سیرت النبی ﷺ (۱)

ابو نصر سراج طوسی نے اپنی کتاب اللمع فی التصوف میں حضور نبی کریم ﷺ کی سیرت کے بارے میں لکھی گئی چند خوبصورت احادیث مبارکہ کی روشنی میں ۔
 آپ رحمة اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا : اللہ تعالی نے مجھے ادب سکھایا اور اچھا ادب سکھایا ۔ ایک دوسری روایت میں مروی ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا : میں اللہ تعالی کو تم سے بہتر جانتا ہو ں اور تم سے زیادہ اللہ سے ڈرنے والا ہو ں ۔
نبی اکرم ﷺ فرماتے ہیں کہ مجھے اختیار دیا گیا کہ میں ان دو میں سے ایک بات کو اختیار کرلوں۔ یا تونبی اور بادشاہ بنوں یا نبی اور بندہ ۔ جبرئیل علیہ السلام نے مجھے مشورہ دیا کہ تواضع اختیار کرو لہذا مجھے تو نبی اور بندہ ہونا پسند ہے کہ ایک رو ز کھاﺅ اور ایک روز بھوکا رہو ں ۔آپ ﷺ فرماتے ہیں کہ مجھے تمام دنیا پیش کی گئی مگر میں نے اسے قبول نہ کیا ۔ 
نبی کریم ﷺ نے فرمایا اگر میرے پاس احد پہاڑ کے برابر بھی سونا ہو تو میں اسے اللہ کی راہ میں خرچ کر ڈالوں گا ۔ اس میں سے صرف قرض ادا کرنے کے لیے کچھ رکھ لو ں گا ۔ ایک روایت میں مروی ہے کہ آپ ﷺ کے پاس دو قمیضیں نہ تھیں اور آپ کے لیے آٹا چھانا نہیں جاتا تھا ۔ آپ نے وصال فرمانے تک نہ اپنی مرضی سے اور نہ مجبور ھو کر کبھی بھی سیر ہو کر گندم کی روٹی نہیں کھائی ۔ آپ ﷺ اگر اللہ تعالی سے دعا کر تے کہ میرے لیے سونے کے پہاڑ بنا دیے جائیں اور مجھ سے اس کا حساب بھی نہ لیا جائے تو اللہ تعالی ضرور ایسا کر دیتا ۔
ایک بار بریرہ نے آپ ﷺ کے سامنے کھانا رکھا جس میں سے آپ نے تھوڑا سا کھا لیا ۔ دوسری رات وہی کھانا پھر اس نے پیش کیا ۔ اس پر آپ ﷺ نے فرمایا : کیا تو اس بات سے نہیں ڈری کہ قیامت کے روز اس کا دھوا ں ہو گا کوئی چیز آیندہ کیلئے اٹھا کر نہ رکھا کرو ۔ اللہ تعالی ہر آنے والے دن کا رزق دیتا ہے ۔یہ بھی آپ ﷺ سے مروی ہے کہ آپ ﷺ نے کھانے سے کبھی عیب نہیں نکالا ۔ خواہش ہوتی تو کھا لیتے اور اگر نہ ہوتی تو نہ کھاتے ۔ آپ کو اگر کسی دو چیزوں میں سے ایک کو پسند کرنے کو کہا جاتا تو آپ اسے اختیار کرتے جو زیادہ آسان ہوتی ۔ آپ ﷺ نہ تو زمیندار تھے اور نہ ہی تاجر ۔ آپ انکساری کے طور پر پشم کا لباس اوڑھتے ۔ پیوند لگا ہوا جوتا پہنتے ، گدھے کی سواری کرتے ، بکری دھوتے ، کپڑوں اور جوتوں کو خود پیوند لگاتے او ر گدھے پر سوار ہونے سے ناک نہ چڑھاتے اور ساتھ کسی اور کو بھی بٹھا لیتے ۔

ای پیپر دی نیشن