تین عورتیں! تین کہانیاں!

Aug 12, 2011

خالد احمد
ایک تھی ماں، اس کی تھیں دو بیٹیاں، دونوں اپنے اپنے گھروں کی تھیں، ایک دن بڑی بیٹی ماں جی کے پاس آئی اور بولی، ’اماں! دعا کر! بارش ہو اور خوب ہو! اور ہو بھی اسی ہفتے عشرے کے اندر اندر! ورنہ ’میرے ’جنے‘ کی ساری محنت اکارت ہو جائے گی!‘ ماں نے دعا دی اور بیٹی خوشی خوشی گھر لوٹ گئی! اگلے روز اس کی چھوٹی بیٹی ماں کے پاس آ دھمکی اور بولی، ’ماں! دعا کر اس ہفتے عشرے میں پانی کی بوند تو کیا برسے؟ بادل بھی نہ چھائیں ورنہ میرے شوہر کی ساری جمع پونجی اور کیا دھرا پانی میں گھل کر بہہ جائے گا!‘ ماں جی نے چھوٹی بیٹی کی فرمائش سنتے ہی پلو پھیلا کر دعا کرنا شروع کی، ’اللہ سائیں! میری دونوں بیٹیوں کو سدا سکھی رکھنا، مگر جانے کیوں؟ مجھے لگ رہا ہے کہ اس ہفتے عشرے میں میری دونوں بیٹیوں میں سے ایک کا ’ناس‘ وجے ای وجے! مولا! مجھے ان شیطانی خیالات سے محفوظ رکھ!‘

مولا نے تینوں کی سن لی! وہ کیسے؟ ہم آپ کو اس تحریر کے آخر میں بتائیں گے؟

کراچی میں اے این پی اور ایم کیو ایم کا ’بہناپا‘ اتنی تیزی سے پروان چڑھے گا؟ ہم سوچ بھی نہ سکتے تھے! مگر لگتا ہے کہ ان دونوں بہنوں کے شوہر بھی متضاد، متصادم اور متحارب پیشے سے منسلک ہیں، ممتا کی ماری پاکستان پیپلز پارٹی کی خواہشیں، دعائیں اور تمنائیں اپنی جگہ مگر ان دونوں بہنوں میں سے ایک کا ناس لگ جانا دیوار پہ لکھا نظر آ رہا ہے! اللہ تبارک وتعالیٰ ہمیں ان شیطانی وسوسوں سے محفوظ رکھے! مگر قرائین ہیں کہ جی ٹھہرنے نہیں دے رہے!

ہم گھوڑے پہ بیٹھے تو گھوڑے کے ٹرینر نے ’تا، تا، تا‘ کہہ کر تالی بجائی اور گھوڑا ہلکے ہلکے چلنے لگا! تو ہم سمجھے گھوڑا ہمارے اشارے پر چل رہا ہے، لہٰذا پورے زور سے باگ ہلائی مگر گھوڑے کی رفتار پر فرق نہ پڑا لہذا ہم نے بھی باگ ڈھیلی چھوڑ دی کہ شہہ سواری جاننے کا بنا بنایا تاثر بگڑ نہ جائے! لیکن یہ دیکھ کر کہ گھوڑے کی چال میں ابھی تک کوئی فرق نہیں آ پایا تو ہم سے رہا نہ گیا! ہم نے باگ ایک بار پھر سمیٹنا شروع کی اور ادھر ٹرینر نے بھی ’تال‘ بدل دی اور ’تاتا، تاتا‘ کہہ کر تالی بجا دی! تالی سنتے ہی گھوڑے نے سر اٹھایا، باگ ہلی اور گھوڑا ’دلکی‘ پڑ گیا! ہم سمجھ رہے تھے کہ باگ ہمارے زور بازو سے ہلی ہے مگر ٹرینر جانتا تھا کہ باگ میں یہ ہلکی سی ہل چل گھوڑے کی ’ہلکی سی منہ ماری‘ سے پیدا ہوئی ہے!

یہ ہل چل ہمارے زور بازو کا نتیجہ تھی؟ یا ہمارے گھوڑے کے زور گردن کا شاخسانہ؟ باگ کیونکر ہلی تھی؟ ہم یہ بات بھی اس تحریر کے آخر میں بتائیں گے!

اللہ تعالی کے فضل سے کہیں بارش ہو رہی ہے اور کہیں دھوپ پڑ رہی ہے، جہاں بارش ہو رہی ہے وہاں بیج پھوٹ رہے ہیں اور جہاں دھوپ پڑ رہی ہے وہاں چکنی مٹی کے گیلے مٹکے سوکھ رہے ہیں! ماں کے گھر پر بادل چھاﺅں کر رہے ہیں اور ہر کوئی اپنے اپنے گھر میں سکھی ہے! لیکن کراچی کے حالات ساون بھادوں ایک جیسے ہیں! محترمہ اے این پی کے شوہر نامدار اقتدار کے ایوانوں میں چکراتے چکراتے ان ایوانوں کے برآمدوں اور دالانوں سے بخوبی واقف ہو چکے ہیں اور جان گئے ہیں کہ اقتدار سے منسلک رہنا ایم کیو ایم کی دوستی سے بھی زیادہ ضروری ہے! کیونکہ محترمہ ایم کیو ایم کے شوہر نامدار کی دوستی کا واحد معیار اقتدار پرستی ہے! اور وہ جانتے ہیں کہ ٹرینر کی ’مخصوص تالی‘ بجتے ہی گھوڑا الف ہو جاتا ہے! ’گھڑ سوار‘ زمین پر ہوتا ہے اور تربیت یافتہ گھوڑا اسے ایک مہلک دولتی سے نواز کر سیدھا ٹرینر کے پاس جا کھڑا ہوتا ہے! وہ اس تجربے سے بذات خود گزر کر لندن نشین ہوئے ہیں اور اپنے سامنے جناب پرویز مشرف کو بھی لندن نشین ہوتے دیکھ چکے ہیں! لہٰذا تھوڑے لکھے کو بہت جانیں! خط کو تار سمجھیں اور اپنے طور طریقے بدلنے میں مناسب پھرتی دکھائیں! اللہ ہم سب کا حافظ و ناصر ہو! آمین!

مزیدخبریں