹوں کا کیا دھرا ہے! لہٰذا مسیحی وفد واہگہ پار کرکے دُنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کی خاک چھاننے کے لیے آگے بڑھ گیا! کیونکہ وہ جانتے تھے کہ کسی واردات کا پتہ لگانے کے لیے کافی وقت درکار ہوتا ہے!اور ایسے معاملات پر فوری ردعمل کوئی حیثیت نہیں رکھتا!
سیکولر بھارت میں مسیحی مشنریوں کی کامیابیوں کے نتیجے میں شودر جوق در جوق مسیحیت قبول کرتے چلے جا رہے تھے! اور بھارت میں کارفرما شیوسینائے اس تبدیلی کو روکنے کے لیے دہشت انگیز بے رحمی کے ساتھ اُن بھارتی مسیحیوں کی عبادت گاہیں اور اُن کے بال بچوں کو اس آگ میں پھینک کر اپنا کام مکمل کرکے گھروں کو لوٹ جاتی ہیں!
 لاہور میں جوزف کالونی کا سانحہ ہر پاکستانی کا سر جھکا گیا!اور گوجرہ کے سانحے کی یادیں تازہ کر گیا! گوجرہ میں،تو، شرانگیز عناصر پر ہاتھ نہیں ڈالا جا سکا! مگر، شکر اس بات پر واجب ہے کہ جوزف کالونی کی آتش زنی میں کوئی انسانی جان نہیں گئی! وزیر اعلیٰ پنجاب نے ان تمام گھروں کو نئے سرے سے تعمیر کرنے کا حکم جاری کردیا ہے اور فی گھر پانچ پانچ لاکھ روپے بھی تقسیم کر دیے ہیں۔ صدرِ مملکت نے بھی وزیر اعظم سے کہا ہے کہ وہ ہر متاثر تک پانچ، پانچ لاکھ روپے پہنچا دیں! تاکہ وہ اپنے گھروں کی تعمیر کے ساتھ ساتھ اپنی روٹی روزی کا سلسلہ بھی چلا سکیں! صوبائی اور وفاقی حکومتیں بدنامی کا یہ داغ دھونے میں لگی ہیں! مگر، جنابِ رحمن ملک میڈیا پر آئے،تو، لگا کہ وہ اپنی جوانی کے زمانے میں کسی سٹوڈنٹس یونین کے انتخابی اجلاس سے خطاب کر رہے ہیں! اور اُنہیں پوائنٹ سکورنگ کے سوا کسی اور کام سے کوئی غرض نہیں! جنابِ راجہ پرویز اشرف اجمیر شریفؒ سے لوٹے،تو، جنابِ آصف علی زرداری نے اُنہیں ایک نسبتاً نیک کام سے لگا دیا! حالانکہ صدرِ مملکت نے اجمیر شریفؒ میں ایک بہت بڑے عطیے کا اعلان کیاتھا! جسے ابھی تک شرمندئہ تعمیل نہیں کیا جاسکا!دیکھنا یہ ہے کہ وفاقی حکومت کی طرف سے جوزف کالونی کے رہائشیوں تک اُن کا حکم عملی طور پر کس رنگ میں پہنچتا ہے!
جوزف کالونی کے سانحے کے خلاف احتجاجی لے نائن زیرو سے ابھری! اور پشاور میں جنابِ عمران خان کے خطاب میں بھی جگہ پا گئی! شاید ہی کوئی راہ نما ہو جس نے اس سفّاکی مذمت نہ کی ہو!
ایک ایسا پاکستان جسے مذہبی آزادی کا گھر سمجھا جاتا تھا! اُس گھر کی اینٹیں فرقہ ورانہ مقاصد کے لیے نکال نکال کر بڑی بڑی درس گاہیں تعمیر ہو رہی ہیں! ایک عام آدمی اس عمل کو دیکھتے دیکھتے بوڑھا ہو گیا ہے! مگر سمجھ نہیں پا رہا کہ یہ کس کے اشارے پر ہو رہا ہے! اور اس گھر کا کیا بنے گا؟
اب جبکہ ہم ایک بار پھر انتخابی عمل سے گزرنے والے ہیں! ہمیں دیکھنا ہو گا کہ ہم کسے ووٹ دے رہے ہیں! اور ہمارا منتہائے مقصود کیا ہے؟ ورنہ یار لوگ ،تو، لاہور میں توڑ پھوڑ کے دوران میٹرو بس سٹیشن تباہ کر نا نہیں بھول پائے! اسے کہتے ہیں اپنا منتہائے مقصود ہر وقت سامنے رکھنا! شاید ہم نے تمام قومی منصوبے اسی توڑ پھوڑ کے لیے بنائے! اور اُنہیں اُن کے انجام تک پہنچا دیا!
پاکستان پیپلز پارٹی کے سرکاری ترجمان شاعر جنابِ اعجاز رضوی نے اس صورت حال پر کیا خوب کہہ رکھا ہے:
یہ کیسے راستوں پر چل پڑا ہوں
مجھے کس کی طلب ہے ؟ کیا ہوا ہے؟
 ٭٭٭
 خالد احمد