سابقہ حکومتوں نے زیرو کام کیا، ہمیں نصیحتیں نہ کریں، ملک کا دیوالیہ نکالا ہوا ہے: شفقت محمود

Sep 11, 2018

اسلام آباد (چوہدری شاہد اجمل) وفاقی وزیر تعلیم و فنی تربیت شفقت محمود نے کہا ہے کہ میںنے تعلیم کی وزارت کو چیلنج کے طور پر لیا ہے،90دن میں قومی تعلیمی پالیسی کے خدوخال پیش کر دیں گے،تعلیم کے شعبے کے مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کریں گے،اپنی وزارت کے طے شدہ مقاصد صوبوں کے ساتھ مل کر حاصل کریں گے ،وزارت کے تمام اداروں کا واضح مینڈیٹ ہو گا، کسی قسم کی ڈائون سائزنگ نہیں کی جائے گی،فکشنل میپنگ کے ذریعے کام کریں گے جس میں اداروں کے کام طے کیے جائیں گے،پاکستان میں اڑھائی کروڑ بچے سکولوں سے باہر ہیں جو ہمارے لیے لمحہ فکریہ ہے، نصاب کی تشکیل نو کے لیے بھی کام شروع کر دیا ہے ،مدارس کو بھی ساتھ بٹھائیں گے، پچھلی حکومتوں نے اپنے دورمیں زیرو کام کیا وہ ہمیں نصیحتیں نہ کریں تو بہتر ہے،اس وقت ملک کا دیوالیہ نکلا ہوا ہے فوری طور پر قرضے ادا کرنے کے لیے ساڑھے 12ارب روپے کی ضروت ہے،ان خیالات کا اظہار انہوں نے ’’نوائے وقت‘‘ سے خصوصی انٹر ویو میں کیا۔شفقت محمود نے کہا کہ میں نے وزارت کے مقاصد کو واضح کر دیا ہے یہ قومی سطح کے مقاصد ہیں ۔انہوں نے کہا کہ اس وقت پاکستان میں اڑھائی کروڑ بچے سکولوں سے باہر ہیں جن میں زیادہ تر بچے مڈل کلاس کی عمر کے ہیں،یہ بات ہمارے لیے لمحہ فکریہ ہے،انہوں نے کہا کہ میں نے تعلیم کی وزارت کو چیلنج کے طور پر لیا ہے ،تعلیم کے شعبے کے مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کریں گے،اس وقت ملک میں مختلف تعلیمی نظام موجود ہیں ،غریبوں کے ساتھ امتیازی برتائو کیا جاتا ہے ،ہمارا تعلیمی نظام غریب عوام کے لیے مسائل پید اکر تا ہے ،مدارس کا اپنا تعلیمی نظام ہے،ہماری کوشش ہے کہ ملک میں اہم مضامین کا ایک ہی نصاب نافذ کیا جائے،انہوں نے کہا کہ ہمارا تعلیمی معیار بہت خراب ہے ،بچوں میں لرننگ لیول انتہائی کم ہے ،ہم تعلیم کے معیار کو بھی بہتر بنائیں گے،انہوں کہا کہ ہمارا ایک اور مقصد ہر کسی کو پیشہ وارانہ ہنر سکھانا ہے تاکہ ملک سے بے روزگاری کا خاتمہ کیا جاسکے،انہوں نے کہا کہ ہم اپنی وزارت کے طے شدہ مقاصد صوبوں کے ساتھ مل کر حاصل کریں گے اس وقت تین صوبوں کی ہماری حکومت ہے چوتھے صوبے کو بھی ساتھ ملا کر چلیں گے،شفقت محمود نے کہا کہ تعلیمی ٹاسک فورس کا اجلاس ہوا ہے جس میں چاروں صوبوں کی نمائندگی موجود تھی ،چاروں صوبوں کے ذیلی گروپس بنا دیئے ہیںکو شش کریں گے کے آئندہ ماہ کے آغاز میں ہی وزیر اعظم کو اپنی ابتدائی سفارشات پیش کر دیں۔انہوں نے کہا کہ 90دن میں قومی تعلیمی پالیسی کے خدوخال پیش کر دیں گے،نئی تعلیمی پالیسی کے خدوخال میں وزارت کے طے شدہ چاروں مقاصد ستونوں کے طور پر کردار ادا کریں گے،وزارت کی از سر نو ترتیب کار بھی انہی چار ستونوں کے تحت ہو گی۔وزیر تعلیم نے کہا کہ وزارت کے اداروں کا جائزہ لیا جائے گا اور بعض اداروں کو دوسرے اداروں میں ضم کرنے کا بھی سوچ رہے ہیں،تمام اداروں کا مینڈیٹ واضح ہو گا تاہم کسی قسم کی ڈائون سائزنگ نہیں کی جائے گی،ہم فنکشنل میپنگ کے ذریعے کام کریں گے جس میں اداروں کے کام طے کیے جائیں گے۔انہوں نے کہا کہ پورے پاکستان میں ایک ہی سکول چھوڑنے کا سرٹیفیکیٹ ہو گا،ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ وزارت کیڈ کو تحلیل کرنے کا اصولی فیصلہ ہو گیا ہے ،اس کے مزید مندرجات طے کیے جا رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ نصاب کی تشکیل نو کے لیے بھی کام شروع کر دیا ہے ،مدارس کو بھی ساتھ بٹھائیں گے، شفقت محمود نے کہا کہ 18ویں ترمیم ہمیں سندھ کے عوام کو یکساں تعلیم سے نہیں روکتی سندھ میں گذشتہ دس سال سے سندھ کی حکومت ہے انہوں نے تعلیم کے حوالے سے زیرو کام کیا ہے سینیٹر رضا ربانی نصیحت نہ کریں تو بہتر ہے پورے ملک میں یکساں نظام تعلیم لانے کی اپنی کوشش جاری رکھیں گے ۔ایک سوال کے جواب میں سفقت محمود نے کہا کہ قائداعظم یونیورسٹی اسلام آباد کی حالیہ صورتحال اور مسائل افسوس ناک ہے ،موجودہ وائس چانسلر آئندہ ماہ ریٹائرڈ ہو رہے ہیں،نئے وسی کی تعیناتی کا عمل شروع ہو چکا ہے،انہوں نے کہا کہ چیئرمین ایچ ای سی ڈاکٹر طارق بنوری پڑھے لکھے اور تعلیم یافتہ شخص ہیں،مجھے ان پر مکمل اعتماد ہے امید ہے کہ وہ ملک میں اعلیٰ تعلیم کے فروغ کے لیے اپناکردار ادا کریں گے،ایک سوال پر شفقت محمود نے کہا کہ ایچ ای سی کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر کی ڈگری کے حوالے سے معاملات کا جائزہ لوں گا تاہم ایچ ای سی کو ایک خود مختار ادارے کے طور پر کام کرنے دیں گے چھوٹے چھوٹے معاملات میں مداخلت نہیں کریں گے۔ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ پچھلی پنجاب حکومت میں خود کو مینج کرنے کی صلاحیت ہی نہیں تھی،انہوں نے سب کچھ برباد کر دیا،انہوں نے کہا کہ پچھلی حکومتوں نے اپنے دورمیں زیرو کام کیا وہ ہمیں نصیحتیں نہ کریں تو بہتر ہے،اس وقت ملک کا دیوالیہ نکلا ہوا ہے فوری طور پر قرضے ادا کرنے کے لیے ساڑھے 12ارب روپے کی ضروت ہے،انہوں نے کہا کہ سابق حکومت نے تعلیم کو ترجیح نہیں دی،ہم تعلیم کو اپنی ترجیح بنائیں گے۔تعلیم حکومتوں کی ترجیح اس لیے نہیں رہی کیونکہ اشرافیہ نے اپنے بچوں کے لیے تو الگ تعلیمی نظام بنا لیے تھے تو انہیں غریبوں کے بچوں کی فکر کیونکر ہو گی۔

مزیدخبریں