الیکشن کے بعد ۔۔۔

بالآخر الیکشن ہو گئے نتائج آ نے کا طویل سلسلہ شروع ہوا اور کوئی بھی جماعت قومی سطح پر واضح اکثریت حاصل نہ کر سکی جس کی وجہ سے قوم کو ایک بار پھر معلق پارلیمنٹ ملے گی گویا
اک اور دریا کا سامنا تھا منیر مجھ کو
میں ایک دریا کے پار اترا تو میں نے دیکھا
تمام پارٹیاں الیکشن کے بعد حسب روایت دھاندلی اور دھاندلے کا شور مچا رہیں ہیں جیتنے والے ہارنے اور ہارنے والے جیتنے پر حیران و پریشاں ہیں زیادہ مینڈیٹ حاصل کرنے والے اپنی نشستیں کھوئے جانے کا شکوہ کر رہے ہیں اور الیکشن کے بعد بھی حسب منشا نتائج نہ ملنے پر لوگ ہیجان اور فرسٹریشن کا شکار ہیں صدر مملکت عارف علوی سمیت سنجیدہ عوامی اور سیاسی حلقے بجا کہہ رہے ہیں کہ اگر EVM الیکٹرانک ووٹنگ مشین کو عام انتخابات کے لئے استعمال کیا جاتا تو شاہد موجودہ صورت حال کا سامنا نہ کرنا پڑتا غیر سرکاری تنظیم فیئر اینڈ فری الیکشن نیٹ ورک فا فن کے مطابق خدشات شبہات اور نتائج میں غیر ضروری تاخیر نے الیکشن کے حسن کو گہنا دیا ہے اور ایک بار پھر الیکشن کمیشن کی کارکردگی پر سوالیہ نشان اٹھا دئیے ہیں کہ جس کا اپنا ہوم ورک ہی مکمل نظر نہیں آ یا عالمی سطح پر بھی ان خدشات کا اظہار کیا جا رہا ہے جس پر پاکستان کی عالمی دنیا میں جگ ہنسائی کا سامان پیدا ہوا ہے۔
 فافن کے سروے کے مطابق ایکشن میں پولنگ کا عمل شفاف تھا مگر آ ر او کی سطح پر بہت سے مسائل اور خدشات نے اس شفافیت کو داغدار کر دیا ہے پریزاڈنگ افسران کی طرف سے فارم 45 کے متنازعہ ہونے کے ساتھ ساتھ بعض حلقوں میں اس کی عدم فراہمی کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہے جبکہ اب فارم 47 پر تکیہ کیا جاریا ہے بہت سے ہارنے والون نے مخالفین کی جیت کو مشکوک قرار دیتے ہوئے عدالتوں سے رجوع کر لیا ہے موجودہ الیکشن کے نتائج خاصے سبق آ موز ہیں اس حوالے ڈے تمام اسٹیک ہولڈرز کو ایک پیج پر لانے کی ضرورت ہے جیتنے والوں کا مینڈیٹ تسلیم کرنے اور انہیں حکومت بنانے کی دعوت دینے سے ہی ملکی سیاست اور حکومت کا منظر نامہ واضح ہو پائے گا بصورت دیگر جو شاخ نازک پہ آشیانہ بنے گا وہ ناپیدار ہو گا ملک کو مسائل کی دلدل سے۔ نکالنے اور معشیت کی بہتری کے لئے ایک مضبوط حکومت کا ہونا ضروری ہے ورنہ اپوزیشن کے روائتی مخالفانہ حربوں اور کھینچا تانی کی وجہ سے الیکشن کا مقصد ہی فوت ہو جائے گا فافن کی رپورٹ کے مطابق اس بار الیکشن کا ٹرن آ وٹ 48 فی صد ہے یعنی 5 کڑور سے زاید ووٹ ڈالے گئے ہیں جن میں پہلی بار ووٹ ڈالنے والے نوجوانوں کی بھی خاصی تعداد شامل ہے یہ ایک حوصلہ افزا بات ہے لیکن ابھی ٹرن آ وٹ میں مزید اضافہ ہونا چاہیے عوام کو ووٹ کی طاقت کا اندازہ ہونا چاہیے اور ووٹ کی اہمیت کا ادراک بھی ووٹ سے ہی قو موں کی تقدیر بدلی جا سکتی ہے اور ملک کے حکومتی اور سیاسی نظام کو بہتر بنایا جا سکتا ہے الیکشن کمشن نے اگرچہ الیکشن کا انعقاد کر کے ایک مشکل ہدف ضرور حاصل کیا ہے لیکن اسکے اقدامات نے اس عمل کی شفافیت کو مشکوک بھی بنایا ہے ۔
اس الیکشن سے سبق حاصل کرتے ہوئے الیکشن کمیشن کو مستقبل میں بہتری کے اقدامات کرنا ہوں گے نتائج کی بروقت فراہمی کو یقینی بنانے کے لئے اگر ای وی ایم مشینوں کا اسعمال ناگزیر ہے تو اس کا اِستعمال کر لیا جائے تاکہ اس قسم کے خدشات کا بھی تدارک ہو سکے موجودہ الیکشن میں بھی حسب سابق بڑے بڑے برج الٹے ہیں اور سب سے زیادہ خوش کن پہلو یہ ہے کہ بار بار پارٹیاں بدلنے والوں کو اس الیکشن میں منہ کی کھانی پڑ ی ہے اور بڑے بڑے جیت کے بلند بانگ دعوے کرنے والے اپنی دو دو نشستوں سے بھی ہاتھ دھو بیٹھے ہیں اگر ملک میں اسی طرح تسلسل کے ساتھ صاف اور شفاف انتخابات ہوتے رہے تو مفادات اور پیسے کی سیاست کرنے والوں کا ہمیشہ کے لئے قلع قمح ہو جائے گا ووٹ خریدنے اور امیدواروں کی خرید وفروخت کے رحجان کی بھی حوصلہ شکنی ہو گی ریاست کے تمام اداروں کو ہم آ ہنگی کے ساتھ اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ 
امن وامان قائم کرنے والے اداروں کو سیاست اور سیاسی مخالفین کے استعمال کرنے کی روش بھی ترک کرنا ہوگی الیکشن کا اصل مقصد ملک سے بے یقینی اور مایوسی کی فضا کو ختم کرنا ہونا چاہیے عوامی مینڈیٹ کے احترام سے ہی ملکی مسائل اور معاملات کو حل کیا جا سکتا ہے اور ایک مضبوط حکومت کا قیام مضبوط ملکی معیشت کے لئے بہت ضروری ہے بصورت دیگر دلوں کی الجھنیں بڑھتی رہیں گی اگر کچھ مشورے باہم نہ ہوں گے اس الیکشن میں جو بے ضابطگیاں اور خلا نظر آ یا ہے اس کا بھی مستقبل میں تدارک ہونا ضروری ہے حلقہ بندیوں اور ووٹرز کے گھروں سے دور کے حلقوں میں رجسٹر کئے جانے والے ووٹوں کے اندراج کی شکایات کا ازالہ ہونا بھی ضروری ہے الیکشن کمشن کو کئی سال بعد ہونے والے انتخابات کے لئے شروع ہی سے اپنا ہوم ورک مکمل کرنا چاہیے عملے کی صحیح تربیت کے ساتھ ساتھ عوام میں بھی آ گاہی مہم کا اہتمام کرنا چاہتے ووٹ دینے کے طریق کار سے عوام کو آ گاہ کرنا چاہیے اس بار بہت زیادہ ووٹ مسترد۔ ہونا بھی خاصا تشویش ناک ہے الیکشن کمشن کو ایک فعال ادارے کی حیثیت سے سامنے آ نا چاہیے نہ کہ ایک متنازعہ ادارے کی حیثیت سے اس کے علاوہ دنیا میں جگ ہنسائی سے بجنے کے لئے تمام ملکی اداروں کو فعال اور صاف شفاف بنایا جائے تا کہ ہمارا شمار بھی ترقی یافتہ اور مہذب ممالک اور قوم میں کیا جا سکے اور ہم اگے کی طرف بڑھتے دکھائی دیں ناکہ لوٹ پھر پیچھے کی طرف اے گردش ایام تو والی صورت حال کا ہی سامنا رہے اور ہم اسی چال بے ڈھنگی کا شکار رہیں۔

ای پیپر دی نیشن