قائد اعظم اور شہ رگ پاکستان

Sep 11, 2018

11 ستمبر بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کی وفات کا دن ہے جس کو پوری قوم ہر سال عقیدت و احترام اور جذبے سے مناتی ہے۔ پاکستان کے قیام کے ایک سال بعد ہی آپ کی وفات نے ایک عظیم لیڈر معمار بااصول رہنماءسے مرحوم کر دیا۔ آپ ہی وہ شخص تھے جو اس ملک کو قیام پاکستان کی حقیقی منزل تک پہنچا سکتے تھے۔ اللہ تبارک تعالیٰ نے آپ کو ایسی بصیرت عطا کی تھی ان کو احساس ہو گیا تھا کہ مسلمان اور ہندو کبھی اکٹھے نہیں رہ سکتے۔ ایک بار ایک مغربی صحافی نے آپ سے سوال کیا کہ آپ تو ہندو مسلم اتحاد کے بڑے داعی تھے اب آپ تقسیم کیوں کرنا چاہتے ہیں۔ اس پر قائد اعظم نے جواب دیا کہ ایک بار ہوٹل میں کھانا کھا رہا تھا کہ کانگریس کا ایک بڑا لیڈر ہوٹل میں داخل ہوا۔ میں نے خیر مقدم کیا اور اپنے ساتھ کھانا کھانے کی دعوت دی۔ اس پر اس نے کہا کہ ہمارا چھوت کا مسئلہ ہوتا ہے اس لئے میں آپ کے ساتھ ایک میز پر بیٹھ کر کھانا نہیں کھا سکتا۔ آپ نے کہا میں آپ کے لئے علیحدہ ٹیبل پر کھانا لگوا دیتا ہوں۔ اس پر کانگریسی رہنماءنے کہا کہ ہوٹل کے ہال میں میز کے نیچے ایک ہی کالین بچھا ہوا ہے۔ لہٰذا چھات آ جائے گی۔ آپ نے صحافی سے کہا کہ مجھے اس وقت شدت سے احساس ہوا جو ہندو مسلمانوں کے ساتھ ایک چھت تلے کھانا نہیں کھا سکتے۔ کیسے ممکن ہے کہ وہ اکٹھے رہ سکیں۔ اسی طرح کی بے شمار مثالیں دی جا سکتی ہیں جن سے پاکستان کا قیام ضروری تھا۔قائد اعظم اقربہ پروری کے سخت خلاف تھے ۔ حکومتی معاملات میں کسی کی مداخلت برداشت نہیں کرتے تھے۔ آپ کے بھانجے اکبر پیر بھائی بیرسٹر تھے اور کراچی میں آپ سے ملے کہا میں مستقل کراچی میں عدالتی و قانونی پریکٹس کرنا چاہتا ہوں۔ آپ نے اس سے کہا میری قربت داری کی وجہ سے تمہاری اہلیت اور ہماری ضرورت کے باوجود میں تمہیں کوئی سرکاری عہدہ نہیں دے سکتا۔ پیر بھائی نے کہا کہ میں ملازمت کا خواہشمند نہیں۔ آپ سے الگ رہ کر وکالت کروں گا۔ قائد اعظم نے فرمایا کہ تم اچھے وکیل ہو لیکن میرے مرتبے کی وجہ سے اہل مقدمہ اور عدالتوں کا تمہارے حق میں رجوع خارج از امکان نہیں۔ لہٰذا میں تمہیں یہاں وکالت کرنے کا مشورہ نہیں دے سکتا۔ جس پر وہ واپس بمبئی چلے گئے اور وہیں وکالت میں بڑا نام کمایا۔

قائد اعظم نے اپنی پیاری بہن جو تحریک پاکستان میں دست راست تھیں۔ کسی کے پوچھنے پر کہ آپ نے پاکستان بننے کے بعد کوئی عہدہ نہیں سنبھالا، اس پر مادر ملت نے قائداعظم کا تاریخ ساز بیان کا حوالہ دیا کہ انہوں نے پاکستان اپنے اور اپنی بہن کے لئے نہیں بنایا۔ پوری قوم کے لئے بنایا ہے۔ قیام پاکستان کے چند ماہ بعد وزیر صنعت آئی آئی چندریگر کے بیٹے نے امپورٹ ، ایکسپورٹ کا کاروبار شروع کیا۔ قائد اعظم کو پتہ چلا تو آپ نے طلب کر کے فرمایا کہ یا اپنی وزارت رکھیں یا اپنے بیٹے کا کاروبار۔ آپ کی چوائس ہے آئی آئی چندریگر نے قائد اعظم کی رفاقت رکھی اور بیٹے کا کاروبار ختم کر دیا۔ ایسے درجنوں واقعات ہیں کہ قائد اعظم کے ساتھیوں نے حکومتی عہدوں کے دوران کوئی نفع بخش کاروبار نہیں کیا۔ اسی وجہ سے 1953ءتک پاکستان بالکل مقروض نہ تھا بلکہ جرمنی جیسے اور دیگر ملکوں کو قرضہ دیتا تھا۔ آج وطن مالی بدحالی کا شکار ہے سب سے بڑی وجہ معاشی بدعنوانی اور ملکی اداروں میں کرپشن ، حکمران اور با اختیار لوگوں اور اشرافیہ کی لوٹ مار ہے، اس میںبلکہ ان کے خاندان بھی برابر کے شریک ہیں۔

نئی منتخب حکومت کو چاہیے کہ کرپٹ حکمرانوں افسر شاہی اور دیگر جنہوں نے بھی لوٹ مار کر کے ملکی اداروں کو برباد کیا ان سے بہرصورت ملکی خزانہ برآمد کیا جائے لیکن سیاسی انتقام نہیں ہونا چاہیے۔ قائد اعظم پاکستان کے پہلے اور بعد میں بھی کشمیریوں اور کشمیر سے بے پناہ محبت کرتے تھے انہوں نے کشمیر کے طویل دورے کیے۔ انہوں نے اپنے سیکرٹری کا چناﺅ بھی کشمیر سے کیا۔ یہ ذمہ داری ایم ایس ایف کے رہنماءکے ایچ خورشید کے سپرد کی۔ آپ نے قیام پاکستان کی جدوجہد میں اپنی بہن محترمہ فاطمہ جناح سیکرٹری کے ایچ خورشید اور اپنے ٹائپ رائٹر کا ذکر بھی کئی بار کیا۔ کے ایچ خورشید اکثر کہا کرتے تھے کہ پاکستان کا وہ تصور کہاں کھو گیا جس کا خواب قائد اعظم نے دیکھا تھا۔ اور جس مشکل جدوجہد سے پاکستان کا حصول ممکن ہوا۔ وہ پاکستان کہاں ہے۔ کشمیریوں سے محبت کرنے والے اور کشمیر ایشو کو ہمیشہ اجاگر کرنے والے چوہدری محمد سرور دوسری بار پنجاب کے گورنر مقرر ہوئے۔ گورنر ہاﺅس لاہور نے 33گورنر پنجاب کا حلف اٹھایا۔ جس میں وزیر اعلیٰ پنجاب سپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الٰہی وزراءسول اور فوجی اعلیٰ حکام موجود تھے۔ کشمیری عوام کی نمائندگی سابق وزیر اعظم بیرسٹر سلطان محمود چوہدری نے کی۔ جو کہ تحریک انصاف آزاد کشمیر کے صدر ہیں۔ اور ہمیشہ بین الاقوامی سطح پر کشمیر کو اجاگر کرنے کے لئے اور بھارت کو بے نقاب کرنے کی جدوجہد جاری رکھے ہوئے ہیں۔ پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی جنرل سیکرٹری غلام محی الدین دیوان اور کشمیریوں کی کثیر تعداد موجود تھی۔ انہوں نے دورہ لاہور کے دوران چوہدری سرور سے ملاقات بھی کی اور کہا کہ کشمیری مقیم پاکستان اور متاثرین منگلا ڈیم کی آباد کاری اور دیگر مسائل پر توجہ دیں جس پرگورنر پنجاب نے ہر ممکن تعاون کا یقین دلایا۔ بیرسٹر سلطان چوہدری نے یوم دفاع پاکستان کی ایک بڑی تقریب سے خطاب کیا اور کہا یوم دفاع پاکستان تجدید عہد کا دن ہے۔ ملکی سلامتی ، استحکام کے لئے مل کر سب کو کام کرنا ہو گا۔ ہم پاک فوج کو سلام پیش کرتے ہیں اور وطن عزیز کے لئے جانیں دینے والوں کو خراج عقیدت پیش کرتے ہیں۔ یقینا شہداءکی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی۔ کشمیری پاکستان کے لئے ہر قسم کی قربانی دینے کے لئے تیار ہیں۔

مزیدخبریں