عزاداری میں کوئی رکاوٹ قبول نہیں کرینگے: حامد موسوی

Sep 11, 2018

راولپنڈی (نوائے وقت رپورٹ) تحریک نفاذ فقہ جعفریہ پاکستان کے سربراہ قائد ملت جعفریہ آغا سید حامد علی شاہ موسوی نے کہا ہے کہ عزاداری میں کوئی رکاوٹ قبول نہیں کریں گے‘ نئی حکومت نے تاحال محرم کے حوالے سے ہماری تجاویز کا جواب نہیں دیا‘ امریکہ چین کو ایک پلڑے میں رکھنا زیادتی ہے‘ افغان منی بھارت بن چکا ہے‘ حکومت اتحادیوں اور جماعت سے بلند ہو کر فصلے کرے‘ علماء بورڈ امن کمیٹیوں اور اسلامی نظریاتی کونسل میں کالعدم جماعتوں کی شمولیت لمحہ فکریہ ہے۔ انہوں نے تحریک کے ہیڈ کوارٹر علی مسجد میں پیر کو پریس کانفرنس میں 17 نکاتی ضابطہ عزاداری کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ 85ء کے موسوی جونیجو معاہدے پر عملدرآمد کیا جائے‘ اس معاہدے کی موجودگی میں کسی جلوس کو نہیں روکا جا سکتا‘ عزاداری میں کوئی رکاوٹ قبول نہیں کریں گے‘ حکومت وزارت داخلہ اور صوبائی سطح پر محرم کنٹرول روم قائم کر کے انہیں ٹی این ایف جے کی محرم کمیٹی عزاداری سیل سے مربوط کرے۔ انہوں نے کہا کہ ٹرین سروس سمیت زائرین کے مسائل حل کرنے کے لئے ہماری تجاویز پر عملدرآمد کیا جائے‘ گستاخانہ خاکوں کے مسئلے پر او آئی سی نے مجرمانہ غفلت کا مظاہرہ کیا ہے‘ حکمران خارجہ پالیسی پر عوام کو سچ بتائیں‘ حکومتیں کالعدم گروپوں کو پریشر گروپ کے طورپر استعمال کرتی ہیں‘ ہم کسی کے لئے استعمال ہوئے نہ ہوں گے‘ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے سوا مسئلہ کشمیر کا کوئی حل قبول نہ کیا جائے‘ عزاداری پر حلف نامے قبول نہیں‘ دھرنے والوں نے کون سے حلف نامے دئیے تھے‘ سیاسی جماعتیں عشرہ محرم کے دوران سیاسی سرگرمیاں معطل رکھیں اور نواسہ رسولؐ کی یاد کو ترجیح دیں‘ حکومت مقامی اور اعلیٰ سطح پر انتظامیہ کو عزاداری اور مجالس کے سلسلے میں تعاون کرنے کی ہدایات جاری کرے‘ نیشنل ایکشن پروگرام کی ہر شق پر عملدرآمد کیا جائے‘ ممنوعہ گروپوں کو نئے ناموں سے کام کرنے سے روکا جائے حکمران اور سیاستدان انہیں حلیف بنانے سے اجتناب کریں‘ انسداد دہشت گردی ایکٹ کی ہر شق پر سختی کے ساتھ عملدرآمد کیا جائے اور کسی کو بھی قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہ دی جائے۔ پریس کانفرنس میں تحریک نفاذ فقہ جعفریہ کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات سید قمر حیدر زیدی اور دیگر عہدیدار‘ علماء و ذاکرین بھی موجود تھے۔

مزیدخبریں