سیاسی جہدوجہد میں برصغیر کے جیل جانے والے سیاسی قائدین

تحریر مہر عبدالخالق لک

کچھ دنوں سے سابقہ وزیراعظم عمران خان کی جیل کی تصویریں گردش کررھی ہیں۔ لائبریری دیکھ کر اچھا لگا۔ کہ پرانے لیڈرز اور سیاسی کارکنان کا جیل میں اڑونا بچھونا صرف کتابیں اور علم ھوتا تھا۔ مسلم لیڈرز۔ سنسکرت اور ھندو رھنما اردو اور قران حضرت احمد علی لاھوری اور سید داود غزنوی سے پڑھ رھے ہیں۔ جیل یاترا کی رویت ایوب خان نے سیاسی کارکنوں کی نرسری ختم کردی۔ ضیاالحق نے مفاد پرست پیدا کیے۔ مشرف نے سیاست وریاست کا قبلہ ھی سوساٹیز مافیا کی طرف موڑدیا۔ 
اب بات کرتے ہیں۔ برصغیر کے سیاسی قائدین کی جنہوں نے جیل میں بیٹھ کر مشاہدہ اور مطالعہ کے زور پر قوم کی رھنماءکی -
سیاستدانوں کے بارے میں عام تاثر یہی ہے کہ جیل ان کا دوسرا گھر ہوتا ہے ، اس تناظر میں اگر ہم برصغیر کی سیاسی جماعتوں اور ان کے قائدین کی زندگیوں کا جائزہ لیں تو ایک بات تو واضح ہو جاتی ہے کہ گانگریسی رہنما جیل جانے سے کبھی بھی پیچھے نہیں ہٹے تاہم مسلم لیگی رہنماوں کے مقدر میں جیل یاترا کم کم ہی دیکھنے میں آئی اور یہ روایت تاحال کئی ناموں میں منقسم مسلم لیگ نبھا رہی ہے۔ آج تقسیم ہند سے پہلے کے چند رہنماوں کا ذکر ہو جائے جنہوں نے کالی دیواروں کے اس پار بیٹھ کر بھی اپنی قوم کے اذہان میں روشنی آباد کی۔ اپنے قارئین کی سہولت کے لیے یہ تحقیقی مضمون تیار کیا ہے تاکہ مختصراً آپ کو ان شخصیات کے بارے میں علم ہو جائے جنہوں نے سیاسی سفر شروع کرنے سے پہلے یا بعد میں جیل اور سزاوں کا سامنا کیا۔
اس فہرست کا پہلا نام بھگت سنگھ کا ہے ، 23 مارچ 1931 کو لاہور میں ہی برطانوی راج کے دوران تین آزادی پسند انقلابی نوجوان بھگت سنگھ،راج گرو اور سھدیو کو پھانسی دے کر ہلاک کر دیا گیا تھا۔ ان تینوں پر برطانوی پولیس افسر سانڈرز کے قتل کا الزام تھا اور اسی جرم کی سزا میں انھیں پھانسی دی گئی۔ بھگت سنگھ اور ان کے ساتھی انقلاب پر یقین رکھتے تھے اور وہ بائیں بازو کی سیاست سے منسلک تھے۔بھگت سنگھ اور ان کے ساتھیوں کی موت کے بعد وہ برطانوی راج کے خلاف جدوجہد کی عظیم علامت بن گئے۔
 گاندھی جی کے نام سے کون واقف نہیں1913 میں انہوں نے جنوبی افریقہ میں مقیم ہندوستانیوں پر عائد تین پاونڈ ٹیکس کے خلاف تحریک شروع کی تھی۔اس تحریک کے دوران پہلی بار گاندھی نے جنوبی افریقہ میں کام کرنے والے ہندوستانی مزدوروں، کان کنوں اور زرعی مزدوروں کو متحد کیا اور ان کے رہنما بن گئےگذشتہ کئی سالوں کی اپنی جدوجہد کی مدد سے گاندھی نے 2221 افراد کے ساتھ نٹال سے ٹرانسوال تک احتجاجی مارچ کا فیصلہ کیا۔اسے انھوں نے آخری سول نافرمانی کا نام دیا۔ اس سفر کے دوران گاندھی کو گرفتار کر لیا گیا اور انھیں نو ماہ قید کی سزا سنائی گئی۔
تاہم ان کی شروع کردہ ہڑتال اور پھیل گئی۔ جس کے بعد جنوبی افریقہ کی برطانوی حکومت کو ہندوستانیوں پر عائد ٹیکس واپس لینا پڑا اور گاندھی کو جیل سے رہا کرنے پر مجبور ہونا پڑا۔جنوبی افریقہ میں برطانوی حکومت کے خلاف گاندھی کی اس فتح کی انگلینڈ کے اخبارات نے زبردست تشہیر کی۔ اس کامیابی کے بعد گاندھی بین الاقوامی سطح پر مشہور ہوئے۔ 1921 میں برطانوی حکومت نے گاندھی کو غداری کے الزام میں گرفتار کیا اور انہیں چھ سال کی سزا سنائی گئی۔ 
خان عبدالغفار خان کا تعلق چار سدہ سے تھا جن کو ’فرنٹیئر گاندھی‘ بھی کہا جاتا ہے۔ انگریزوں کے خلاف باچا خان نے تاریخی مزاہمت کی تھی۔باچا خان 1890 میں پیدا ہوئے تھے اور وہ خدائی خدمتگار تحریک کے بانی تھے جس کی بنیاد 1929 میں رکھی گئی تھی۔ تقسیم ہند سے قبل باچا خان اس خطے میں انگریزوں سے جان چھڑانا چاہتے تھے اور پشتون آبادی پر مشتمل پشتونستان بنانے کی جدوجہد میں تھے۔باچا خان کا عدم تشدد کا فلسفہ آج بھی لوگ یاد کرتے ہیں اور عدم تشدد کے فلسفے کے باجود باچا خان نے مختلف اوقات میں تقریبا 37 سال جیل کاٹی لیکن وہ اپنے نظریے سے نہیں ہٹے۔
پاکستان بننے سے قبل خیبر پختونخوا میں باچا خان کے بھائی ڈاکٹر خان صاحب کی صوبہ سرحد میں حکومت تھی لیکن تقسیم ہند کے بعد وہ حکومت ختم کی گئی اور 1948 میں باچا خان کو جیل بھیج دیا گیا وہ 1954 تک جیل میں رہے۔1958 میں جنرل ایوب خان نے مارشل لا نافذ کیا تو باچا خان کو وزارت کی پیشکش کی گئی لیکن باچا خان نے انکار کیا۔اس کے بعد ان کو 1964 تک جیل میں رکھا گیا اور خراب صحت کی وجہ سے رہا کردیا گیا۔ برطانیہ میں علاج کے بعد انہوں نے افغانستان میں خود ساختہ جلاوطنی اختیار کی۔جلاوطنی کے بعد 1972 میں وہ بھٹو کے دور میں واپس وطن آگئے جب باچا خان کے صاحبزادے عبدالولی خان کی نیشنل عوامی پارٹی نے اس وقت کے صوبہ سرحد میں حکومت قائم کی لیکن 1973 میں ذوالفقار علی بھٹو نے باچا خان کو ملتان میں گرفتار کرلیا اور 1976 میں رہا کردیا۔باچا خان 1988 میں لیڈی ریڈنگ ہسپتال پشاور میں انتقال کر گئے۔ 
29 دسمبر 1929 کو برصغیرکے سیاسی افق پر مجلس احراراسلام ایک نئی سیاسی جماعت کے طورپر سامنے ائی۔ جس کے بانیوں میں سیدعطاءاللہ شاہ بخاری، مولانا حبیب الرحمن لدھیانوی، مولانا سید محمد داو?د غزنوی، چودھری افضل حق، مظہرعلی اظہر اور شیخ حسام الدین شامل ہیں۔ سیاسی سطح پر کانگریس اور مسلم لیگ اور جمعیت علماءہند کی موجودگی میں مجلس احراراسلام کا قیام انفرادیت کی انوکھی مثال تھی۔مجلس احراراِسلام دیگر جماعتوں کے برعکس متوسط طبقہ کے رہنماﺅں اورکارکنوں کی ترجمان تھی، جو پہلے دن ہی سے کسی مخصوص طبقے، گروہ یا فرقے کی بجائے ایک ایسا متحدہ پلیٹ فارم بن گئی۔ جس میں بلا تفریق مسلک ہرطبقہ کا نمائندہ رہنما موجود تھا، چونکہ مجلس احراراسلام کے بنیادی مقاصد میں آزادی وطن اورتحفظ ختم نبوت ایسے عظیم اہداف شامل تھے۔ اس لیے کسی بھی مکتبہ فکر کے لیے احرار میں شمولیت کے لیے بے پناہ کشش پائی جاتی تھی۔احرارنے 1931 میں پہلی ملک گیر تحریک کشمیری مسلمانوں کے حق میں چلائی۔ جو تحریک خلافت کے بعد سب سے بڑی تحریک ثابت ہوئی۔ جس میں پچاس ہزار اَحرار کارکن گرفتارہوئے۔ اِس تحریک نے ہرطبقے کو متاثر کیا۔ احرار کے قائدین کا شمار بھی جیل جانے والوں اور لاٹھیاں کھانے میں کیا جاتا ہے۔

ای پیپر دی نیشن

دوریزیدیت کو ہمیشہ زوال ہے

سانحہ کربلا حق اور فرعونیت کے درمیان ااس کشمکش کا نام ہے جس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ بالآخر فتح حق کی ہوتی ہے امام حسین کا نام ...