جنسی تشدد کا شکار وہاڑی کی 16 سالہ لڑکی انصاف کیلئے دربدر

12 مارچ 2013

لاہور (اپنے نمائندے سے) 3 درندوں کی وحشت اور بربریت کا نشانہ بننے والی وہاڑی کی 16 سالہ عائشہ جان بچانے کیلئے وہاڑی سے لاہور چلی آئی ہے اور حصول انصاف کیلئے بوڑھے والدین کے ساتھ دربدر بھٹک رہی ہے۔ واقعات کے مطابق وہاڑی کے نواحی گاﺅں 57 ڈبلیو بی کی رہائشی عائشہ کو اس کی شادی سے 18 روز قبل ابرار، اسرار، محمد علی اور نعیمہ بی بی نے نشہ آور مٹھائی کھلا کر اغوا کرلیا، اس کو سندھ سمیت پنجاب کے دیگر شہروں میں قید رکھا، ملزمان عائشہ کو ہوس کا نشانہ بنانے کے ساتھ اس پر تشدد بھی کرتے رہے، جس سے عائشہ قوت سماعت سے محروم ہوچکی ہے۔ ملزمان نے جاتے ہوئے گھر میں رکھے 17 لاکھ روپے، طلائی زیورات اور دونوں بیٹیوں کا جہیز کا سامان بھی لے گئے۔ صغیر کے مطابق ملزمان نے عائشہ کو اغوا کرنے کے بعد اس کا جعلی نکاح نامہ اور اس کی تصاویر بھی بنوائی ہیں۔ وہاڑی پولیس نے ملزمان کے خلاف زیردفعہ 365/B مقدمہ درج کر رکھا ہے۔ پولیس نے ملزمان کو گرفتار کرنے کے بعد چھوڑ دیا، اب پولیس ہمیں صلح کیلئے دباﺅ ڈال رہی ہے۔ وزیراعلیٰ میاں شہبازشریف اور چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ فوری انصاف دلائیں ورنہ سارا خاندان خودکشی کرلے گا۔