قصور میں پھر درندگی: علاج اس کا اے چارہ....

12 جنوری 2018

انگریزی ادب میں Winter of Discontentکا اکثر ذکر ہوتا ہے۔ سردیوں کا وہ موسم جو دل کی مسلسل بے کلی کا سبب بن جائے۔ اک پل چین نہ آئے۔ پنجاب کے میدانوں اورخاص کر لاہور میں اس موسم کا خاص احساس نہیں ہوتا۔ میرے بچپن کی سردی میں دوپہر کی دھوپ اور شاموں کو انگیٹھی تپا کر اس کے گرد دوستوں کے ساتھ مونگ پھلیاں چھیل کر کھاتے ہوئے ہمیشہ خوشی کا احساس ہی ہوا۔ اسلا م آباد منتقل ہوا تو اپنے گھر اور پرانے دوستوں سے دوری نے مارگلہ پہاڑ کے دامن میں آئی سردی کے ساتھ نازل ہوئی تنہائی اور اداسی کی پہچان کروادی۔

اب کے برس کی سردی کے ساتھ آئی اداسی مگر ہرگز شاعرانہ نہیں ہے۔ ہر دن بُری خبروں کے ساتھ شروع ہوکر پریشان کردیتا ہے۔ بدھ کی صبح تو اس حوالے سے بہت ہی منحوس تھی۔ قصور کی زینب درندگی کا شکار ہوئی تو اہلیانِ قصور بھڑک اُٹھے اور ہمارے اپنے اسلام آباد میں احمد نورانی کے بعد ایک اور صحافی ”نامعلوم افراد“ کے تشدد کا ایک مصروف شاہراہ پر نشانہ بنا۔ طحہٰ صدیقی کی خوش نصیبی کہ بچ گیا۔ اسے مارنا شاید مقصود نہ تھا۔ محض ”عبرت کا نشان“ بنانا۔ تمام صحافیوں کو یہ پیغام دینا کہ اپنی اوقات میں رہیں۔ ریاست نے جو ”بیانیہ“ بنارکھا ہے اس سے ذرہّ بھر اختلاف کرنے کی ہمت بھی نہ کریں۔ ذاتی طورپر اگرچہ ”اپنا یہ حال کہ لٹ بھی چکے،مر بھی چکے“۔ صحافت اگر مجھ سے ”وہی انداز پرانے“ مانگے گی تو مایوس ہوگی۔ ربّ کریم سے فریاد ہے کہ وہ طحہٰ صدیقی کو سیلف سنسر بطورعادت اپنا کراپنی بیوی اور بچے کو مطمئن وخوش رکھنے کی توفیق عطا کرے۔ بزرگ کہا کرتے تھے کہ اخبار نویس کو خبر دینی چاہیے اور بذاتِ خود ”خبر“ بننے سے اجتناب۔ اپنی جوانی میں اکثر ملایہ مشورہ ”بزدلی“ پر قائل کرنے کا حیلہ نظر آتا تھا۔ وقت مگر مصلحت سکھا ہی دیتا ہے۔
”اپنے بچنے کی فکر کر جھٹ پٹ“ والے خوف ہی کی وجہ ہی سے میں قصور کی زینب کے بہیمانہ قتل کے حوالے سے ذہن میں اٹھے کئی سوالات کو ہوبہو اٹھانے کی ہمت سے محروم ہوں۔ تمام تر کوششوں کے باوجود ذہن سے لیکن The Nationکی 2015والی ایک خبر بھلا نہیں پارہا ہوں۔
درندہ صفت لوگوں کا ایک گروہ تھا۔ بچوں کو وحشیانہ تسکین کے لئے استعمال کرتے ہوئے ویڈیوز بناتا۔ 280کے قریب بچے اس گروہ کا نشانہ بنے تھے۔یہ سارے واقعات تواتر کے ساتھ بلھے شاہ سے وابستہ شہر قصور میں ہوئے۔ خبر جب ٹھوس شواہد کے ساتھ منظرِ عام پر آئی تو ہاہاکار مچ گئی۔ سو طرح کے جواز جن کے ذریعے بنیادی پیغام یہ دینا مقصود تھا کہ ”کہانی“ کچھ اور تھی۔جنسی جرائم اور وہ بھی اس گھناﺅنی تعداد میں ہمارے ”پارسا“ بنے معاشرے میں ممکن ہی نہیں۔ صحافی سنسنی خیزی پھیلاتے ہیں۔ ملک کو بدنام کرتے ہیں۔ بچے سب کے سانجھے ہوتے ہیں۔وغیرہ وغیرہ۔
بچے ہمارے ہاں مگر سب کے سانجھے نہیںرہے۔ ان کے ساتھ زیادتی کا چلن وسیع پیمانے پر ایک تلخ حقیقت کی صورت موجود ہے۔ ہم اس کا ذکر کرنے سے گھبراتے ہیں۔ زینب کی موت کے بعد جو غصہ بھڑکا تو حقیقت یہ بھی سامنے آئی کہ قصور شہر کے صرف دومخصوص تھانوں کی حدود میں، جو 6سے12کلومیٹر رقبے کا احاطہ کرتی ہیں،گزشتہ چند مہینوں میں 5بچیوں کو اغواءکیا گیا۔ ان کے اغواءکے تیسرے یا چوتھے دن اغواءشدہ بچی کی لاش کوڑے کے کسی ڈھیر پر پھینک دی جاتی ہے۔درندگی کا نشانہ بنی بچیوں کے جسم پر Forensicشواہد اور DNA Testsکافی واضح طورپر بتاتے ہیں کہ شاید کوئی ایک جنونی شخص مسٹری کرائمز کی کہانیوں والے Serial Killerکی صورت اس مکروہ کام میں جتاہوا ہے۔
صرف دو تھانوں کی حدود میں CCTVکیمروں اور جیوفینسنگ جیسی جدید ترین سہولتوں کے ذریعے مذکورہ شخص کی تلاش گھاس کے ڈھیر میں سوئی تلاش کرنے جیسا ناممکن دِکھتا ہدف ہوہی نہیں سکتا۔پولیس کو مگر تفتیش پر مجبور کون کرے۔حکمران ہمارے یقینا بے حس ہوچکے ہیں۔پنجاب کا المیہ ویسے بھی میٹرو بس، اورنج ٹرین، انڈر اور اوورہیڈ Bridgesکو گڈگورننس کی علامت بناکر دکھانا ہے۔ معاشرے کو مگر کیا ہوا۔ اوپر تلے پانچ ایک جیسی وارداتیں ہوجاتی ہیں اور مقامی سطح پر ہمیں ان وارداتوں کے بارے میں انسانی حوالوں سے درکار اضطراب کی کوئی سن گن نہیں ملتی۔
زینب کا واقعہ ہوا تو غصہ کا اظہار Mob Violenceکے ذریعے ہوا۔ گزشتہ کئی برسوں سے پنجاب کے متعدد شہروں میں عوام کے دلوں میں جمع ہوا غصہ Mob Frenzyکی صورت پھوٹ پڑتاہے۔ ”گڈ گورننس“ کا تقاضہ تھا کہ اس Frenzyسے نبردآزما ہونے کے لئے پولیس کی ایک مخصوص فورس تیار کی جاتی۔ لاٹھی چارج اور آنسوگیس پھینکنے سے بات نہ بنے تو فائرنگ شروع کردی جاتی ہے۔دنیا بھر میں Mob Frenzyپر قابو پانے کے لئے اس سے کہیں زیادہ مو¿ثر طریقے دریافت ہوچکے ہیں۔ ربڑکی گولیاں ہیں۔ایسے آلات بھی جن کا استعمال مظاہرین کو Stunکرکے ان کے حواس کو محض آواز اور روشنی کی شدت سے تھوڑی دیر کو سن کر دیتا ہے۔ چین جیسے ہمہ وقت جدید تر ہونے کی لگن میں مبتلا ملک میں شہباز شریف صاحب کی Punjab Speedکے بہت تذکرے ہیں۔ کاش وہ اپنی توانائی اور ذہانت کا کچھ حصہ اپنی پولیس کو جدید تر بنانے میں بھی صرف کرسکتے۔
پولیس کو Crowd Controlکا جو نظام انگریزوں نے سکھایا تھا اسے غیر مو¿ثر بنانے کے کئی طریقے میں نے طالب علمی کے زمانے میں دیکھ لئے تھے۔ فیلڈ رپورٹر ہوتے ہوئے میں نے ان کی بے اثری کو سینکڑوں بار دیکھا ہے۔حال ہی میں راولپنڈی کو اسلام آباد سے ملانے والے فیض ا ٓباد چوک پر جو دھرنا ہوا اس سے نبٹنے کے لئے بھی یہی طریقے استعمال ہوئے تھے۔ اور بالآخر ریاست کو ایک باقاعدہ ”صلح نامے“ کے ذریعے اپنی ہار تسلیم کرنا پڑی۔
کالم کے آغاز ہی میں عرض کیا تھا کہ زینب کے اغواءکے سانحے سے جڑے کئی پہلو ہیں جن کا ذکر شاید خوفِ فسادِ خلق سے فی الوقت ممکن نہیں۔ مثال کے طورپر اس کے ”غم“ میں مبتلا لوگوں کا فیس بک اور ٹویٹر پر اظہارِ بیان اور سب سے بڑھ کر چند شہبازمخالف سیاستدانوں کا اس پورے قصے میں رویہ۔ ان سب کا ذکر ضروری ہے۔ کینیڈا کا ایک ”شیخ السلام“ مگر بلا کی صورت ہم پر نازل ہوچکا ہے اور اس کے حواری ایک جنونی گروہ کی صورت عقل وخرد کو اس ملک سے ہانکادے کر دیس نکالے پر تلے بیٹھے ہیں۔
٭٭٭٭٭