کوئی نیم سرکاری ادارہ وکیل کو ایک لاکھ روپے سے زائد فیس نہیں د ے سکتا، چیف جسٹس

Sep 11, 2018

اسلام آباد ( نمائندہ نوائے وقت) عدالت عظمیٰ نے عیسائی برادری کی شادیوں کی رجسٹریشن سے متعلق کیس کا فیصلہ محفوظ کر لیا ہے، سماعت کے دوران چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ جو شخص مسلمانوں کی شادیوں کو رجسٹرڈ کرتا ہے وہی عیسائیوں کی شادیوں کو رجسٹر کر لے ،چیف جسٹس نے چیئرمین نادرا کو ہدایت دی کہ دستاویز میں ترمیم کیلئے آنے والوں کی نادرا معاونت کرے ۔چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے عیسائی برادری کی شادیوں کی رجسٹریشن سے متعلق کیس کی سماعت کی ،عیسائی کمیونٹی کے نمائندے نے عدالت کو بتایا یونین کونسل پیدائش،اموات اور شادیوں کی رجسٹریشن کی مجاز اتھارٹی ہے،یونین کونسل عیسائیوں کی شادیوں کی رجسٹریشن نہیں کرتی،جسٹس اعجاز الااحسن نے کہا عیسائیوں کی شادی رجسٹریشن کیلئے کسی ایک فرد کو یونین کونسل میں مختص کیا جاسکتا ہے،چیف جسٹس نے کہا ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل پنجاب بتائیں کہ انکی شادیوں کی رجسٹریشن میں کیا رکاوٹ ہے،پنجاب حکومت کے وکیل نے کہا ابھی تک عیسائی برادری نے ضابطے کے مطابق اپلائی نہیں کیا،چیف جسٹس نے کہا آپ کو متعدد بار کہا ہے آپنے لوگوں کو سہولیات فراہم کرنی ہیں،نظام کو آسان کیوں نہیں بناتے۔ عدالت عظمیٰ میں ای او بی آئی کیس کی سماعت کے دوران عدالت نے قرار دیا ہے کہ وکلاکو ایک لاکھ سے زائد فیس کی ادائیگی وزارت قانون کی اجازت سے مشروط ہے ،کوئی امتیازی سلوک نہیں ہوگا ۔چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے ای او بی آئی مقدمات میں وکلاکو بھارتی فیسوں کی ادائیگی کیخلاف کیس کی سماعت کی ۔چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے ریمارکس دیئے قانون کے مطابق کوئی نیم سرکاری ادارہ ایک لاکھ سے ذیادہ کسی وکیل کو فیس نہیں دے سکتا۔ عدالت نے قرار دیا وکلاکو ایک لاکھ سے ذیادہ فیس کی ادائیگی وزارت قانون کی اجازت سے مشروط ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کوئی امتیازی سلوک نہیں ہو گا،اسلام آباد ہائی کورٹ کے ان ججز کو بھی رقوم واپس کرنا ہوں گی جنھوں نے بطور وکیل فیس لی،قوم کے ٹیکس کے پیسے کا بے احتیاطی سے استعمال کیا گیا،ای او بی آئی کی مالی حالت خراب ہونے کے باوجود وکلاء کو بھاری فیسیں دی گئیں۔ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا ای او بی آئی نے وکلاکو مختلف مقدمات میں 5 کروڑ روپے ادا کیئے۔کیس کی سماعت دو ہفتوں کیلئے ملتوی کردی گئی ۔

مزیدخبریں