پیر ‘ 25؍ جمادی الاوّل‘1439 ھ ‘ 12؍ فروری 2018ء

12 فروری 2018
پیر ‘ 25؍ جمادی الاوّل‘1439 ھ ‘ 12؍ فروری 2018ء

شاہ رخ جتوئی جیل میں 2 دن گزار کر کمر تکلیف کے بہانے ہسپتال داخل 

ابھی عدالت کے حکم سے شاہ رخ جتوئی کو جیل یاترا پر گئے صرف دو دن ہی ہوئے تھے کہ موصوف کی کمر کا پرانا درد کسی دردِ عشق کی طرح پھر جاگ اُٹھا۔ اب اس کے ساتھ ہی جیل کے طبی عملے اور ڈاکٹر کی پھرتیاں بھی دیکھیں جنہوں نے فوری طور پر اسے ہسپتال داخل کرنے کا مشورہ بھی دے دیا۔ اب یہ شاہ رخ جتوئی کے گھر والوں کی دولت کی طاقت کے بل پر ہوا یا سیاسی دبائو پر ان باتوں کا جائزہ عدالت کو لینا ہو گا۔ جعلی میڈیکل سرٹیفکیٹ بنانا کونسا مشکل کام ہے۔ عدالت ذرا جیل کے طبی عملے اور ڈاکٹر کو جس نے رپورٹ لکھی ہے عدالت کے کٹہرے میں کھڑا کرے دودھ کا دودھ پانی کا پانی ہو جائے گا۔ اب بیمار قیدی سپیشل وارڈ میں اطمینان سے درد کے بہانے پہلے کی طرح بیڈ ریسٹ کے مزے لوٹے گا۔ آخر پہلے بھی تو دوران گرفتاری سارا عرصہ شاہ رخ جتوئی نے ہسپتال میں ہی گزارہ تھا۔ اب پھر کہانی وہاں سے ہی شروع ہو رہی ہے جہاں سے چھوڑی تھی۔
جب عدالت نے شاہ رخ کو رہا کرنے کا حکم دیا تھا تب تو وہ ہنستے مسکراتے اکڑتے سینہ تان کر عدالت سے نکل کر گھر روانہ ہوئے تھے اپنے حامیوں کے جلوس میں اس وقت ان کے چہرے پر ذرا بھر بھی کمر کے درد کا نشان تک نہ تھا جبکہ آخری پیشی پر بھی جب وہ ہسپتال سے آئے تھے تو پتہ چل رہا تھا کہ وہ بالکل فریش ہیں۔ اب دوبارہ کیس ری اوپن ہوتے ہی وہی
قدم گن گن کے رکھنے سے کمر بل کھا ہی جاتی ہے
والی حالت کیسے اچانک سامنے آ گئی۔ شاہ رخ کے لئے تو اس شعر کا اگلا مصرعہ ’’عدالت جیل بھیجے تو بیماری آ ہی جاتی ہے‘‘ ہی مناسب لگتا ہے!
٭…٭…٭…٭
بھارتی وزیراعظم کا دورہ فلسطین، اعلیٰ ترین اعزاز سے نوازا گیا
لیجئے جناب مبارک ہو مودی کو کہ فلسطین حکومت کے وزیراعظم نے انہیں فلسطین کا سب سے اعلیٰ سول اعزاز ’’گرینڈ کالر‘‘ عطا کیا ہے حالانکہ یہی مودی جی ابھی چند روز پہلے فلسطینیوں کے سب سے بڑے دشمن اور قاتل اسرائیل کے وزیراعظم کا ایک ہفتہ دہلی میں دورہ ہندوستان کے موقع پر کھلے دل اورکھلے ہاتھوں کے ساتھ بھرپور والہانہ استقبال اور مہمان نوازی کر چکے ہیں۔ اس اسرائیلی وزیراعظم نے جس کے دونوں ہاتھ فلسطینیوں کے خون سے تربتر ہیں نے کشمیریوں اور ہندوستانی مسلمانوں کے خون سے بھرے ہاتھوں والے مودی جی کو رج رج کے جپھیاں ڈالیں۔
اب فلسطینی قیادت کو تو سلیوٹ کرنے کو جی چاہتا ہے۔ جو اتنی دوراندیش ہے کہ اب تک اپنے دشمنوں تک کو نہیں پہچان پائی۔ کیا اسرائیل فلسطینیوں کا قاتل نہیں، کیا اسرائیل اور بھارت کا ایک ہی ایجنڈا نہیں کہ مسلمانوں کو خاص طور پر عربوں اور پاکستان کو تباہ کیا جائے۔ تو پھر یہ اپنے دشمنوں سے محبت کیسی…! افسوس مسلمانوں میں حمیت باقی رہی نہیں، جبکہ مودی کتنی چالاکی سے سیاست کھیل رہا ہے۔ فلسطینی بھی اس سے خوش ہیں اور اسرائیلی بھی اور ایک ہم ہیں کہ ہم سے کوئی بھی خوش نہیں…
کیا امریکہ ہمیشہ افغانستان میں رہے گا، بتائے اس کا منصوبہ کیا ہے: بلاول زرداری
پیپلز پارٹی کے نوجوان قائد جسے عام طور پر ابھی سیاسی بچہ بھی کہا جاتا ہے نے امریکہ میں بیٹھ کر ایسی مدبرانہ، ذمہ دارانہ اور سنجیدہ باتیں کرنا کیسے شروع کر دیں۔ ایسے سوالات تو امریکہ سے آج تک پاکستان کی کوئی حکومت بھی نہ کر سکی تھی نہ ہی کوئی اور ملک حتیٰ کہ خود افغانستان حکومت نہیں پوچھ سکی۔ لگتا ہے بلاول میں آہستہ آہستہ سیاسی بلوغت آ گئی ہے، وہ آہستہ آہستہ آگے بڑھ رہے ہیں جو خوش آئند ہے۔ گذشتہ روز بھی انہوں نے کھل کر امریکی صحافیوں سے کہا تھا کہ ’’افغانستان میں امن کے لئے پاکستان سے بات کرنا ہو گی۔‘‘ سچ بھی یہی ہے امن کا راستہ پاکستان سے ہی گزرتا ہے جو امریکہ خود بند کرنے پر تلا ہے جس کے نتائج بھی وہ خود ہی بھگتے گا۔
محسوس ہوتا ہے کہ بلاول نے زیادہ توجہ عالمی سیاست پر مرکوز کر رکھی ہے، بس اب اگر بلاول بھٹو سندھ پر بھی توجہ دیں جو ان کا اپنا صوبہ ہے اور وہاں انکی حکومت دس برسوں سے قائم ہے تو انکی بڑی مہربانی ہو گی۔ عالمی سیاست اپنی جگہ ووٹ عالمی پالیسیوں اور بیانات پر نہیں ملکی سیاست اور خدمت پر ملتے ہیں۔ سندھ کے حالات کافی ناگفتہ بہ ہیں۔ آپ کا کہنا درست کہ ’’ہم نے کراچی میں کچرا دان لگوائے‘‘ مگر حقیقت خود آ کر دیکھ لیں۔پورا کراچی کچرہ کنڈی بنا ہوا ہے۔ کوڑادان شاید حکومت سندھ کھا گئی ہے۔ کراچی کو پاکستان کا گندا ترین شہر کہنا غلط نہ ہو گا۔ اندرون سندھ کی حالت کے بارے میں کچھ کہنا ہی فضول ہے۔ وہاں کی حالت کراچی سے بھی بد تر ہے۔
٭…٭…٭…٭
مظفر گڑھ میں ناقص اشیاء رکھنے پر سیل دکان جمشید دستی نے زبردستی کھلوا دی
لگتا ہے دستی صاحب اسی سویٹ اینڈ جنرل سٹور سے ارزاں نرخوں پر مٹھائیاں اور سامان خریدتے تھے۔ اس لئے ان کی حمایت میں چڑھ دوڑے۔ اس دکان کو محکمہ فوڈ اتھارٹی نے چھاپہ مار کر ناقص اشیاء رکھنے پر سیل کیا تھا۔ اب اگر دستی جی کی طرح ’’وختی وختی نہ کر سختی‘‘ والا نعرہ لگا کر ہر ایرا غیرا سیل شدہ دکانوں کی سیل توڑنے آنے لگا تو پھر محکمہ فوڈ اتھارٹی کا تو خدا ہی حافظ۔ یہ کیسے عوامی نمائندے ہیں جو عوام کو مضر صحت چیزیں کھلانے کی حمایت کر رہے ہیں۔ سوال امیر غریب کا نہیں ناقص مضر صحت اشیاء رکھنے کا ہے۔ کوئی بھی دکاندار جو ایسا سامان رکھے گا فروخت کرے گا۔ اس کو قانون کی گرفت کا سامنا کرنے پڑے گا۔ تو اس پر دستی جی کو اچانک کیوں مروڑ اُٹھنے لگے۔ یہ عوام کی صحت کا معاملہ ہے ووٹوں کے نکتہ نظر سے اس کو نہ دیکھیں۔ غریب ہو یا امیر سب کو اصل اور معیاری اشیاء کی فروخت دکانداروں کی ذمہ داری ہے کیونکہ گاہک بے چارے تو پوری قیمت ادا کرتے ہیں۔ اگر پوری قیمت ادا کر کے بھی دو نمبر ناقص اور مضر صحت اشیاء لے کر زہر ہی کھلایا جا رہا ہے تو پھر ان عوام دشمنوں کیخلاف فوڈ اتھارٹی درست کام کر رہی ہے جو اسے کرنے دیں۔ عدالتوں کا بھی یہی حکم ہے جسکی دستی صاحب خلاف ورزی کر رہے ہیں۔