جو لوگ کہتے ہیں ڈیم کے لئے بھیک مانگ رہے ہیں انہیں شرم آنی چاہئے،کم ظرف لوگ ایسی سوچ رکھتے ہیں: چیف جسٹس

Sep 11, 2018 | 14:40

ویب ڈیسک

 چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار نے کہا ہے کہ اپنی مدد آپ کے تحت کام کرنے کے لئے بھیک مانگنا نہیں ہوتا جو لوگ کہتے ہیں ڈیم کے لئے بھیک مانگ رہے ہیں انہیں شرم آنی چاہئے، چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ وہ قومی مفاد کے لئے کام کر رہے ہیں اور کم ظرف لوگ تنقید کر رہے ہیں۔ مخالفین کو کچھ نہیں ملا تو ڈیم کی تعمیر پر مخالفت شروع کر دی۔ کم ظرف لوگ ہیں جو اس طرح کی سوچ رکھتے ہیں۔ ہم نے یہ کام قومی جذبہ کے تحت شروع کیا ہے۔ پنجاب کڈنی اینڈ لیور ٹرانسپلانٹ انسٹیٹیوٹ (پی کے ایل آئی) کے حوالے سے کیس کی سماعت کے دوران ٹھیکیدار   پیشکش کرتے ہوئے کہا کہ وہ سستے داموں ڈیم بنا کر دینے کو بھی تیار ہیں  جو ڈیم مجھ سے بنوانا ہے اس منصوبے کی دستاویزات دیں، ڈیم کو اصل لاگت سے کم خرچ پر بنائوں گا، جس پر چیف جسٹس کی ٹھیکیدار کو ہدایت کی کہ حساب کتاب لگا کر تحریری طور پر آگاہ کریں۔چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ جو لوگ قومی جذبہ کے تحت اپنی مدد آپ کے تحت کام کر رہے ہیں ان پر بلاوجہ الزام لگائے جا رہے ہیں۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ اپنی مدد آپ کے تحت کام کرنا بھیک مانگنا نہیں ہوتا اور قومی جذبہ کے تحت کام کرنے والوں کو بھکاری کہنے والے کم ظرف لوگ ہیں اور ایسے لوگوں کو شرم آنی چاہئے۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ قومیں اپنی مدد آپ کے تحت ہی کام کر کے آگے بڑھتی ہیں۔ چیف جسٹس نے تنقید کرنے والے لوگوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس قسم کی الزام تراشی سے باز آ جائیں۔ (TA/ZS/NSR)

مزیدخبریں