بھاشا ڈیم کا ماضی اور مستقبل

Sep 11, 2018

طیبہ ضیاءچیمہ ....(نیویارک)

مشرف حکومت نے بھاشا ڈیم کاتخمینہ لگانے کا کام شروع کروایا تھا۔

ڈیم کے تفصیلی نقشے تیار کئے جانے لگے. 30 دیہات اس ڈیم کی زد میں آ رہے تھے اور 20 ہزار لوگوں کو نقل مکانی کرنا پڑ رہی تھی جنہیں حکومت نے یقین دلایا تھا کہ ان کا نقصان پورا کیا جائے گا۔ 2008ء یوسف رضا گیلانی نے ایکنک سے بھاشا ڈیم کے لئے منظوری حاصل کر لی اور اس کے بعد کونسل آف کامن انٹرسٹ میں موجود تمام صوبوں کے وزرائے اعلیٰ کی منظوری کے ساتھ ہی بھاشا ڈیم بنانے کا رستہ صاف ہو گیا۔

2011ء کو یوسف رضا گیلانی نے بھاشا ڈیم کا سنگ بنیاد رکھ دیا۔

اس منصوبے کی تعمیر کے لئے تقریباََ 1200 ارب روپے کی ضرورت تھی. ورلڈ بنک اور ایشیائی ترقیاتی بنک کو قرض کے لئے درخواست دی گئی جسے منظور کر کے ان بنکوں نے رقم دینے کی حامی بھر لی.

جیسے ہی منصوبے پر کام شروع ہوا بھارت نے حسب معمول چیخنا چلانا شروع کر دیا۔ بھاشا ڈیم گلگت بلتستان میں بنایا جا رہا تھا. بھارت نے ورلڈ بنک اور ایشیائی ترقیاتی بنک کو درخواستیں دینا شروع کر دیں کہ اس منصوبے کے لئے رقم فراہم نہ کی جائے کیونکہ یہ منصوبہ ایک ایسی جگہ پر بنایا جا رہا ہے جو کشمیر کا حصہ ہے اور کشمیر ایک متنازعہ علاقہ ہے۔ بھاشا ڈیم کو رکوانے کی بھارتی کوششیں اس وقت رنگ لے آئیں جب اگست 2012 میں ورلڈ بنک اور ایشیائی ترقیاتی بنک نے بھاشا ڈیم کی تعمیر کے لئے دی جانے والی رقم روک لی اور پاکستان سے کہا کہ بھارت لکھ کر دے دے کہ اسے اس منصوبے پر کوئی اعتراض نہیں تو ہم یہ رقم جاری کر دیں گے۔ یہ وہ دور تھا جب سپریم کورٹ نے یوسف رضا گیلانی کو گھر بھیج دیا تھا اور راجہ پرویز اشرف بطور وزیر اعظم حلف لے چکے تھے. راجہ پرویز اشرف کی حکومت بھاشا ڈیم کے لئے رقم کا بندوبست نہ کر سکی. حتیٰ کہ پیپلز پارٹی کا دور حکومت اختتام پذیر ہو گیا۔ 2013ء کے الیکشن میں مسلم لیگ ن جیت گئی۔ وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے دعویٰ کیا کہ حکومت نے ورلڈ بنک اور ایشیائی ترقیاتی بنک کو رقم فراہم کرنے کے لئے راضی کر لیا ہے. اور یہ بنک بھارت کی پروا کئے بغیر ہمیں بقیہ قرض جلد جاری کر دیں گے۔بھاشا ڈیم پر جلد کام شروع کر دیا جائے گا اور یہ منصوبہ 10 سے 12 سال میں مکمل ہو جائے گا۔ لیکن یہ اعلان بھی بے سود ثابت ہوا۔

بھاشا ڈیم کی کہانی 2008 میں شروع ہوئی تھی۔ 9 سال گزرنے کے بعد بھی جب اس ڈیم کی بیل منڈھے نہ چڑھ سکی تو بالآخر شاہد خاقان عباسی کی حکومت نے فیصلہ کیا کہ بھاشا ڈیم اپنی جیب سے بنایا جائے گا۔ ماہرین سے کہا گیا کہ حساب لگا کر بتاؤ کہ ڈیم کی تعمیر پر مزید کتنا پیسہ لگے گا. اور کس طرح کم سے کم پیسوں اور کم سے کم وقت میں ہم یہ ڈیم بنا سکتے ہیں۔

ماہرین نے حساب کتاب لگا کر بتایا کہ بھاشا ڈیم کی تکمیل کے لئے مزید 1370 ارب روپے درکار ہیں۔ ظاہر ہے کہ یہ رقم بہت زیادہ تھی۔لہٰذا بھاشا ڈیم کی تعمیر کا خواب ادھورا ہی رہا اور مسلم لیگ ن کی حکومت بھی اختتام پذیر ہو گئی۔ اس مشن کا بیڑہ چیف جسٹس سپریم کورٹ ثاقب نثار نے اٹھانے کا اعلان کر دیا اور ڈیم فنڈز جمع کرنا شروع کر دیا۔دیامر بھاشا ڈیم گلگت بلتستان کے ضلع دیامر میں دریائے سندھ پر گلگت اور چلاس کے درمیان تعمیر کیاجائے گا، منصوبے پر مجموعی لاگت کا تخمینہ14 ارب ڈالر ہے، ڈیم میں 375میگاواٹ کی 12 ٹربائنیں نصب کی جائیں گی،ڈیم کا پانی آبپاشی اور پینے کے لئے بھی استعمال کیا جائے گا۔ ڈیم کی بلندی 272میٹر اور اس میں 81لاکھ ایکڑ فٹ پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش ہوگی اور اس سے4500 میگاواٹ بجلی پیدا ہو گی۔ دیامر بھاشاڈیم کا سول ورک جاری ہے اور گزشتہ مالی سال کے دوران زمین کی خریداری کے لئے 130ارب روپے فراہم کئے گئے جبکہ رواں مالی سال کے پی ایس ڈی پی میں ڈیم کے لئے 27 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں۔ دیامر بھاشا ڈیم کی تعمیر سے تربیلا ڈیم کی زندگی 35 سال بڑھ جائے گی اور اس سے سیلاب کے خطرات سے بھی نمٹنے میں مدد ملے گی۔ 272میٹر بلند ڈیم کے سپل وے کے 14گیٹس ہوں گے۔ ڈیم میں دو زیر زمین پاور ہائوس تجویز کئے گئے ہیں۔ مہمند ڈیم کے اخراجات کا ابتدائی تخمینہ 938ملین روپے ہے۔ اب وزیراعظم عمران خان بھی ڈیم مشن کا حصہ بن چکے ہیں اور انہوں نے فیصلہ کیا ہے کہ بھاشا ڈیم ضرور بنے گا اور اس کے لئے اوورسیز پاکستانیوں کو فنڈز بھیجنے کی اپیل الیکشن میں بہترین نتائج دیں گے:حاجی شکیل شیخ

مزیدخبریں