چاپلوسوں کی عید

آج کل سوشل میڈیا پر ایک لطیفہ بڑا وائرل ہورہا ہے کہ ایک افسر اپنے ماتحت کو پھٹیک ڈالتے ہوئے کہتا ہے جاو میرے لیے کسی اچھے سے جانور کا بندوبست کرو عید سر پر آگئی ہے میں نے قربانی کرنی ہے۔ ماتحت جو کہ پہلے ہی صاحب کی پھٹیکوں سے تنگ آچکا تھا ترنت بولا۔ حضور قربانی صرف اپنی حق حلال کی کمائی سے کی جاتی ہے کسی کے لائے ہوئے جانور سے نہیں ہوتی۔ صاحب بھی کرو قسم کے راشی تھے۔ دلیل دیتے ہوئے بولے بےوقوفا جن باتوں کا علم نہ ہو ان پر بحث نہیں کرتے۔ 
حضرت ابراہیم علیہ السلام کو بھی تو دنبہ فرشتوں نے لا کر دیا تھا۔ یہ تو ایک لطیفہ تھا لیکن لطیفے بھی ایسے ہی نہیں بن جاتے۔ یقین کریں کہ ایسے ایسے افسران موجود ہیں جو اپنا صدقہ اور خیرات دینے کے لیے بھی دوسروں کو پھٹیک ڈال دیتے ہیں۔ ایک سابق آئی جی پولیس نے اپنے ملازم کو کہا کہ جاو داتا دربار چوکی کے انچارج کے پاس اور اسے کہو کہ صاحب نے کہا ہے کہ دو دیگیں ایک نمکین اور ایک زردے کی لے کر میرے نام کی غریبوں میں بانٹ دے۔ ملازم چوکی انچارج کے پاس گیا تو اس نے صاحب کی فرمائش بتائی۔ چوکی انچارج بڑا سمجھدار تھا اس نے ملازم کو اعتماد میں لیا اور اسے کہا کہ میرے اتنے وسائل نہیں کہ صاحب کی پھٹیک برداشت کر سکوں اور نہ میں کسی پر ظلم کر سکتا ہوں کہ دوکاندار سے زبردستی دو دیگیں اٹھا کر صاحب کی فرمائش پوری کر دوں۔ میں دو شاپروں میں تمھیں چاول دیتا ہوں یہ جا کر صاحب کو دے دینا اور انھیں کہناکہ میں اپنی موجودگی میں دیگیں بانٹ کر آرہا ہوں۔ یہ تو کچھ خاص قسم کے افسران کی خصلت ہے۔ 
ہمارا معاشرہ بھی چاپلوسوں سے بھرا پڑا ہے لوگ تعلقات بنانے کے لیے اور کام نکلوانے کے لیے ایسی ایسی نیچ حرکتیں کرتے ہیں کہ انسان دنگ رہ جاتا ہے۔ چونکہ عید قریب آرہی ہے تو ہر طرف عید کا رنگ چھایا ہوا ہے ہر جگہ قربانی کے جانوروں پر گفتگو ہو رہی ہے۔ بعض چاپلوس اپنے تعلق داروں کے پاس جاتے ہیں اور پوچھتے ہیں آپ نے قربانی کا جانور تو نہیں خریدا۔ میں گاو¿ں گیا تھا وہاں مجھے سستے بکروں کی جوڑی مل گئی تھی۔ بڑے خوبصورت جانور ہیں ایک میں اپنے لیے لے آیا ہوں اور ایک آپ کے لیے۔ آپ نے اب جانور نہیں خریدنا عید سے ایک روز قبل جانور آپ کے گھر پہنچ جائے گا۔ کوئی کہتا ہے میں نے خود گاوں میں جانور پالے تھے ان میں سے ایک بکرا میں نے آپ کے لیے رکھ لیا تھا وہ میں گھر پہنچا دوں گا۔ اگر کوئی کہہ دے کہ میں نے جانور خرید لیا ہے تو نیا جال ڈالا جاتا ہے کہ آپ نے پریشان نہیں ہونا قصائی میرے ذمے ہے۔ میرے اپنے قصائی ہیں وہ بڑا اچھا گوشت بناتے ہیں۔ سب سے پہلے آپ کے جانور ذبح ہوں گے پھر وہ کہیں اور جائیں گے۔ 
بعض افسر بھی ایسے ہیں کہ وہ منڈیوں کےمنتظمین، متعلقہ پولیس اہلکاروں اور پٹواریوں کو اس طرح سے پھٹیک ڈالتے ہیں کہ ہمارا منڈی جانا معیوب لگتا ہے، تمھارے علاقے میں منڈی لگی ہوئی ہے کوئی سستا جانور ہی ارینج کروا دو۔ اور وہ پھر جو ظلم کرتا ہے وہ کسی آڑھتی کو کسی معاملہ میں پھنساتا ہے پھر اس سے جانور ہتھیا کر صاحب کی فرمائش پوری کرتا ہے۔ ذرا لائیو سٹاک والوں سے پتہ کریں ان کو کن کن افسروں کے فون آتے ہیں اور وہ کس کس طرح کی فرمائشیں کرتے ہیں یہ تو چاپلوسوں اور راشی افسروں کی دنیاکی چند جھلکیاں تھیں اب ذرا خودنمائی اور نمائشی پروگرام بھی ملاحظہ فرمائیں ہمارے معاشرے میں سب سے زیادہ گفتگو اس بارے میں ہو رہی ہوتی ہے کہ تم نے کتنے کا جانور خریدا ہے یا میں نے اتنے میں جانور خریدا ہے۔ پھر ایک سے زیادہ قسم کے جانور خرید کر شیخیاں بکھیری جاتی ہیں کہ ہم نے اتنے لاکھوں کے اتنے جانور خریدے ہیں۔ اب تو کئی لوگ یہ کہتے بھی سنے گئے ہیں کہ ہم نے قربانی کے لیے ایک یا دو کروڑ کے اتنے جانور خریدے ہیں۔ تم نے کتنے خریدے ہیں۔ پھر ایسی ایسی تضحیک آمیز باتیں کہ تم نے بکرا خریدا ہے یا مرغا؟ اس سے بہتر تھا تم مرغے کی قربانی کر دیتے، تم نے بچھڑا لیا ہے یا بکری لےآئے ہو۔ اس سے تو صحت مند بکری ہوتی ہے۔ چونکہ یہ دور سوشل میڈیا کا ہے تو جانوروں کے ساتھ ماڈلنگ کا بھی رواج عام ہو گیا ہے جانوروں کے ساتھ سیلفیاں اور قیمتیں بتا کر ویڈیو کلپ بنائے جاتے ہیں کہ میں نے یہ جانور اتنے لاکھ کا خریدا ہے۔ قربانی کی بھی نمودونمائش کی جاتی ہے اور مہنگے مہنگے جانور خرید کر اپنی امارت کا اظہار کیا جاتا ہے قربانی دراصل ایثار اور جذبے کانام ہے جسے حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کی اس قربانی کی یاد میں سنت کے طور پر ادا کیا جاتا ہے جس کی مثال نہیں دی جا سکتی۔ اللہ کے پاس نہ آپ کے جانوروں کا گوشت جانا ہے نہ خون۔ اللہ آپ کی نیتوں کو دیکھ رہا ہے۔ اللہ سب کی قربانی قبول فرمائے۔آمین۔

ای پیپر دی نیشن