صوبائی وزیر قانون کا حلقہ انتخاب پی پی 70 ........ مسائل سے دوچارہے

12 مارچ 2013

تحریروترتیب: احمد کمال نظامی(بیوروچیف نوائے وقت)
حکومت کے چل چلا¶ کی باتیں زبان زد عام و خواص ہیں۔ جنرل پرویزمشرف نے 2001ءمیں عوام کو حکومتوں میںشامل کرنے اور مقامی حکومتوں کے ذریعے ہر علاقے کے مسائل کو حل کرنے کے لئے جس بلدیاتی نظام کو متعارف کرایا تھا اس میں ضلع ناظم، تحصیل ناظم اور یونین کونسل ناظم اور ان سب کے ساتھ نائب ناظموں اور کونسلروں کے انتخاب کا کلچر متعارف کرایا۔ ضلع کونسل، تحصیل کونسل اور یونین کونسل کے مسائل کو یونین کونسل کے ناظم، نائب ناظم، کونسلروں اور لیڈی کونسلروں کے ذریعے حل کیاجاتا تھا۔ پی پی 70 جو کہ صوبائی وزیرتعلیم کا حلقہ انتخاب ہے اس حلقہ انتخاب میں اندرون شہر کے علاقوں میں سمن آباد، ناظم آباد، خالد آباد، گوروداس پورہ،نثارکالونی،امین آباد، نواباں والا، فیکٹری ایریا اور متعدد شہری محلے اور علقے شامل تھے اور یہ سب علاقے 2001ءسے 2005ءتک سٹی ناظم اور نائب سٹی ناظم کے علاوہ ہر علاقہ میں قائم یونین کونسلوں کی عمل داری میں رہے۔ یہ یونین کونسلیں اپنے اپنے علاقے میں ترقیاتی کاموں کے لئے منصوبہ بنا کر دیتی تھیں،ان کو فنڈز الاٹ ہو جاتے تھے۔ یونین ناظم، نائب ناظم اور کونسلرز اپنی اپنی یونین کونسل کے علاقوں کے ترقیاتی کاموں کو مکمل کرانے اور یونین کونسل کے ایریا میں شادی بیاہ کا اندراج، طلاق کے معاملات پر مصالحتی کورٹ کا کردار اور سول اداروں تک اپنے لوگوں کی نمائندگی کے لئے یونین کونسل کے ناظم کی بلحاظ عہدہ تصدیق کی وجہ سے گوناگوں مسائل کو گھر کی دہلیز پر حل کرنے اور کرانے میں کامیاب ہو جاتے تھے۔ یونین کونسل کے عہدہ داران کے علاوہ تحصیل ناظم اور نائب ناظم بھی ہر علاقے میںہونے والے ترقیاتی کاموں اورہر علاقے کے مسائل سے باخبر رہتے تھے۔ یہ بلدیاتی نظام ہرچند ایک قومی آمر نے شروع کیا تھا لیکن یہ ایک بہترین نظام تھا۔ہر یونین کونسل کاناظم بلحاظ عہدہ ضلع کونسل کا کونسلر اور ہر یونین کونسل کا نائب ناظم بلحاظ عہدہ تحصیل کونسل کا کونسلر تھا اور اس طرح ضلع کونسل اور تحصیل کونسل ان دونوں کے ذریعے ہر یونین کونسل میں موجود تھے اور ہر علاقے کے مسائل اور ترقیاتی کام تحصیل کونسل اور ضلع کونسل کی نظر میں رہتے تھے۔ 2001ءکے بلدیاتی الیکشن کے نتیجے میں ڈسٹرکٹ فیصل آباد کی معروف سیاسی شخصیت الحاج چوہدری محمد نذیر احمد کے بیٹے اور ضلع کونسل کے سابق چیئرمین چوہدری زاہد نذیر ضلع ناظم فیصل آباد اور چوہدری امتیاز علی چیمہ سٹی ناظم تھے دونوں ہر علاقے کے مسائل کو حل کرنے ، ہر علاقے میں ترقیاتی کام کروانے کے ذمہ دار تھے۔ بعد ازاں 2005ءکے بلدیاتی الیکشن میں ضلع فیصل آباد کو سٹی ڈسٹرکٹ فیصل آباد کا نام دے دیا گیا اور پورے سٹی ڈسٹرکٹ کو آٹھ مختلف ٹا¶نز میں تقسیم کردیاگیا۔تحصیل جڑانوالہ،تاندلیانوالہ،تحصیل سمندری اور تحصیل چک جھمرہ کو ازخود تحصیل کی بجائے ٹا¶ن کا درجہ مل گیا جبکہ سٹی تحصیل کو لائلپور ٹا¶ن، مدینہ ٹا¶ن، اقبال ٹا¶ن اور جناح ٹا¶ن میں تقسیم کر دیا گیا گویا ماضی کی سٹی تحصیل اور ماضی بعید کی میونسپل کارپوریشن فیصل آباد چار مختلف ٹا¶نز میں تقسیم ہو گئی۔ پی پی 70 کے زیادہ علاقے اقبال ٹا¶ن میں شامل تھے اور اس حلقہ میں ہونے والے ترقیاتی منصوبوں اور اقبال ٹا¶ن کی یونین کونسلوں کے مسائل اس کے یونین ناظموں، یونین نائب ناظموں اور کونسلروں کے ذریعے طے پاتے رہے، مکمل ہوتے رہے۔ پی پی 70 چونکہ سٹی ڈسٹرکٹ فیصل آباد سے پنجاب اسمبلی کا مرکزی حلقہ انتخاب ہے اور اس علاقہ سے تعلق رکھنے والے رکن پنجاب اسمبلی گذشتہ پانچ برسوں سے ملک کے سب سے بڑے صوبے کے سب سے زیادہ بااختیار وزیر ہیں۔ پی پی 70 کے علاقوں کو درپیش مسائل پر نوائے وقت کو سروے کے دوران علاقہ کے رہائشیوں نے بات چیت کی۔ پی پی 70 قومی اسمبلی کے حلقہ 84 میں شامل ہے۔ قومی اسمبلی کے اس حلقہ میں پی پی 69 اور پی پی 70 کے علاقے شامل ہیں اورسابق میونسپل کارپوریشن کے نامی گرامی سابق میئر چوہدری شیرعلی جو دو مرتبہ قومی اسمبلی کے رکن بھی رہے۔ ان کے صاحبزادے چوہدری عابد شیرعلی این اے 84 سے رکن قومی اسمبلی ہے۔ الیکشن 2008ءمیں بھی این اے 84 سے عابد شیرعلی رکن اسمبلی بنے۔ پی پی70 ایک طرف صوبائی وزیرقانون رانا ثناءاللہ خاںکا حلقہ انتخاب ہے اور دوسری طرف چوہدری عابدشیرعلی کے قومی اسمبلی کے حلقہ میں شامل ہے اور 1985ءکے بعد ایک آدھ مرتبہ پیپلزپارٹی کے ملک محمد اسماعیل عرف سیلا کی کامیابی کے علاوہ اس حلقہ انتخاب پر ہمیشہ مسلم لیگ(ن) کے سیاست دانوں کا قبضہ رہا ہے۔ 1985ءمیں اس حلقہ سے فضل حسین راہی اپنی انقلابی شخصیت کے باعث منتخب ہوئے تھے اور اس حلقہ کی بازیافت کے لئے پیپلزپارٹی الیکشن 2013ءمیں اس حلقہ سے فضل حسین راہی کی بیٹی ثروت فضل حسین راہی کو امیدوار کے طور پر اتارنا چاہتی ہے جبکہ ایک فعال امیدوار اس حلقہ میں تحریک انصاف سے بھی ائے گا۔ شہر کے نامور سیاست دانوں کے اس حلقہ انتخاب کے مسائل کو جاننے کے لئے نوائے وقت نے جو سروے کیا ہے ان علاقو ںکے لوگوں کے مطابق اس حلقہ انتخاب کے سب سے معروف محلہ سمن آباد، نثار کالونی اور مسعود آباد میں منشیات کادھندا زوروں پر ہے۔ چرس، ہیروئن کا سفوف اور نشہ آور ادویات سمن آباداور مسعود آباد کے ہر میڈیکل سٹور سے مل جاتی ہیں۔ ان کے علاوہ بھی اس حلقہ کے اکثر علاقوں میں سڑکیں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں۔ رانا ثناءاللہ سرسید ٹا¶ن سے رسالیوالہ ریلوے سٹیشن کی طرف جانے والی سڑک سے نہ تو تجاوزات ختم کراسکے اور نہ ہی اس کی دو رویہ پختہ تعمیر ممکن ہوئی ہے۔ ان علاقوں کے نوجوان چرس اور ہیروئن کا سرعام استعمال کرتے ہیں اور ان میں سے اکثر کو کسی روز بھی جہاز بنے پی پی 70 کے کسی نہ کسی محلہ سے اٹھایا جا سکتا ہے۔ سمن آباد صوبائی وزیرقانون کا رہائشی علاقہ ہے اور اس علاقہ میں صوبائی وزیر قانون کی شقاوت قلبی اور مختلف لوگوں کے خلاف پولیس چھتر¶ل کی داستانیں زبان زدعام و خاص ہیں۔ ہم نے سمن آباد، مسعود آباد اور نثار کالونی کے ”جہازوں“ اور ان علاقوں کے منشیات فروشوں کا نہایت تفصیل کے ساتھ ذکر کر دیا ہے۔امین آباد، سرسید ٹا¶ن اور متعدد دوسرے علاقوں کے حوالے سے نوائے وقت کی سروے ٹیمیں عوامی رابطوں میں ہیں۔ صوبائی وزیرقانون نے گذشتہ پانچ برسوں میں ترقیاتی فنڈز کے نام سے اربوں روپے حاصل کئے۔ یہ رقوم کہاں لگائی گئیں۔ کس کے ذریعے خرچ ہوئیں اور ان میں سے کس نے کتنا حصہ حاصل کیا اس سلسلہ میں پیپلزپارٹی کے مقامی لیڈروں کے پاس تفصیلات موجود ہیں۔ میں صرف یہ جانتا ہوں کہ نوائے وقت سروے رپورٹس میں ان علاقوں میں سیور ج کا نظام انتہائی بوسیدہ اور پرانا ہے اور سمن آباد ہو یا مسعود آباد ان علاقوں میں ہر شخص ابلتے گٹروں کا منظر دیکھ سکتا ہے۔ گلیوں اور بازاروں میں گٹروں کے پانی سے تعفن نے مکینوں کا سانس لینا دشوار کر دیا ہے۔رانا ثناءاللہ کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے اپنے حلقہ انتخاب میں اربوں روپے کے ترقیاتی کام کروائے ہیں لیکن مقام حیرت ہے کہ وہ مسعود آباد، نوابانوالہ، نثار کالونی اور مظفرکالونی کی ٹوٹی اور مسمار سڑکوں کو کیوں تعمیر نہیں کراسکے؟ ان علاقوں سے تجاوزات ختم کرنے سے شاید ان کے ووٹ بینک میں کمی آتی ہے لیکن رہائشی علاقوں میں آتش فشانی کے سامان کی تیاری، پتنگ کی ڈور اور دیگر ناجائز کاروبار شاید صوبائی وزیر قانون کو نظر ہی نہیں آتا۔ ان علاقوں کے اکثر میڈیکل سٹور سے نشہ آور ادویات فروخت ہو رہی ہیں اور ان علاقوں میں اڑتے ”جہازوں“ کو دیکھ کر کوئی بھی یہ کہہ سکتا ہے کہ پی پی70 کے مین علاقے نشہ کرنے والوں کی آماجگاہ بنے ہوئے ہیں۔ رانا ثناءاللہ خاں کو شاید گمان ہے کہ وہ مسلم لیگ(ن) کے امیدوار ہیں اور اپنے حلقے میں منشیات فروشی کے اڈوں کا خاتمہ اور جہازوں کی گرفتاری ان کی شہرت اور ساکھ کے منافی ہے مگر الیکشن 2013ءکی انتخابی مہم چلے گی اور ان کے پاس صوبائی وزارت قانون کا قلمدان بھی نہیں ہوگا تو علاقے کے حوالے سے منفی رپورٹس اور مسائل ان کے لئے لاتعداد مسائل کھڑے کر دینے کا باعث ہوں گی۔اگر وہ پی پی 70 سے ایک مرتبہ پھر منتخب ہونا چاہتے ہیں تو ان کے لئے اپنے ادھورے رفاعی کاموں کی تکمیل اور علاقے کی صفائی اور ستھرائی کے لئے بہت کم وقت باقی رہ گیا ہے۔ کیا صوبائی وزیرقانون لاہور سے چند یوم کے لئے اپنے حلقہ انتخاب تک آ سکیں گے؟