11ستمبر سے 11ستمبر تک

Sep 11, 2018

بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح پر برصغیر کے مسلمانوں نے الگ وطن کے حصول کی خاطر مکمل اعتماد کیا۔ قائداعظم ان کے اعتماد پر پورا اترے۔ ان کا مقابلہ صرف انگریز سے نہیں متعصب ہندو سے بھی تھا۔ جہاں یہ الگ الگ مسلمانوں کے لیے دل میں مخاصمت رکھتے تھے وہیں ہندوستان کے مسلمانوں کے خلاف ہندو اور انگریز متحد بھی تھے۔ انگریزوں کی مسلمانوں کے خلاف معاندانہ رویے کی وجہ 1857ءکی جنگ آزادی تھی جبکہ ہندو برصغیر میں مسلمانوں کی ہزار سالہ حکمرانی کے انتقام کی آگ میں جل رہے تھے۔ انگریز طاقتور حکمران تھے جبکہ اور ہندوﺅں کو اپنی اکثریت کا گھمنڈ تھا۔ ایسے میں آزاد مملکت کا حصول ایک خواب ہی نہیں محض سراب نظر آتا تھا مگر قائداعظم نے آزادی کو اپنی بہترین اہلیت اور صلاحیت کو بروکار لاتے ہوئے ممکن بنا دیا۔ ایسا شیر کے منہ سے شکار چھینے کے مترادف تھا۔

اُس دور میں آزادی سب سے بڑا چیلنج تھا۔ اس کے بعد پاکستان کو اسلامی فلاحی ریاست بنانا عظیم مقصد تھا۔ یہ مقصد حاصل ہو جاتا تو پاکستان ترقی و خوشحالی میں اپنی مثال آپ ہوتا۔ پاکستان یقینا نہ صرف ترقی یافتہ ممالک کی صف میں شامل ہوتا بلکہ ان ممالک میں سرِفہرست بھی ہوتا۔ قائداعظم کے لیے پاکستان کو ترقی یافتہ ممالک کے ہراول دستے میں شامل کرنا مشکل نہیں تھا۔ ان جیسا لیڈر مسلم لیگ کے پاس تھانہ ہی کانگریس کے پاس۔ نہرو کی بہن وجے لکشمی پنڈت جو خود بھی اعلیٰ پائے کی سیاستدان تھیں، اس نے تقسیم ہند کے موقع پر کہا تھا، مسلمانوں کے پاس گاندھی جیسے سو لیڈر ہوتے اور کانگریس کے پاس ایک جناح ہوتاتو انڈیا تقسیم نہ ہوتا۔ جہاں ایک وضاحت بھی ضروری ہے کہ پاکستان انڈیا سے الگ نہیں ہوا تھا۔ اس ملک کا نام انڈس ریور کی وجہ سے انڈیا تھا۔ ویسے اس ملک کو ہندوستان بھی کہتے تھے۔ انگریز نے برصغیر سے کوچ کیا تو وہ ہندوستان کو دو حصوں میں تقسیم کرکے گیا، ایک کا نام پاکستان اور دوسرے کا نام بھارت رکھاگیا۔ پاکستان کی تقدیر کے فیصلے محمد علی جناح کے ہاتھ میں آئے اور یہ بالکل صحیح ہاتھوں میں آئے تھے۔

نوزائیدہ مملکت کے معرضِ وجود میں آنے کے بعد لیڈرشپ کو بہت سے چینلجز ،مشکلات ،مسائل ا ور مصائب کا سامنا کرنا پڑا۔ ایک طرف لاکھوں لٹے پٹے بدحال مہاجرین کی آبادی کاری کا مرحلہ درپیش تھا، دوسری طرف بھارت نے کشمیر پر جارحانہ قبضہ کر لیا۔ قائداعظم کشمیر کی آزادی کے لیے اس قدر کمٹڈ تھے کہ انہوں نے پاکستان سے دوسرے فوجی سربراہ جنرل گریس کو لشکر کشی کے ذریعے کشمیرپر قبضہ کرنے کا حکم دیا۔ جنرل گریسی نے گورنر جنرل کے حکم کی بجاآوری نہ کی اس کا کہنا تھا کہ وہ پاکستان بھارت کی فوجوں کے مشترکہ کمانڈر فیلڈ مارشل ایکنلک کی کمانڈ میں کام کررہا ہے۔ ایک کمانڈر کی کمان میں دو فوجیں کیسے لڑ سکتی ہیں۔ اس سے قبل جنرل مسروی پاک فوج کے کمانڈر انچیف تھے۔انہی کے دور میں 22 اکتوبر 1947 کو آپریشن گلمرگ شروع ہوا اور پاکستانی قبائلی لشکر پیش قدمی کرتا ہوا سری نگر کے مضافات تک پہنچ گیا۔ تاہم کشمیر کے مہاراجہ ہری سنگھ نے 26 اکتوبر کو ریاست کی ’سٹینڈ سٹل پوزیشن‘ ترک کر کے جموں میں بھارت سے الحاق کی دستاویز پر دستخط کر دیے اور اگلے دن بھارتی گورنر جنرل لارڈ ماو¿نٹ بیٹن کی جانب سے الحاق قبول کرنے کے فوراً بعد بھارتی دستے سری نگر میں اترنے لگے اور قبائلی لشکر کو پیچھے دھکیلنا شروع کردیا۔جنگِ کشمیر یکم جنوری 1949 کو ’جو جہاں ہے وہیں رک جائے‘ کے اصول کے تحت اقوامِ متحدہ کی کوششوں سے تھمی۔ تاہم جنرل میسروی کی 35 سالہ فوجی ملازمت کی میعاد دس فروری 1948 کو دورانِ جنگ ہی ختم ہوگئی۔ نہ جنرل میسروی نے توسیع مانگی اور نہ ہی گورنر جنرل یا وزیرِاعظم کی جانب سے کوئی بیان آیا کہ لڑائی کے دوران میں گھوڑا بدلنا ٹھیک نہیں۔اگر ہمارے حکمرانوں کو گریسی کی خباثت کا علم ہوتا تو مسروی کو توسیع دیدی جاتی۔ بھارتی گورنر جنرل ماو¿نٹ بیٹن اور کمانڈر انچیف سر روب لاک ہارٹ جنرل میسروی سے خوش نہیں تھے کیونکہ میسروی نے انھیں قبائلیوں کی پیش قدمی کے بارے میں بروقت آگاہ نہیں کیا تھا۔ جنرل میسروی کا مو¿قف تھا کہ وہ ایسی رازدارانہ معلومات صرف پاکستانی گورنر جنرل اور حکومت کو دینے کے پابند ہیں۔

قائداعظم محمد علی جناح ایک ایک کرکے پاکستان کو درپیش مشکلات اور مسائل کو ختم کر رہے تھے۔ مہاجرین کی آبادکاری کا کام خوش اسلوبی سے جاری تھا۔ کشمیر پر ان کے عزم و ارادے میں کوئی کمی نہیں آئی تھی۔ ایک مضبوط اور مستحکم مملکت کی بنیاد پڑ رہی تھی کہ اس دوران ان کی علالت میں اضافہ ہوا اور جلد ہی راہی ملک عدم ہو گئے۔ یہ کہہ دینا بڑا آسان ہے کہ قائداعظم محمد علی جناح 11ستمبر 1947ءکو اپنے خالق حقیقی سے جا ملے مگر یہ قوم پر کڑا وقت تھا، جس کے سامنے مشکلات کے پہاڑ کھڑے اور مصائب کے قلزم بہہ رہے تھے۔

11ستمبر2001ءکو سانحہ نائن الیون برپا ہوا اس نے امریکہ کو ہلا کر رکھ دیا۔یہ کوئی ڈرامہ تھا یا حقیقت تھی،اس نے امریکہ کی نس نس میں مسلمانوں کے خلاف نفرت اور انتقام کا بارود بھر دیا ۔ امریکن تین ہزار ہلاکتوں پر گہرے صدمے سے دوچار تھے۔ غم واندوہ کے حوالے سے پاکستان میںقائداعظم محمد علی کی رحلت پر شدت امریکہ کے نائن سے کسی صورت کم نہیں تھی۔امریکہ نے نائن الیون کے بعد افغانستان پر یلغار کا فیصلہ کیا۔ اسے افغانستان تک رسائی کے لیے پاکستان کی ضرورت تھی بدقسمتی سے ان دنوں پاکستان میں فوجی آمریت تھی جس کی سب سے بڑی برائی اور خامی اختیارات کا فردِ واحد کی ذات میں ارتکاز ہوتا ہے۔ جمہوریت جتنی بھی کمزور ہو ،اس میں جتنا بھی خودسر حکمران ہو، فیصلے کسی حد تک مشاورت سے بھی ہوتے ہیں۔ قائداعظم کے بعد جمہوریت جن ہاتھوں میں رہی ان پر بھی فخر تو نہیں کیا جا سکتا تاہم وہ نائن الیون کے بعد امریکہ سے بہتر ڈیل کر سکتی تھی مگر جنرل مشرف تو بالکل ہی امریکہ کے سامنے لیٹ گئے۔ان کے بعد کے جمہوری ادوار میں بھی قومی حمیت، خودداری اور وقار نظرنہیں آیا تو قائداعظم رہ رہ کر یاد آتے رہے۔

قائداعظم کو کوئی سیکولر قرار دیتا اور کوئی ولی کے درجے پر فائز کرتا مگر وہ ایک معتدل اور ماڈرن نظریات کے حامل لیڈر تھے۔ وہ پاکستان کو ریاست مدینہ کی طرز پراسلامی فلاحی مملکت بنانا چاہتے تھے۔ یہ ان کا مشن تھا، یہ ان کا خواب تھاجو ان کی بے وقت موت کے باعث ادھورا رہ گیاتاہم آج عمران خان نے قائد کا ادھورہ مشن پورا کرنے کا عہد کیا ہے۔وزیر اعظم عمران خان نے ملک میں سادگی اور کفایت شعاری کے لئے بھی ایک کمشن بنادیا ہے جو حکومتی فضول خرچیوں کو روکنے میں مدد دے گا اور ساتھ ہی ملک بھر میں قائد اعظم کے نظریاتی پاکستان کی سمت کو درست کرنے کے لئے اداروں کو قومی خزانہ کو بے دریغ لوٹنے سے روکنے کے لئے تجاویز دیا کرے گا۔عمران خان نے سرکاری میٹنگز حتیٰ کے غیرملکی سفیروں کی تواضع کرنے میں بھی سادگی کا ریکارڈ قائم کردیا جس پر ان کا مذاق بھی اڑایا جارہا ہے جبکہ بابائے قوم کے بعد وہ پہلے حکمران ہیں جنہوں نے قومی خزانے سے کسی کی تواضع کرنا جرم سمجھ رکھا ہے۔وزیر اعظم پاکستان عمران خان ایک جانب پاکستان کو ریاست مدینہ بنانا چاہتے ہیں اور دوسری جانب وہ قائد اعظم کے پاکستان کی تکمیل کے لئے خواہاں و کوشاں ہیں۔ قائد اعظم حکمرانوں سے کس قسم کے طرز عمل کی توقع رکھتے تھے۔”حیات محمد علی جناح “ کے محقق رئیس احمد جعفری نے قائد اعظم کی حیات کے کئی واقعات بیان کرتے ہوئے ان کا منشور حیات بیان کردیا ہے۔وہ لکھتے ہیں کہ ایک دفعہ سرکاری استعمال کے لئے صرف سینتیس روپے کا فرنیچر لایا گیا۔ قائداعظم نے لسٹ دیکھی تو دیکھاکہ اس میں سات روپے کی کرسیاں اضافی آئی ہے، آپ نے پوچھا” یہ کس لئے ہیں “ کہا گیا”آپ کی بہن فاطمہ جناح کے لئے“ آپ نے وہ کاٹ کے فرمایا ” اس کے پیسے فاطمہ جناح سے لو“کابینہ کی جتنی میٹنگز ہوتی تھیں قائد اعظم محمد علی جناح نے منع فرمایا تھا کہ کچھ بھی کھانے کے لئے نہ دیا جائے۔ اللہ تعالیٰ عمر ان کو انکے مقصد میں کامیاب کرے اور قائداعظم کا ادھورا خواب پورا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔

مزیدخبریں