جناح دیدہ اور نابغہ¿ روزگار لیڈر

Sep 11, 2018

قائد اعظم محمد علی جناح جیسی اعلیٰ اوصاف سے متصف نابغہ روگار (لیجنڈری) شخصیت صدیوں میں کوئی ایک پیدا ہوتی اور کسی قوم کو انعام کی صورت میں ملتی ہے۔پاکستانی قوم اللہ کا جتنا شکر ادا کرے کم ہے کہ اللہ نے ان کو دیدہ ورسے نوازا۔

ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے

بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا

قائد اعظم قوم کیلئے ہر شعبہ میں ہر حوالے سے ایک عمدہ مثال تھے ۔آپ کی شخصیت ان خوبیوں اور خصوصیات کا مجموعہ تھی جو کسی بھی آئیڈیل میں ہوسکتی ہیں۔وہ عزم، عزیمت،بلند حوصلگی اورجرا¿ت و بہادری پہاڑ اور ان کا کردار قوم کیلئے مینارہ¿ نور تھا۔آج قوم اپنے عظیم رہنما اور محسن کی برسی غم زدہ دل اور نم آلود آنکھوں کے ساتھ منا رہی ہے۔قائداعظم کو خراج عقیدت پیش کرنے کا بہترین طریقہ ان کے نظریات پر کاربند ہونا اور ان کی تعلیمات اور فکرو فلسفے کو حرزِ جاں بنانا ہے۔انکا ایک ایک نقش ہمارے لئے رہنمائی کا منبع و مثال ہے۔

ہمارے پاس اگر کوئی چیز بہتات میںضائع کرنے کے لئے ہے تو وہ وقت ہے ،عموماً نئی نسل وقت برباد کرتی نظر آتی ہے۔عموماً شادی بیاہ اور دیگر تقریبات میں اکثر شرکت کا موقع ملتا رہتاہے،ان میں سرکاری تقریبات بھی شامل ہیں۔مقررہ وقت پر بہت کم لوگ پہنچتے ہوتے ہیں۔ قائد اعظم کے نزدیک وقت کی اہمیت سب سے زیادہ تھی۔وفات سے کچھ عرصے قبل بابائے قوم نے سٹیٹ بنک آف پاکستان کا افتتاح کیا یہ وہ آخری سرکاری تقریب تھی جس میں قائداعظم علالت کے باوجود شریک ہوئے وہ ٹھیک وقت پر تقریب میں تشریف لائے ۔انہوں نے دیکھا کہ شرکاءکی اگلی نشستیں ابھی تک خالی ہیں، انہوں نے تقریب کے منتظمین کو پروگرام شروع کرنے کا کہا اور یہ حکم بھی دیا کہ خالی نشستیں ہٹا دی جائیں حکم کی تعمیل ہوئی اور بعدمیں آنے والے شرکاءکو کھڑے ہو کر تقریب کا حال دیکھنا پڑا ان میں کئی دوسرے وزراءسرکاری افسروں کے ساتھ اس وقت کے وزیرا عظم خان لیاقت علی خان بھی شامل تھے۔ وہ بے حد شرمندہ تھے کہ ان کی ذراسی غلطی نے انہیںقائد اعظم کی نظروں سے گرا دیا اور انہیں ایسی سزا دی جو کبھی نہ بھولی گئی۔اس کے بعد کی تاریخ شاہد ہے کہ لیاقت علی خان کبھی کسی تقریب میں لیٹ نہیں پہنچے۔

سیاست میں معمولی جھگڑے کوتاہ نظری کے باعث بروقت نہ سلجھائے جانے سے فساد اور دنگے کی صورت اختیار کر گئے۔ سیاسی جماعتیں ایک ہی دن اور ایک ہی وقت میں ایک مقام پر جلسہ جلوس کرنے پر مصر ہوجاتی ہیں۔بر سر اقتدار پارٹی ایسی صورت میں اپنا حق جتلاتی ہے ایسی صورتحال میں قائد کی رہنمائی موجود ہے:الہ آباد یونیورسٹی میں 1943 میں کانگریس اور مسلم لیگ کے طالب علموں میں یہ تنازعہ اٹھا کہ یونیورسٹی میں پرچم کس پارٹی کا لہرایا جائے۔ہندو¿ں کاکہنا تھا کہ چونکہ ملک میں ان کی اکثریت ہے لہذا یونیورسٹی میں پرچم بھی انہی کا لہرانا چاہئے۔جب کہ مسلم لیگ کا یہ کہنا تھا ،چونکہ یونیورسٹی میں مسلمان طالب علموں کی اکثریت ہے لہذا پرچم ان کا لہرایا جائیگا۔یونین کے الیکشن میں مسلم لیگ کی یونین کی کامیابی کے بعد مسلم لیگ کے طالب علموں نے قائد اعظم سے رابطہ کیاکہ وہ یونیو رسٹی میں پرچم کشائی کی تقریب میں شرکت کریں۔ اس موقع پر قائد اعظم نے اپنی قوم کے معماروں کو ایک تاریخی جواب دیا:اگر تمھیں اکثریت مل گئی ہے تو یہ خوشی کی بات ہے لیکن طاقت حاصل کرنے کے بعد اپنے غلبے کی نمائش کرنا نا زیبا حرکت ہے کوئی ایسی با ت نہ کرو جس سے کسی کی دل آزاری ہو۔ ہمارا ظرف بڑا ہونا چاہیے، کیا یہ منا سب ہے کہ ہم خود وہی کام کریں جس پر دوسروں کو مطعون کرتے ہیں۔

آج ہمیں ملک میں ہرطرف کرپشن،بدعنوانی اور رشوت کا بازار گرم نظر آتا ہے اس کے خاتمے کے پرزور مطالبات ہوتے ہیں اگر ہم خود اس ناسور کا حصہ نہ بنیں تو بہتری کی امید پیدا ہوسکتی ہے،اس کی عمدہ مثال ہمارے راہبرو رہنما نے قائم کی جو ہمارے لئے سبق اور بہترین درس ہے:

ایک بار قائد اعظم سفر کر رہے تھے سفر کے دوران انہیں یاد آیا کہ ان کا ریل ٹکٹ ملازم کے پاس رہ گیا ہے اور وہ بلا ٹکٹ سفر کر رہے ہیں جب وہ اسٹیشن پر اترے تو ٹکٹ ایگزامینر سے ملے اور اس سے کہا کہ چونکہ میرا ٹکٹ ملازم کے پاس رہ گیا ہے اس لیے دوسرا ٹکٹ دے دیں۔ٹکٹ ایگزامنر نے کہا آپ دو روپے مجھے دے دیں اور پلیٹ فارم سے باہر چلے جائیں۔ قا ئداعظم یہ سن کر طیش میں آگئے انہوں نے کہا تم نے مجھ سے رشوت مانگ کر قانون کی خلاف ورزی اور میری توہین کی ہے۔ بات اتنی بڑھی کہ لوگ اکٹھے ہو گئے ٹکٹ ایگزامنر نے لاکھ جان چھڑانا چاہی لیکن قائداعظم اسے پکڑ کر اسٹیشن ماسٹر کے پاس لے گئے ۔بالآخر ان سے رشوت طلب کرنے والا قانون کے شکنجے میں آگیا۔

قائد اصولوں قوائد وضوابط کے پابند اور اخلاقیات کو اہمیت دیتے تھے،یہی اوصاف ان کے کئی ساتھیوں میں بھی پائے جاتے تھے۔یہ 25 اکتوبر 1947 کی بات ہے۔ قیام پاکستان کے بعد پہلی بار عید الاضحیٰ کا تہوار منایا جانا تھا۔ عید الاضحیٰ کی نماز کے لیے مولوی مسافر خانہ کے نزدیک مسجد قصاباں کو منتخب کیا گیا اور اس نماز کی امامت کا فریضہ مشہورعالم دین مولانا ظہور الحسن درس نے انجام دینا تھا- قائد اعظم کو نماز کے وقت سے مطلع کردیا گیا۔مگر قائد اعظم کو دیکھنے کےلئے لوگوں کا ہجوم امڈ آیا جس کے باعث وہبروقت عید گاہ نہیں پہنچ پائے۔ اعلیٰ حکام نے مولانا ظہور الحسن درس کو مطلع کیا کہ قائد اعظم راستے میں ہیں اور چند ہی لمحات میں عید گاہ پہنچنے والے ہیں۔ انہوں نے مولانا سے درخواست کی کہ وہ نماز کی ادائیگی کچھ وقت کے لیے مو¿خر کردیں۔ مولانا ظہور الحسن درس نے فرمایا ”میں قائد اعظم کے لیے نماز پڑھانے نہیں آیا ہوں بلکہ خدائے عزوجل کی نماز پڑھانے آیا ہوں“ چنانچہ انہوں نے صفوں کو درست کرکے تکبیر فرما دی۔ابھی نماز عید کی پہلی رکعت شروع ہوئی ہی تھی کہ اتنے میں قائد اعظم بھی عید گاہ پہنچ گئے۔ قائد اعظم کے منتظر اعلیٰ حکام نے قائد سے درخواست کی وہ اگلی صف میں تشریف لے چلیں مگر قائد اعظم نے ان کی درخواست مسترد کردی اور کہا کہ میں پچھلی صف میں ہی نماز ادا کروں گا۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا اور قائد اعظم نے پچھلی صفوں میں نماز ادا کی۔

ہمیں شروع سے قائد اعظم جیسی لیڈر شپ کی ضرورت تھی جس سے ہم محروم چلے آرہے تھے۔ایک طویل عرصہ تو فوجی آمریت کی نذر ہوگیا،اگر جمہوریت کارفرما ہوئی تو وہ بھی قابل رشک نہیں تھی۔اب عمران خان کی قیادت میں تحریک انصاف کی حکومت قائد اعظم کو آئیڈیا لائز کررہی ہے،عمران خان عوام کے آزمودہ کار لیڈر ہیں قوم کو امید ہے کہ وہ پاکستان کو انہی خطوط پر استوار کرنے کی کوشش کریں گے جن کا خاکہ اقبال کے قائد کے دل و دماغ میں تھا۔

مزیدخبریں