ملت کا پاسباں ہے محمد علی جناح

Sep 11, 2018

صدیاں تیزی سے آگے بڑھ رہی ہیں لیکن کچھ نقوش ایسے ہیں جو زمانے کا ان مٹ حصہ بن گیے ہیں۔ ہماری خوش قسمتی ہے کہ محمد علی جناح کی صورت میں ایک ایسا ہی نقش تابندہ ملا ہے جو اپنے کارناموں، کردار کی مضبوطی اور افکار کے حوالے سے ایک بھرپور تاریخ بھی ہے اور نشان منزل بھی۔ جناح کے ساتھ بہت مخلص لوگ تھے جنھوں نے اپنی بساط سے بڑھ کر مسلم لیگ اور قائد اعظم کا ساتھ دیا۔ ان میں سے ایک مخلص بزرگ میاں بشیر احمد ہیں۔
قائد اعظم محمد علی جناح سے ہماری نسل کا تعارف ٹیلی وژن نے میاں بشیر احمد کی اس مشہور زمانہ نظم سے کروایا جو اس دور کے بچوں کا واحد تفریحی ذریعہ تھا۔
ملت کا پاسباں ہے محمد علی جناح
ملت ہے جسم جان۔ ہے محمد علی جناح
بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ میاں بشیر احمد کون تھے۔ پاکستان کے قیام کے حوالے سے جس خانوادے کی خدمات کا تذکرہ کئے بغیر تاریخ مکمل نہیں ہوتی میاں بشیر احمد اس عظیم خاندان کے فرد تھے۔ برطانوی ہندوستان کے پہلے مسلمان چیف جسٹس میاں محمد شاہ دین ہمایوں کے فرزند تھے جن کو اقبال نے اپنی مشہور زمانہ نظم اے ہمایوں میں خراج عقیدت پیش کیا ہے میاں شاہ دین لاہور کی ممتاز سماجی اور ادبی شخصیت تھے۔ علامہ اقبال کے ادبی سرپرستوں میں سے تھے۔ فوت ہوئے تو میاں بشیراحمد نے ان کی یاد میں رسالہ ہمایوں نکالا جو بہت جلد اہم ادبی اور تفریحی رسالہ بن گیا۔ اس کے پہلے شمارے کے لیے نظم کی درخواہماہست لے کر علامہ اقبال کے پاس گئے تو علامہ نے شاہ دین ہمایوں کی یاد میں وہ نظم لکھی جو بانگِ درا میں 'اے ہمایوں ' !کے نام سے شامل ہے اور جس کا آخری شعر بیحد مشہور ہے
موت کو سمجھے ہیں غافل اختتامِ زندگی
ہے یہ شامِ زندگی صبحِ دوامِ زندگی
انتظار حسین لکھتے ہیں کتنے زمانے سے یہ ماہنامہ کتنی پابندی سے نکل رہا تھا کہ نمازی کی نماز قضا ہو جائے، مگر ہمایوں کا مہینے کی پہلی کو شائع ہو جانا اٹل تھا۔ ایک تو ایسی پابندی کے واسطے سے اس نے ادبی رسالوں کی دنیا میں اپنا امتیاز قائم کیا تھا۔ باقی امتیازات الگ ہیں، کس شان ساتھ مہینے کے مہینے اپنی پیشانی پر اس شعر کو جھومر بنائے قارئین کے ہاتھوں میں پہنچتا تھا: اٹھو وگرنہ حشر نہیں ہو گا پھر کبھی دوڑو زمانہ چال قیامت کی چل گیا ۔ہمایوں علمی متانت اور ادبی معیار کا حسین امتزاج تھا۔ یہ رسالہ 35 برس تک جاری رہا اور اس نے اردو زبان و ادب کی گراں قدر خدمات انجام دیں۔ اسی خانوادے میں سر میاں محمد شفیع، جہاں آرا شاہنواز، ممتاز شاہنواز، بیگم گیتی آرا، سر میاں عبدالرشید، لیڈی شفیع، لیڈی شاہ دین، منظر بشیر اور دیگر شامل ہیں۔ میاں بشیر احمد تحریک پاکستان کے ممتاز رہنما اور قائد اعظم کے قریبی ساتھیوں میں سے تھے اور قائد اعظم ان پر بے حد اعتماد کرتے تھے میاں بشیر احمد کی وہ نظم سالہا سال زبان زدعام رہی جس کا پہلا مصرع تھا ”ملت کا پاسباں ہے محمد علی جناح۔“ قائداعظم اور مادر ملت فاطمہ جناح لاہور میں انہی کے وسیع و عریض بنگلے میں ٹھہرتے تھے جو لارنس روڈ پر واقع تھا۔ قیام پاکستان کے بعد یہاں لاہور کے اصحاب فکر و نظر جمع ہوتے اور درپیش ملی اورقومی ایشوز پر گفتگو کرتے۔ 1961ءمیں ڈاکٹر سید محمد عبداللہ جو اورئینٹل کالج کے پرنسپل اور علمی اور فکری محفلوں کے روح و رواں تھے‘ انھوں نے انگریزی کی جگہ ا±ردو کو رواج دینے کی مہم شروع کر رکھی تھی۔ میاں بشیر احمد نے گورنمنٹ کالج لاہور سے گریجویشن کرنے کے بعد آکسفورڈ یونیورسٹی کا رخ کیا آکسفورڈ یونیورسٹی سے تاریخ میں ڈگری لے کر اور لندن سے بیرسٹری کی سند حاصل کر کے وطن واپس آئے اور1891میں انجمن حمایت اسلام کے سالانہ اجلاس میں اپنے آپ کو قوم کے لیے وقف کرنے کا اعلان کیا۔ پھر تین برس تک اسلامیہ کالج لاہور میں اعزازی لیکچرار رہے 23 مارچ 1940کو منٹو پارک میں جلسہ میں ایک محتاط اندازے کے مطابق ایک لاکھ سے زائد افراد نے شرکت کی۔ اجلاس کی اہم خصوصیت یہ تھی کہ اس میں پہلی مرتبہ خواتین کی ایک بہت بڑی تعداد بھی شریک ہوئی۔ اجلاس میں پنجاب، بنگال اور آسام کے وزرائے اعلیٰ، مرکزی اور صوبائی اسمبلیوں کے مسلم ارکان نے بھی خصوصی طور پر شرکت کی۔ ہندوستان بھر سے آئے ہوئے مندوبین کے لیے قریباً دو ہزار خیمے نصب کیے گئے تھے۔ اجلاس کی تیاری کے لیے ایک مجلس استقبالیہ نواب سر شاہ نواز خان ممدوٹ کی صدارت میں قائم کی گئی اور میاں بشیر احمد کو سیکرٹری مقرر کیا گیا۔ میاں صاحب کی نظم ”ملت کا پاسباں ہے محمد علی جناح“ انور غازی آبادی نے پڑھی جس کو شرکاءنے سب سے زیادہ پسند کیا۔یہ نظم سالہاسال زبان زدعام رہی اس نظم کی نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ علامہ اقبال نے جن چیزوں کا تذکرہ محض تصور کے طور پر کیا تھا یا انہیں مستقبل میں حاصل کرنے کی امید دلائی تھی، ان سے متعلق واضح کیا کہ عملی صورت میں محمد علی جناح ہمارے سامنے ہیں اور پاکستان ہماری منزل ہے۔ علامہ 1938 میں انتقال کر گئے تھے گوکہ 1930 میں آل انڈیا مسلم لیگ کے الہ آباد میں ہونے والے اجلاس کے اپنے صدارتی خطبے میں انہوں نے ایک مملکت کا تصور پیش کر دیا تھا اسی لئے انہیں مصور پاکستان بھی کہا جاتا ہے میاں بشیر احمد علامہ اقبال کی بہت عزت و احترام کرتے تھے اور ان سے بہت متاثر بھی تھے اس کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ میاں بشیر احمد کے والد جسٹس شاہ دین اقبال کے بہت ہی قریبی دوستوں میں سے تھے 1940 کے اس جلسہ میں میاں بشیر احمد نے اس نظم کے ذریعے یہ بتانا چاہا کہ جس مرد مومن کا اقبال نے خواب دیکھا اس کی تعبیر محمد علی جناح کی صورت میں ہمارے سامنے ہے اور صرف 7 سال بعد پاکستان معرض وجود میں آگیا جس نے اقبال کے تصور کو حقیقت کا رنگ دے دیا اسی لئے قیام پاکستان کے وقت قائد اعظم نے فرمایا تھا کہ آج اقبال زندہ ہوتے تو بہت خوش ہوتے۔ میاں بشیراحمد نے اپنی اس نظم میں قوم کو بتا دیا کہ اب عملی تعبیر قائد اعظم محمد علی جناح کی صورت میں ہمارے سامنے ہے۔ جیسا کہ نظم میں ہے کہ ”ملت ہے جسم ، جاں ہے محمد علی جناح “ کس خوبصورتی کے ساتھ قائد اعظم کے اوصاف کو اجاگر کیا گیا ہے اور اقبال کے تصور ملت کا تجزیہ کیا گیا ہے کہ اگر ملت کو جسم سمجھا جائے تو جناح اسکی روح ہیں اور انہی کی پکار پر ملت دوبارہ متحد ہوئی یہ نظم بہت مقبول ہوئی 1940 کی نوجوان نسل نے اس کو اپنی اگلی نسل میں منتقل کیا اور یہ آج بھی اسی طرح مقبول ہے جس طرح پہلے تھی۔ 1942ءمیں قائداعظم نے انہیں مسلم لیگ کی ورکنگ کمیٹی کا رکن نامزد کیا۔ وہ 1947ءتک اس منصب پر فائز رہے۔ 1946ءکے عام انتخابات میں وہ مسلم لیگ کے ٹکٹ پر مجلس قانون ساز پنجاب کے رکن منتخب ہوئے۔ قیام پاکستان کے بعد 1949ءمیں انہیں ترکی میں پاکستان کا سفیر مقرر کیا گیا۔ اس عہدے پر وہ 1952ءتک فائز رہے ترکی میں میاں بشیر احمدکی کوشش سے انقرہ یونیورسٹی میں اردو چیئر قائم ہوئی۔ وطن واپسی کے بعد میاں صاحب اردو کی ہر ممکن خدمت انجام دیتے رہے۔ وہ پنجاب میں بابائے اردو کے سب سے بڑے رفیق اور مددگار تھے۔ انہوں نے چند کتابیں بھی مرتب کیں جن میں طلسم زندگی، کارنامہ اسلام اور مسلمانوں کا ماضی، حال اور مستقبل کے نام اہمیت کے حامل ہیں۔

مزیدخبریں