زرعی یونیورسٹی فیصل آباد کے زیراہتمام لائل پور--------ادبی و ثقافتی میلہ

12 مارچ 2013

تحریروترتیب: احمد کمال نظامی(بیوروچیف نوائے وقت)
ادب اور ثقافت کسی بھی سوسائٹی کی حقیقی عکاسی کے اہم عناصر ہیں معاشرتی خوبصورتیوں اور تمدنی رہن سہن کو جب ادب وثقافت کے حسین امتزاج کے ساتھ اجاگر کیا جاتا ہے تو اس سے رنگوں ‘روشنیوں اور رعنائیوں کے دھنک رنگ پھوٹتے ہیں ۔ مارچ کا مہینہ رنگوں اور خوشبوﺅں کے امتزاج کو سمیٹے ہوئے بہار کے ظہور کا اعلان کرتا ہے۔مختلف ادارے‘تنظیمیں اور ایسوسی ایشنیں بہار کا استقبال کرنے کے لئے مختلف ثقافتی سر گرمیوں کا انعقاد یقینی بناتی ہیں۔ زرعی یونیورسٹی پاکستان میں زراعت کی ترقی اور دیہی خوشحالی کےلئے 100سال سے زائد عرصہ سے مسلسل تعلیم و تحقیق کے ساتھ ساتھ دیہی ثقافت کے رنگوں کو اجاگر کرنے میں مصروف ہے ۔ اس یونیورسٹی نے گزشتہ پانچ سالوں کے دوران جشن بہاراں کی صورت میں ایک ایسی خوشبوﺅں بھری روایت کا آغاز کیا ہے جس کے حسین رنگ میڈیا کے ذریعے نہ صرف پورے ملک میں بلکہ بین الاقوامی سطح پر دیکھے جا سکتے ہیں ۔ حال ہی میں بر صغیر پاک و ہند میں زرعی علوم کی اس پہلی دانش گاہ نے لائل پور لٹریچر اینڈ کلچرل فیسٹیول کے انعقاد کا فیصلہ کیا جس میں آل پاکستان سٹوڈنٹ ویک‘کتاب میلہ اور سپورٹس گالا پر مشتمل لٹریچر و کلچرل پرو گراموں کی حسین دھنک سجائی گئی اس فیسٹیول میں ملک کے طول و عرض کے ساتھ ساتھ آزاد کشمیر و گلگت بلتستان سے 31جامعات کے دو سو سے زائد طلباءو طالبات نے تقریری مقابلہ جات‘مباحثوں ‘ پنجابی ٹاکرے ‘کوئزمقابلہ جات‘مقابلہ نظم ونثر‘قرات اورنعت‘بیت بازی ‘علاقائی گیتوں ‘تمثیل اور دیگر مقابلہ جات میں اپنی تخلیقی صلاحیتوں کا اظہار بھر پور انداز سے کیا۔اس ادبی و ثقافتی میلے میں ملک کے ممتاز ناشرین‘ پبلشرز اور بک سیلرز سائنسی‘ معاشی‘ معاشرتی‘ شعر و ادب‘ مذہبی‘ تاریخی ‘فلسفہ اورماحولیات و گلوبل موضوعات پرلکھی گئی ہزاروں کتابوں کے ساتھ شریک ہوئے ۔ صبح نو سے رات گئے تک جاری رہنے والے ان مقابلہ جات میں مختلف جامعات کے طلباوطالبات نے اقبال آڈیٹوریم میں ہزاروں شائقین کی موجودگی میں اپنی تخلیقی نفاستوں کا انتہائی عمدگی کے ساتھ اظہار کیا ۔ یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفےسر ڈاکٹراقراراحمدخاں نے سینئرٹیوٹر پروفیسرڈاکٹر اسلم پرویز و دیگر منتظمین کو خصوصی طور پر ہدایات جاری کر رکھی تھیں کہ مقابلوںمیں شریک سینکڑوں طلباءو طالبات اور اساتذہ کیلئے بہترین سہولیات کا انتظام کیا جائے تاکہ یہاں سے وہ ایک مثبت اور تعمیری تاثر لیکر واپس جائیں۔کلچرل اور لٹریچر فیسٹیول کے دوران مختلف مقابلوں میں 60 طالبات کے ساتھ ساتھ ایک سو سے زائد طلباءمسلسل اپنی صلاحیتوں کا اظہار کرتے رہے جسے نوجوانوں کی بڑی تعداد نے بہت پسند کیا ۔افتتاحی تقریب میں وائس چانسلرپروفیسرڈاکٹراقراراحمدخاںنے مختلف جامعات سے آئے ہوئے طلبہ و طالبات کو کہا کہ وہ ایک تاریخی دانش گاہ میں اپنی بصیرت کی روشنیاں بکھیرنے آئے ہیں لہذا یہاں کے اساتذہ و طلبہ و طالبات اس روشنی سے اپنے لئے نئے راستے بنائےں گے اور اسی چراغ کو لے کر ملک بھر کی دیگر یونیورسٹیوں میں اپنی جامعہ کے سفیر بن کر جائیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں طلبہ کی سطح پر بین الجامعتی رابطے کا کوئی فورم دستیاب نہیں لہذااس قسم کے آل پاکستان سٹوڈنٹس ایونٹس انہیں ایک دوسرے کے تجربات سے فائدہ اٹھانے اور تبادلہ خیال کرنے کے مواقع بہم پہنچاتے ہیں۔اس موقع پر سینئر ٹیوٹر پروفیسرڈاکٹر اسلم پرویز نے بتایا کہ آل پاکستان مقابلہ جات کا مقصد یونیورسٹی کے طلباوطالبات کو چاروں صوبوں کے طلباءسے پیشہ وارانہ سطح پرتبادلہ خیال اوراپنی صلاحیتوں کے اظہار کے لئے مواقع فراہم کرنا ہے۔انہوں نے کہا کہ اس قسم کے پروگراموں کے ذریعے قومی سطح پر یکجہتی اور ہم آہنگی پیدا کی جا سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جامعہ زرعی فیصل آباد کے طلباءملکی سطح پر ہونے والے مقابلوں میں ہمیشہ نمایاں کردار ادا کرتے ہیں یہی وجہ ہے کہ گذشتہ سال مختلف مقابلہ جات میں یونیورسٹی کے 52طلباءنے گولڈمیڈل، 34 نے سلور میڈل اور 23 نے برا¶نز میڈل حاصل کئے جو کہ یونیورسٹی کی اعلیٰ کارکردگی اور نیک نامی کا واضح ثبوت ہے۔ انہوں نے کہا کہ سینئرٹیوٹرآفس طلباءکی تخلیقی صلاحیتیں نکھارنے اور انہیں عملی زندگی میں مقابلے کی بنیاد پر آگے بڑھنے کے لئے پلیٹ فارم مہیا کر رہا ہے ۔ لائل پور لٹریچر و کلچرل فیسٹیول کے پہلے روز سینئر ٹیوٹر آفس کے زیراہتمام آل پاکستان سٹوڈنٹ ویک کے سلسلہ میں منعقدہ حسن قرا¿ت و نعت مقابلوں میں بالترتیب پنجاب یونیور سٹی اور جی سی یونیورسٹی لاہور کے طلبہ نے کامیابی حاصل کی جبکہ مرکزی لائبریری میں جاری کتاب میلہ میں تین درجن سے زائد سٹالز پرمختلف موضوعات پر مبنی ہزاروں کتب میں شہر بھر سے کتاب دوست احباب نے خصوصی دلچسپی لی اور یونیورسٹی انتظامیہ کی جانب سے نمائش میں رکھی گئی کتب پر 20فیصد خصوصی رعائت حاصل کی جبکہ اقبال آڈیٹوریم میں جاری مقابلہ حسن قرا¿ت میں پنجاب یونیورسٹی لاہور کے حافظ محمد طیب نے پہلی‘ گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور کے حافظ رحمت اللہ نے دوسری جبکہ گجرات یونیورسٹی کے نقاش سعید نے تیسری پوزیشن حاصل کی۔مقابلہ حسن نعت گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور کے شہزاد خاں نے جیتا جبکہ پنجاب یونیورسٹی کے زین الحسن نے دوسرے اور پنجاب میڈیکل کالج فیصل آباد کی طالبہ آمنہ حسین تیسرے نمبر پررہیں۔اس موقع پر گلگت بلتستان سے حسن نعت میں شریک طالبہ بے نظیر بانو کو خصوصی انعام سے نوازا گیا۔صدارتی ایوارڈ یافتہ ثناءخوان سید زبیب مسعود شاہ ‘ ارشاد اعظم چشتی اور شاہد نیازی نے مقابلہ حسن نعت میں بطور جج فن کی گہرائیوں کا جائزہ لیا۔مذکورہ مقابلوں کے علاوہ پہلے روز مباحثہ کے ابتدائی مقابلے بھی منعقد ہوئے۔ فائنل راﺅنڈ میں دوسرے روز پنجابی ٹاکرہ گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور کے طالب علم حافظ محی الدین علی ورک نے جیتا جبکہ بہاﺅالدین زکریا یونیورسٹی ملتان کے اعظم گل نے دوسری اور جی سی یونیورسٹی فیصل آباد کے عمراصغر ورک نے تیسری پوزیشن حاصل کی۔مباحثوں کے ابتدائی راﺅنڈ سے سات جامعات کنگ ایڈورمیڈیکل یونیورسٹی لاہور‘ سرگودھا یونیورسٹی ‘ جی سی لاہور‘پنجاب یونیورسٹی لاہور‘ بہاﺅالدین زکریا یونیورسٹی ملتان‘ چناب کالج جھنگ‘ اور جامشورو یونیورسٹی نے فائنل راﺅنڈ کیلئے کوالیفائی کیا ۔کتاب میلے کی افتتاحی تقریب میں زرعی یونیورسٹی فیصل آباد کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر اقرار احمد خاں نے سٹال ہولڈرز اور بک سیلرز سے بات چیت کرتے ہوئے نوجوان طلبہ اور کتاب کے مابین تعلق کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی انتظامیہ شہر میں گزشتہ کئی برسوں سے نوجوان طلبہ اورشہر بھر سے کتاب دوست احباب کی سہولت کیلئے رعایتی نرخوں پر کتابوں کی فراہمی ممکن بنا رہی ہے جس وجہ سے شہر کا پڑھنے لکھنے والا اور آگے بڑھتا ہوا تشخص اُجاگر ہورہا ہے۔ ڈاکٹر اقرار احمد خاںنے بتایا کہ زرعی یونیورسٹی میں طلبہ کو نصابی و ہم نصابی سرگرمیوں میں بھرپور حصہ لینے کے مواقع دیئے جاتے ہیں اور یہاں نوجوانوں کی اخلاقی اور پیشہ وارانہ تربیت کیلئے درجنوں کلب مثالی اور تعمیری خدمات کے ساتھ اپنا وجود منوائے ہوئے ہیں۔ کتاب میلہ میں شہر کے کالجز اور دیگر جامعات کے طلبہ‘ اساتذہ‘ خواتین و شہر سے شعر و ادب اور کتب بینی کا شغف رکھنے والے سینکڑوں افراد مختلف سٹالز کا دورہ جاری رکھا اور اپنی پسندیدہ کتابیں خریدتے رہے ۔فیسٹیول کے تیسرے روز انگلش و اُردو مباحثوں کے ساتھ ساتھ ‘ کوئز مقابلے بھی جاری رہے جبکہ تیسرے پہر بیت بازی کے مقابلے منعقد کئے گئے۔ مباحثوں کی اوورآل ٹرافی گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور نے جیتی۔ انگلش مباحثہ جی سی لاہور کے خواجہ یاسین نے جیتا جبکہ ایف سی کالج چارٹڈ یونیورسٹی لاہور کے مومن نیازی نے دوسری اور پنجاب یونیورسٹی لاہور کے سبطین رضا نے تیسر ی پوزیشن حاصل کی۔ اُردومباحثوں میں پہلی پوزیشن پنجاب کالج لاہور کے حافظ فیصل ‘دوسری بہاﺅالدین زکریا یونیورسٹی ملتان کے وسیم خان جبکہ تیسری پوزیشن پنجاب یونیورسٹی لاہور کے حمزہ تارڑنے جیتی۔یونیورسٹی آف انجینئرنگ و ٹیکنالوجی کی ٹیم کوئز مقابلہ کی فاتح رہی جبکہ پنجاب یونیورسٹی اور سروسزانسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز لاہور نے بالترتیب دوسری اور تیسری پوزیشن حاصل کی۔انٹرفیکلٹی سپورٹس گالہ میں 400میٹر ریس کلیہ زراعت کے نیاز احمد نے جیتی‘ ویٹرنری سائنس کے قاسم عمر نے دوسری جبکہ کلیہ سوشل سائنسزکے ثناءاللہ تیسرے نمایاں اتھلیٹ رہے۔1500میٹر ریس کے فاتح سوشل سائنسز کے امتیاز علی رہے جبکہ کلیہ زراعت کے محمد زنیراور زرعی انجینئرنگ کے محمد عثمان یوسف نے بالترتیب دوسری اور تیسری پوزیشن حاصل کی آل پاکستان سٹوڈنٹ ویک میں بیت بازی‘ نظم‘ غزل کے مقابلوں میں اوورآل ٹرافی یونیورسٹی آف انجینئرنگ و ٹیکنالوجی نے جیتی۔بیت بازی کا فائنل مقابلہ پنجاب یونیورسٹی کے ذیشان چیمہ اور صفدر کاظمی نے یونیورسٹی آف انجینئرنگ و ٹیکنالوجی لاہور کے معیظ مرزا ور شہروز جاوید کو ہرا کر جیتاجبکہ سرگودھا یونیورسٹی کی روحی و ماریہ اختر نے یونیورسٹی آف گجرات کو شکست دے کر تیسری پوزیشن حاصل کی۔فوک گلوکاری میں پہلی دونوں پوزیشنیں پنجاب کالج لاہور کے علی بخش اورذیشان علی نے جیتی جبکہ اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کے فیضان علی نے تیسری پوزیشن حاصل کی۔غزل گائیکی کا مقابلہ پنجاب میڈیکل کالج کی آمنہ نے اپنے نام کیا جبکہ یونیورسٹی آف انجینئرنگ و ٹیکنالوجی لاہور کے عدیل قمراور یونیورسٹی آف پشاور کی ماریہ اقبال نے بالترتیب دوسری اور تیسری پوزیشن حاصل کی۔ اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کی صالحہ ظفر نے بہترین نظم پیش کرکے مقابلہ جیتا جبکہ یو ای ٹی لاہور کے محمد شفقت نے دوسری اور قراقرم یونیورسٹی گلگت کی طالبہ طاہرہ بتول نے تیسری پوزیشن حاصل کی۔

غیر ادبی و ادبی

ملک کی سیاسی و سماجی صورت حال سخت غیر ادبی ہے۔ وہ چاہے میاں صاحب کی عدلیہ ...