ملکی زراعت کو تباہ کردیا، کسان دشمن پالیسیاں بنائی گئیں

Sep 11, 2018

اسلام آباد(جنرل رپورٹر) گزشتہ حکومتوں نے ملکی زراعت کو تباہ کردیا ہے جس کی وجہ سے ملک میں بے روزگاری، غربت میں اضافہ، برآمد ت اور زرمبادلہ کے ذخائر میں خطرنا ک حد تک کمی ہوچکی ہے، پی پی پی اور ن لیگ کے دور حکومتوں میں کسان دشمن پالیسیاں بنائی گئی تھیں،ملک کی70فیصد معیشت زراعت پر منحصر ہے۔ ان خیالات کا اظہار پیر کو نیشنل پریس کلب اسلا م آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کسان اتحاد کے چیئر مین راؤ طارق اشفاق سمیت دیگر کسانوں نے کیا اورکہا کہ موجودہ حکومت نے ملک میں کرپشن کے خاتمے اور ملکی پیداوار میں اضافے کا نعرہ لگایا ہے، موجودہ حکومتی کابینہ سے ملاقات کے بعد کسانوں کی حالت زار کو بہتر بنانے کے لئے وزیرا عظم کی جانب سے زرعی ٹاسک فورس تشکیل دی گئی ہے جس پر کسانوں نے کہاہے کہ ٹاسک فورس میں ہمارے نمائندوں کو بھی شامل کیا جائے اور واپڈاکی زرعی ٹیوب ویلز پر کی گئی اووربلنگ، موٹر ٹیکس کا خاتمہ، اور یونٹ ریٹ میں لگایا گیا اضافی ٹیکس واپس لے لیا جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ عبوری حکومت نے کھادوں میں کافی حد تک اضافہ کیا ہے، ڈی اے پی کھا د کی فی بوری ریٹ 2600سے 3600روپے کردیا تھااور یوریا فی بوری میں 1300سے 1650روپے کا اضافہ کیا گیا ۔،کسانوں کا کہنا تھاکہ سابقہ قیمتیں بحال کی جائیں اور پیسٹی سائیڈز پر حالیہ اضافہ بھی واپس لے لیا جائے، فصلو ں کی نرخوں کے حوالے سے کہا کہ گنے کا فی من 250روپے جبکہ کپاس کا فی من 5000روپے مقررکیا جائے، گنے کے کاشتکاروں کے اربوں روپے کے بقایا جات جو کہ شوگر ملز مالکان نے روکے ہوئے ہیں وہ دلوائے جائیں خصوصاًپتوں کی شوگر مل جس میں کسانوں کے اربوں روپے بقایا ہے موجودہ حکومت نے اگرماضی کی طرح کسانوں کو ریلیف نہ دیا تو اپنے جائز حقو ق کو منوانے کے لئے ملک بھر میں احتجاجی مظاہرے کریں گے۔

مزیدخبریں