’’ڈیم تو بن کر ہی رہے گا!‘‘

Sep 11, 2018

محمد اکرم چوہدری

’’ڈیم تو بن کر ہی رہے گا‘‘ یہ فقرہ اس قدرے دعوے کے ساتھ میں نے سنا اور سنا بھی ایسے شخص سے جس کی رائے ہمیشہ حکومت کے خلاف ہوتی ہے، دلیل میں اُس کا یہ بھی کہنا مزید خوش آئند تھا کہ جب وزیر اعظم پاکستان، چیف جسٹس آف پاکستان اور آرمی چیف آف پاکستان تینوں صاحبان خندہ پیشانی کے ساتھ اس پراجیکٹ کو مکمل کرنے کے حوالے سے پرعزم اور پراُمید ہوں تو یہ کیوں کر نہیں بنے گا۔ عمران خان، جسٹس ثاقب نثار اور جنرل قمر جاوید باجوہ جیسی تینوں شخصیات اپنے اپنے تئیں اس پراجیکٹ کی حفاظت کرنے کا اشارہ دے رہی ہوں تو میرے خیال میں کسی پاکستانی کو اس کار خیر میں پیچھے نہیں ہٹنا چاہیے۔ پورا ملک اس پراجیکٹ کو مکمل کرنے کے لیے کوشاں ہیں، اداکاروں سے لے کر سرمایہ کاروں تک سبھی اس فنڈ میں حصہ ڈال رہے ہیں، آخری خبریں آنے تک آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے فوج کی جانب سے ایک ارب روپے سے زائد کی رقم ڈیم فنڈ میں جمع کروائی۔ مذکورہ بالا ’’ناقد‘‘ مبارکباد کا مستحق اس لیے بھی ہے کہ وہ تمام تر مخالفت کے باوجود اس نیک کاز میں کسی قسم کا کیڑا نکالنے سے گریز کر رہا ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے پانی کے مسئلے کو پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ قرار دیتے ہوئے چیف جسٹس اور وزیراعظم ڈیم فنڈ کو اکٹھا کرنے کاا علان کرتے ہوئے تمام پاکستانیوں بالخصوص بیرون ملک مقیم پاکستانیوں سے فنڈ دینے کی خصوصی اپیل کی ہے۔اب یہ کہا جا رہا ہے کہ چندے سے ڈیم وغیر ہ نہیں بنتے تو ان کے لیے مصر کی مثال سب کے سامنے ہے، جہاں بارشیں نہ ہونے کے برابر ہوتی ہیںمگر وہ اپنے ڈیموں کی وجہ سے 1000 دن کیلئے پانی ذخیرہ رکھنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

اس حوالے سے گزشتہ دنوں وزیر اعظم عمران خان نے قوم سے مختصر خطاب میں نئے ڈیموں کی تعمیر کے لیے عطیات کی اپیل کی ۔ انہوں نے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں سے کہا کہ ہر پاکستانی اگر ایک ہزار ڈالر ڈیم فنڈ میں جمع کرائے تو زرمبادلہ کے ذخائر بڑھیں گے اور کسی غیر کے سامنے قرض کے لیے ہاتھ پھیلانے کی نوبت نہیں آئے گی۔ وزیر اعظم نے چیف جسٹس جناب جسٹس ثاقب نثار کے قائم کردہ ڈیم فنڈ کی ذمہ داری اٹھانے اور قوم کے پیسے کی خود حفاظت کرنے کا عہد کیا۔ وزیر اعظم عمران خان کی اس اپیل کو عوامی سطح پر سراہا جا رہا ہے اورعطیات جمع کرانے کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے۔ برطانوی پاکستانیوں کی ایک بڑی تعداد نے آبی بحران پر فوری قابو پانے کیلئے وزیراعظم کی خصوصی اپیل پر ’’ڈیم فنڈ‘‘ میں اپنے عطیات دینے کا سلسلہ بھی شروع کر دیا ہے۔ اس سے بڑی حیرانگی کی بات اور کیا ہو گی کہ ’’ڈیم فنڈ‘‘ میں پاکستانی اور کشمیری ہی حصہ نہیں ڈال رہے برطانوی گوروں اور گوریوں کی ایک بڑی تعداد نے بھی ا س ’’کاز‘‘ کو چیرٹی کا درجہ دیتے ہوئے عطیات دینے کا آغاز کر دیا ہے جبکہ ہائی کمشن لندن نے ’’ڈیم فنڈ‘‘ کیلئے پہلے ہی اکائونٹ نمبر جاری کر رکھے ہیں۔

درحقیقت پاکستان اس وقت کئی طرح کے مسائل کا شکار ہے۔ کئی مسائل کا تعلق بیرونی معاملات سے ہے لیکن بہت سی مشکلات ایسی ہیں جو نااہلی اور حکومتوں کی غفلت کے باعث دیو قامت ہوتی گئیں۔ گردشی قرضوں کا حجم بڑھتے بڑھتے اس سطح پر جا پہنچا ہے کہ قومی وسائل کو ہڑپ کرتا نظر آ رہا ہے۔ توانائی کا بحران کئی عشروں سے گھریلو اور صنعتی شعبوںکی پریشانی کا باعث بنا ہوا ہے لیکن سابق حکومتیں خاطر خواہ کام نہ کر سکیں۔ تکنیکی خرابیوں نے نندی پور‘ بہاولپور سولر پراجیکٹ‘ حویلی بہادر شاہ پلانٹ‘ قادر آباد کول پاور پلانٹ کو متنازع بنا دیا۔ کھربوں روپے کے فنڈز بدانتظامی اور بدعنوانی کی نذر ہو گئے۔ گردشی قرضہ ادا کرنے کا معاملہ من پسند لوگوں کی کمپنیوں کو امتیازی طور پر نوازنے کے باعث متنازع ہو گیا۔ سابق حکومت کے دور میں گردشی قرضے چھ ہزار ارب روپے سے بڑھ کر 30ہزار ارب روپے تک جا پہنچے۔ جس طرح ایک جاندار پانی کے بغیر زندہ نہ رہ سکتا اسی طرح ریاستوں کی بقا کے لیے بھی پانی ازحد ضروری ہے۔ جب پاکستان قائم ہوا تو ہر ایک پاکستانی کے حصے میں قابل استعمال پانی کی مقدار 5600کیوبک میٹر آئی۔ یہ صورت حال کس حد تک بگاڑ کا شکار ہو چکی ہے اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اب ہر پاکستانی کے لیے صرف ایک ہزار کیوبک میٹر پانی بچا ہے۔ اسی طرح پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت سے مجرمانہ چشم پوشی کی گئی۔ سوا ایک ارب آبادی والے ملک بھارت کے پاس 190دن تک استعمال کے قابل پانی ذخیرہ رکھنے کی گنجائش موجود ہے۔ مصر ایک ہزار دن تک پانی ذخیرہ رکھنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

بین الاقوامی ماہرین کی رائے میں کسی ملک کے پاس کم از کم 120دن تک اپنی ضروریات کے لیے درکار پانی کا ذخیرہ ہونا ضروری ہے مگر پاکستان صرف 30روز کے استعمال کا پانی ذخیرہ کر سکتا ہے۔ پاکستانی معیشت کا ساٹھ فیصد حصہ زراعت کے شعبے سے منسلک ہے۔ پانی کی کمی کے باعث بلوچستان کا بہت بڑا علاقہ بنجر ہو چکاہے۔ سندھ اور پنجاب کے کئی علاقوں میں فصلوں کی کاشت متاثر ہوئی ہے۔ دوسری طرف صورت حال یہ ہے کہ 2010ء سے 2014ء تک ہر سال زیادہ بارشوں کی وجہ سے سیلابی پانی فصلوں اور املاک کو برباد کرتا رہا۔ آج بھی بارش شدید ہونے پر کئی علاقے سیلاب میں گھر جاتے ہیں لیکن لائق فکر بات یہ ہے کہ اس اضافی پانی کو ہم ذخیرہ کر کے ان ایام میں استعمال نہیں کر سکتے جب ملک میں پانی کی کمی ہوتی ہے۔ پاکستان نے پانی کے دو بڑے ذخیرے تربیلا اور منگلا ڈیم کی شکل میں ساٹھ اور ستر کی دہائی میں مکمل کئے۔ یہ دونوں بڑے ڈیم نہ صرف آبپاشی کی ضروریات پوری کرتے ہیں بلکہ ان سے پن بجلی بھی حاصل ہوتی ہے۔ عالمی طاقتوں کی مسلسل مداخلت اور حکومتوں کی نالائقی کے باعث ایک منصوبے کے تحت پاکستان میں تیل سے بجلی پیدا کرنے کے یونٹ لگائے جانے لگے۔ یہ مہنگی بجلی صنعتوں کی بندش اور گھریلو صارفین پر بوجھ بڑھانے کا باعث بنی۔

اب ڈیم بنانے میں سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ بھارت کے دبائو اور امریکی ہدایات کے باعث عالمی بنک نے بھی اس منصوبے کے لیے فنڈز فراہم کرنے سے انکار کر دیا۔ امریکہ کا مفاد یہ ہے کہ ہم پن بجلی کی طرف نہ جائیں اور تیل کمپنیوں سے بھاری زرمبادلہ خرچ کر کے تیل خریدتے رہیں۔وزیر اعظم عمران خان نے 80لاکھ تارکین وطن سے جو اپیل کی ہے ان کی نصف تعداد نے مطلوبہ رقم عطیہ کر دی تو 40ارب ڈالر ملک میں آئیں گے۔ جو بھاشا ڈیم یا اس جیسے دیگر دو ڈیم بنانے کے کام لائے جا سکتے ہیں۔ بھارت کئی عشروں سے پاکستان کو پانی کی کمی کا شکار بنانے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے۔ حالیہ دنوں سندھ طاس واٹر کمیشن کا لاہور میں اجلاس ہوا۔ پاکستان کی طرف سے بھارت کے دو ڈیموں کی تعمیر سے پاکستان کو ملنے والے پانی کی مقدار متاثر ہونے کا اعتراض اٹھایا گیا تو بھارتی وفد نے پوچھ لیا کہ پاکستان کے پاس پانی ذخیرہ کرنے کا انتظام نہیں تو پھر یہ پانی سمندر میں کیوں ضائع جانے دیا جائے۔ ظاہر اس سوال کا جواب ہماری سابق حکومتوں کی نااہلی اور فیصلہ ساز اداروں کی ناکامی کے سوا کچھ نہیں۔ بہرکیف من حیث القوم ہم سب کا اب یہ اولین فریضہ ہے کہ اپنے ملک کے مسائل حل کرنے کے لئے ’’پاکستانی سیاسی‘‘ سوچ کے بجائے یہاں کی سیاست میں حصہ لیتے ہوئے اپنی مدد آپ کے تحت وطن کو خوشحال بنانے اور مسائل سے نجات دلانے کیلئے اپنے آپ کو وقف کر دیں یہی قائداعظم محمد علی جناح کی سوچ، یہی فکر اور یہی ان کا خواب جو پاکستان معرض وجود میں آنے کے بعد انہوں نے دیکھا اب پورا ہونے جا رہا ہے۔اس لیے یہ میرا بھی عزم ہے بلکہ ہم سب کا عزم ہونا چاہیے کہ اب ’’ڈیم تو بن کر ہی رہے گا‘‘۔

٭٭٭٭٭٭

مزیدخبریں