صدر نیشنل بینک معطلی کیس‘ حکومتی جواب نہ آنے پر عدالت کا ا ظہار برہمی

Sep 11, 2018

اسلام آباد (وقائع نگار) اسلام آباد ہائی کورٹ نے نیشنل بنک کے صدر سعید احمد کی معطلی کے خلاف درخواست پر وزارت خزانہ سے ایک ہفتے میں تحریری جواب طلب کر لیا ہے۔ عدالت نے حکم دیا ہے کہ تحریری جواب داخل نہ کرانے کی صورت میں آئندہ سماعت پر سیکرٹری خزانہ پیش ہو کر سوالوں کے جواب دیں۔ سعید احمد کی جانب سے بطور صدر نیشنل بنک معطلی کے خلاف درخواست کی سماعت پیر کو جسٹس اطہر من اللہ نے کی۔ گزشتہ سماعت پر درخواست گزار کے وکیل فیض رسول کے دلائل سننے کے بعد عدالت نے اٹارنی جنرل کو نوٹس جاری کیا۔ حکومت کی جانب سے جواب داخل نہ کئے جانے پر عدالت نے برہمی کا اظہار کیا اور حکم دیا کہ وزارت خزانہ ایک ہفتے کے اندر اندر عدالت میں تفصیلی جواب داخل کروائیں اور نیشنل بینک کے صدر کو معطل کئے جانے کی وجوہات بیان کریں۔ جواب داخل نہ کروانے کی صورت میں سیکرٹری خزانہ آئندہ سماعت پر ذاتی حیثیت میں عدالت میں حاضر ہوں اور اس کی وجوہات بیان کریں۔دوران سماعت درخواست گزار سعید احمد کے وکیل فیض رسول نے موقف اختیار کیا کہ سعید احمد باقاعدہ کنٹریکٹ کے تحت نیشنل بینک کے صدر کے فرائض انجام دے رہے تھے۔ دوران ملازمت انہوں نے قانون و ضوابط کی کبھی خلاف ورزی نہیں کی اورنہ کبھی ان کے خلاف کوئی محکمانہ انکوائری اور چارج فریم ہوا اور نہ ہی کوئی شوکاز کیا گیا۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کو بغیر سنے ، بغیر کسی کارروائی اور الزام کے ان کی معطلی غیر قانونی ہے۔

مزیدخبریں