ہمارا قائد‘ گوہر نایاب

Sep 11, 2018

قائد اعظم کا راستہ قربانی اور ایثار کا راستہ تھا دیانتداری اور سچائی جس کی منزل تھی جو پاکباز تھا باکردار تھا جس نے اپنا سب کچھ اس قوم پر پاکستان پر لٹا دیا اور دم آخریں اپنی جان بھی اس قوم پرنچھاور کردی ۔یہ تھا سچا اور کھرارہبر و رہنما' قائد اعظم ' محمد علی جناح زندہ‘ اور ’مردہ باد ‘کے شور شرابے میں قائداعظم ثانی ہر کوئی کہلانا چاہتا ہے بلکہ سنجیدگی سے بننا چاہتا ہے لیکن افسوس صد افسوس کوئی بھی ان کے روشن نقوش پر ایک قدم بھی نہیں چلنا چاہتا۔ کاش' اے کاش! ’فنکاروں کا ہجوم‘ یہ سادہ سی بات سمجھ لے۔ یہ زبردستی نہیں دل کے سودے ہیں۔ سچائی، دیانت، ایمانداری کا کھرامال ہو تو لوگ خود بخود پیچھے چل پڑتے ہیں۔ پھر زبان اور طرز بیان کی رکاوٹیں بھی قائد اور مداحین میں حائل نہیں ہو سکتیں ۔

غالب کے بقول’ایسا کہاں سے لاﺅں کہ تجھ سا کہیں جسے‘۔ ان سا،روشن، اصول پسند، دانائی اور حکمت والا کردار ' کسی کے پاس ہے؟ ان کا سچا سپاہی ہے کوئی؟ سچائی، اخلاص ،دیانت واہلیت کی کسوٹی پر کون ہے جو پورا ترتا ہے؟قائد کے کھوٹے سکوں کی چاندی ہے، قائداعظم محمد علی جناح آج واپس آجائیں تو قیادت کے نام پرموجودہ چوروں اور لٹیروں ہجوم کے ساتھ کیا سلوک کریں؟

”لاکھوں شہیدوں کی قربانی سے یہ ملک' یہ پاکستان بنا تھا اب ہر ایک اپنے والدکا مشن اس ملک میں نافذ کرنا چاہتا ہے۔ بے نظیر اپنے والد بھٹو مرحوم کا مشن پورا کرنے کے چکر میں ماری گئیں، کوئی ضیاءالحق کا مشن پورا کرنے میں لگا ہوا ہے، کوئی نوازشریف کا مشن پورا کررہا ہے۔ اللہ کرے کوئی قائد اعظم کا مشن پورا کرنے والا بھی پیدا ہوجائے۔“

اقتدار کی ہوس میں پاگل ہوجانے والے بابائے قوم کی نیک نامی اور ناموس کو بھی اپنے ادنیٰ مفادات کے لئے بیچ کھاتے ہیں۔ اقتدار کے بھوکے چاہتے ہیں قوم ان کو قائد مانے، اپنے دلوں میں بسائے اوراندھی پیروی کرے۔ وہ کہے تو قوم کٹ مرنے کو تیار ہو۔وہ کہے تو قوم بھی صبح کو شام کہے۔ وہ کہے تو سیاہ بھی سفید تسلیم ہو۔لیکن افسوس صد افسوس! وائے قسمت کہ اب کوئی ایسا نہیں جس بارے سادہ لوح دیہاتی کہہ سکے کہ’ یہ تو نہیں پتہ کیا کہہ رہا ہے لیکن جو بھی کہہ رہا ہے سچ کہہ رہا ہے‘۔ وہ ایک ہی تھا وہ قائد اعظم تھے۔

بابائے قوم قائد اعظم محمد علی جناح کا پاکستان زخم زخم ہے۔ اسلام کی تجربہ گاہ کو اقتدار کے پجاری نت نئے تجربوں کے لئے استعمال کرتے ہیں۔ پاک کلمہ کے نام پر وجود میں آنے والی شہیدوں کی امانت کے ساتھ خیانت کرنے والوں سے فیصلہ کن جنگ ضروری ہے۔ نظریاتی محاذ پر دشمن تو دشمن اپنوں نے بھی نظریں بدل ڈالیں۔

27 اگست 1947ءکوپیارے قائد نے فرمایا تھا ”میرے پیغام کا خلاصہ یہ ہے کہ ہر مسلمان کو دیانتداری، خلوص اور بے غرضی سے پاکستان کی خدمت کرنی چاہیے۔“سندھ مسلم لیگ کانفرنس کراچی سے 19 اکتوبر 1938ءکو خطاب میں ان کا فرمانا تھا ” ہر انصاف پسند اور سچے مسلمان سے میری درخواست ہے کہ اپنی جماعت کی فلاح و بہبود کی غرض سے متحد و متفق ہوکر مسلم لیگ کے پلیٹ فارم پر آکر ا س کے پرچم کے نیچے کام شروع کردے۔“

وطن عزیز کا قیام اور زندگی اللہ تعالی کا ’راز‘سمجھنے والوں کا ایک مضبوط حلقہ موجود رہا ہے۔ پیر جماعت علی شاہ اپنے دور کے نیک سیرت اللہ کے بندوں میں شمار ہوتے تھے۔ انہوں نے محمد علی جناح کو اللہ کا ولی قرار دیا۔ لوگوں نے کہاکہ وہ گورا یعنی انگریز نظرآتا ہے ؟ داڑھی بھی نہیں؟ پیر جماعت علی شاہ نے کہاکہ تم اس کو نہیں جانتے وہ ہمارا کام کررہا ہے۔ پیر صاحب کے اس دور میں تقریبا دس لاکھ مرید تھے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ اگر کسی نے مسلم لیگ اور قائداعظم کو ووٹ نہ دیا۔ وہ میرا مرید نہیں۔

شاعر مشرق علامہ اقبال کا قول ہے کہ محمد علی جناح کو نہ تو خریدا جاسکتا ہے اور نہ ہی یہ شخص خیانت کرسکتاہے۔ قائد اعظم نے علامہ اقبال کے بارے میں فرمایا”اقبال نے آپ کے سامنے ایک واضح اور صحیح راستہ رکھ دیا ہے جس سے بہتر کوئی دوسرا راستہ نہیں ہوسکتا۔ وہ دورِ حاضر میں اسلام کے بہترین شارح تھے کیونکہ اِس زمانے میں اقبال سے بہتر اسلام کو کسی نے نہیں سمجھا۔ مجھے اِس کا فخر ہے کہ آپ کی قیادت میں ایک سپاہی کی حیثیت سے کام کرنے کا موقع مل چکا ہے۔ میں نے اس سے زیادہ وفادار رفیق اور اسلام کا شیدائی نہیں دیکھا،آل انڈیا مسلم لیگ کونسل سے 21اکتوبر 1939ءکو خطاب میں قائداعظم کی خواہش دیکھیں ”میری زِندگی کی واحد تمناء یہ ہے کہ مسلمانوں کو آزاد و سربلند دیکھوں۔ میں چاہتا ہوں کہ جب مروں تو یہ یقین اور اِطمینان لے کر مروں کہ میرا ضمیر اور میرا خدا گواہی دے رہا ہو کہ جناح نے اسلام سے خیانت اور غداری نہیں کی اور مسلمانوں کی آزادی، تنظیم اور مدافعت میں اپنا فرض ادا کردیا۔“

ڈھاکہ یونیورسٹی میں 26مارچ 1948کو خطا ب میں انہوں نے یہ بھی فرمایا ”آزادی کا مطلب بے لگام ہوجانا نہیں ہے۔ آزادی کا مفہوم یہ نہیں ہے کہ دوسرے لوگوں اور مملکت کے مفادات کو نظرانداز کرکے آپ جو چاہیں، کر گزریں۔ آپ پر بہت بڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے اور پہلے سے کہیں زیادہ۔ اب یہ ضروری ہے کہ آپ ایک منظم قوم کی طرح کام کریں۔ اِس وقت ہم سب کو چاہیے کہ تعمیری جذبہ پیدا کریں۔

پابندی وقت کااندازہ اس ایک واقعہ سے ہوتا ہے کہ وفات سے کچھ عرصے قبل بابائے قوم نے سٹیٹ بنک آف پاکستان کا افتتاح کیا یہ وہ آخری سرکای تقریب تھی جس میں قائداعظم اپنی علالت کے باوجود شریک ہوئے وہ ٹھیک وقت پر تقریب میں تشریف لائے انہوں نے دیکھا کہ شرکاءکی اگلی نشستیں ابھی تک خالی ہیں انہوں نے تقریب کے منتظمین کو پروگرام شروع کرنے کا کہا اور یہ حکم بھی دیا کہ خالی نشستیں ہٹا دی جائیں حکم کی تعمیل ہوئی اور بعد کے آنے والے شرکاءکو کھڑے ہو کر تقریب کا حال دیکھنا پڑا ان میں کئی دوسرے وزرا ءسرکاری افسروں کے ساتھ اس وقت کے وزیرا عظم خان لیاقت علی خان بھی شامل تھے۔

ایک بار قائد اعظم سفر کر رہے تھے سفر کے دوران انہیں یاد آیا کہ غلطی سے ان کا ریل ٹکٹ ملازم کے پاس رہ گیا ہے اور وہ بلا ٹکٹ سفر کر رہے ہیں جب وہ اسٹیشن پر اترے تو ٹکٹ ایگزامنر سے ملے اور اس سے کہا کہ چونکہ میرا ٹکٹ ملازم کے پاس رہ گیا ہے اس لیے دوسرا ٹکٹ دے دیں ٹکٹ ایگزامنر نے کہا آپ دو روپے مجھے دے دیں اور پلیٹ فارم سے باہر چلے جائیں قا ئداعظم یہ سن کر طیش میں آگئے۔ انہوں نے کہا تم نے مجھ سے رشوت مانگ کر قانون کی خلاف ورزی اور میری توہین کی ہے بات اتنی بڑھی کہ لوگ جمع ہو گئے ٹکٹ ایگزامنر نے لاکھ جان چھڑانا چاہی لیکن قائداعظم اسے پکڑ کر اسٹیشن ماسٹر کے پاس لے گئے بالاخر ان سے رشوت طلب کرنے والا قانون کے شکنجے میں آگیا۔

ججوں، موکلان اور پولیس والوں کی ’پھینٹی‘ سے’ قانون‘ کا نام اونچا کرنے والے وکلاءکرام کی خدمت میں بھی ایک واقعہ پیش ہے۔ وکالت میں بھی قائدِاعظم کے کچھ ا صول تھے جن سے وہ تجاوز نہیں کرتے تھے۔ وہ جائز معاوضہ لیتے تھے۔ مثلاً ایک تاجرایک مقدمہ لے کر آیا۔

موکل:مَیں چاہتا ہوں کہ آپ اس مقدمہ میں میری وکالت کریں۔آپ کی فیس کیا ہوگی۔ قائدِاعظم: مَیں مقدمے کے حساب سے نہیں، دن کے حساب سے فیس لیتا ہوں۔ موکل: کتنی؟ قائدِاعظم: پانچ سوروپے فی پیشی۔ موکل: میرے پاس اس وقت پانچ ہزار روپے ہیں۔ آپ پانچ ہزار میں ہی میرا مقدمہ لڑیں۔ قائدِاعظم: مجھے افسوس ہے کہ مَیں یہ مقدمہ نہیں لے سکتا۔ہوسکتا ہے کہ یہ مقدمہ طول پکڑے اور یہ رقم ناکافی ہو۔ بہتر ہے کہ آپ کوئی اور وکیل کرلیں کیوںکہ میرا اصول ہے کہ مَیں فی پیشی فیس لیتا ہوں۔ چنانچہ قائدِاعظم نے اپنی شرط پر مقدمہ لڑا اور اپنی فراست سے مقدمہ تین پیشیوں ہی میں جیت لیا اور فیس کے صِرف پندرہ سو روپے وصول کیے۔ تاجر نے اس کامیابی کی خوشی میں پورے پانچ ہزار پیش کرنا چاہے تو قائدِاعظم نے جواب دیا،میں نے اپنا حق لے لیا ہے۔

کسی نے کیا درست کہا ہے کہ سیاست کے سینے میں دل تو پہلے ہی نہیں تھا ، اب آنکھ کی ’حیائ‘ بھی گئی۔ محمد علی جناح کو قائد کہلوانا پسند نہیں تھا لیکن انہیں سب قائد مانتے ہیں صرف قائد نہیں قائد اعظم قرار پائے ان کے روشن نقوش ہمارے لئے مشعل راہ ہیں لیکن ان پر چلے کون' کہ قربانی اور ایثار کا راستہ ہے۔

مزیدخبریں