سچے‘ حقیقی اور عظیم لیڈر

Sep 11, 2018

معروف امریکی تاریخ دان سٹینلے والپرٹ 1948 میں بمبئی گیا اور قائداعظم محمد علی جناح سے ملا اور کچھ عرصہ بعد سٹینلے والپرٹ قائداعظم کے بے حد قریب آگئے اور اُس نے قائد کی شخصیت اور سیاسی جدوجہد کا نہایت باریکی سے مشاہدہ کیا۔

1984 میں سٹینلے کی کتاب جناح آف پاکستان منظرعام پر آئی جس میں وہ قائد کی عہدساز شخصیت کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے لکھتا ہے ”محض سات برسوں یعنی 1940 سے لے کر 1947 کے مختصر ترین عرصے میں انہوں نے جنوبی ایشیاءکو بدل کر رکھ دیا اور خوابیدہ دیوﺅں کو یعنی جنوبی ایشیا کے مسلمانوں کو دوبارہ پیدا کر دیا اور انہیں ایک آزاد وطن لےکر دیا جس کا انہوں نے کبھی خوابوں میں بھی تصور نہیں کیا تھا۔ جناح نے مسلمانوں کو غلامی کے طوق سے نجات دلائی جس نے 1757 کی جنگ پلاسی میں شکست کے بعد ان کا حوصلہ‘ وقار اور مال و دولت سب کچھ چھین لیا تھا۔ جناح نے مسلمانوں کو برصغیر میں ہزار سالہ حکمرانی کے احساس تفاخر کو واپس دلا دیا۔ سٹینلے والپرٹ کے جناح کے متعلق تاریخ ساز الفاظ آج ہماری نئی نسل کیلئے مشعل راہ ہیں۔ جو قائداعظم کی عظیم المرتبت شخصیت کی فہم و فراست‘ بے داغ کردار اور مدبرانہ قیادت کی عکاسی کرتے ہیں۔

"Few Individuals Significantly alter the Course of history. Fewer Still modify the map of the World. Hardly anyone Can be Credited with Creating a nation- state. Mohammad Ali Jinnah did all three"

اگر ہم دنیا کے عظیم رہنماﺅں کی ریاست کی تشکیل کیلئے جدوجہد پر دہرائیں تو جناح کا ہمسر صرف عظیم جرمن مدبر اور لیڈر بمارک دکھائی دیتا ہے۔ جناح کی مانند اس نے بھی محض سات سال میں عظیم ترین جرمن ایمپائر کو کھڑا کیا تھا مگر اس کو پہلے سے ہی بہت سارے موافق حالات میسر تھے اور اسے سیاسی مزاحمت کا اس قدر سامنا نہ تھا جس قدر قائد کو تحریک پاکستان کے دوران اپنوں اور پرایوں سے رہا مگر پھر بھی جناح نے اپنی ذاتی قابلیت‘ دلائل‘ صاف گوئی‘ جہاں سوزی اور قوم کیلئے اخلاص کی قوت سے 1940 سے لے کر 1947 کے عرصے میں پاکستان بنا دیا۔

انگلستان کے مشہور صحافی بیور لی نکلس نے محمد علی جناح کو ایشیا کی عظیم ترین شخصیت قرار دیا۔ 18 دسمبر 1942 کو نکلس نے قائد سے ملاقات میں سوال کیا کہ آپ پاکستان کے بنیادی اصولوں کی تعبیر کس طرح کرینگے۔ تو میرے قائد نے جواب دیا صرف چار لفظوں میں۔”مسلمان ایک قوم ہیں“۔ اگر آپ دیانتداری سے یہ بات تسلیم کر لیں گے تو گویا آپ نے پاکستان کے اصول کو مان لیا۔ نکلس نے ایک اور سوال داغا کہ آپ کیا مذہب کے لحاظ سے مسلمانوں کو ایک قوم قراردیتے ہیں۔ محمد علی جناح نے بڑا جامع جواب دیا جو نظریہ پاکستان کی اساس ہے۔ ہاں! لیکن صرف مذہب ہی کی بنیاد پر نہیں‘ یاد رکھیے اسلام صرف روحانی اور مذہبی اصولوں کا نام نہیں بلکہ ایک حقیقی اور عملی نظام حیات ہے۔ میں نہ صرف مذہب بلکہ ایک مکمل نظام زندگی کے اعتبار سے اِس پر غور کرتا ہوں اور سارے نظام حیات کی رو سے مسلمانوں کو ایک مستقل اور جداگانہ قوم سمجھتا ہوں۔ زندگی کے ہر شعبے اور عنصر کے لحاظ سے ہمارے مشاہیر اور اکابرین کے اعتبار سے ہمارے آرٹ اور فن کے اعتبار سے غرض ہر اعتبار اور ہر لحاظ سے مسلمان ہندوﺅں سے الگ اور ممتاز قوم ہے۔ اِن تمام امور میں ہمارا زاویہ نگاہ ہندوﺅں سے مختلف بلکہ اکثر شعبوں میں متضاد ہے۔ ہمارا وجود اور ہماری دنیا مختلف ہے۔ زندگی میں ہمیں اِن سے مربوط کرنے والی کوئی چیز نہیں دکھائی دیتی ہے“۔ قائداعظم کی یہ بات آج حرف بحرف درست ثابت ہو چکی ہے۔ مسلمانوں کی بھارت میں زندگی بڑی غیرمحفوظ ہے۔ کشمیر میں حق ارادیت کی آواز اٹھانے والے حریت پسندوں پر بدترین تشدد کیا جارہا ہے۔ آج بھی مسلمان سرعام ہندوستان میں گائے ذبح نہیں کر سکتے ہیں اور وہاں کے نامور مسلمان مرد و خواتین فنکاروں کو بھی ہندوﺅں کی نفرت کا ہر وقت سامنا رہتا ہے۔

قائداعظم محمد علی جناح کو اپنے وقت کا عظیم ترین قائد بھی قرار دیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے اپنی سیاست کی بنیاد سچائی پر رکھی اور اپنی بھولی بھالی قوم کو آزاد کرانے کے لیے جس حکومت سے ٹکر لی تھی وہ سیاسی شعبدے بازی میں اقوام عالم کی تاریخ میں اپنا ثانی نہیں رکھتی تھی اور جس ہندو قوم کی مخالفت مول لی‘ اسکی اصول فراموشی اور ”بغل میں چھری منہ میں رام رام“ کی گواہی پوری دنیا دیتی تھی۔ عصری سیاست کے تقاضوں اور مخالف قوتوں کی ریشہ دوانیوں کے مقابلے میں آپ نے انوکھے اور بظاہر ”ناقابل عمل“ اصولوں کی قندیل روشن کی۔ راست بازی‘ اصول پرستی اور مصلحت بینی کی مٹی سے اپنے دامن کو صاف رکھنے کا عزم واضح کیا۔ انکی عظیم شخصیت کی سب سے بڑی خوبی یہی تھی کہ ان کا اپنے مقصد کےساتھ خلوص اور سچا لگاﺅ تھا۔ زبان سے وہی لفظ نکالتے جو خود ان کے قلب و ذہن پر نقش ہوتا۔ کانگرس میں تھے تو ہندو مسلم اتحاد کیلئے انہوں نے تن دہی اور جانفروشی سے کام کیا جس پر بلبل ہند سروجمنی نائیڈو نے انہیں ”ہندو مسلم اتحاد کا سفیر“ کہا۔ ہندوﺅں کی منافقت اور مفاد پرستی عیاں ہونے پر آپ کو مسلمانوں کیلئے الگ وطن کے حصول کی ایسی لگن لگی کہ دن رات اپنی صحت کی پرواہ کئے بغیر اپنی جدوجہد جاری رکھی اور آخرکار اپنی مظلوم قوم کیلئے دنیا کے نقشے پر ایک الگ وطن کیلئے جگہ حاصل کر لی۔ آپ نے حق و صداقت کے ہتھیاروں سے میکیاولی سیاست کے پیروکاروں کو شکست دی۔

خدا جسے چاہے عزت اور مرتبہ عطا کر دیتا ہے۔ آپ ہندوستان کے مسلمان لیڈروں میں منفرد اہمیت کے حامل اور صحیح معنوں میں قائداعظم تھے کہ اسلام کو کفر کے پنجے سے چھڑانے والا سیاسی ذہین اور مدبر مغرب کی فضاﺅں میں پروان چڑھا۔ آزادی حاصل کرنے کی تڑپ میں مسلمان لیڈروں کی رہنماﺅں میں کئی تحریکیں چلیں، جوش و جذبہ تھا۔ جرا¿ت و جانفروشی بھی تھی لیکن اس سیاسی تدبر اور حکمت سے دامن خالی تھا جس کی مدد سے انگریز اور ہندو کو دندان شکن جواب دیا جا سکتا تھا۔ مگر اسلام کے نام نہاد علمبرداروں کی موجودگی میں برصغیر کے مظلوم مسلمانوں کی مشکل کشائیوں کیلئے قدرت کاملہ نے نجات دہندہ ”مغرب کی تاریکیوں“ میںمحمد علی جناح کی صورت میں طلوع کیا۔ قائداعظم حقیقتاً ایک سچے، حقیقی اور عظیم قائد تھے۔ 1939 میں انہوں نے مقصد کے حصول کیلئے ”حق الیقین“ کا اظہار ان الفاظ میں کیا ”کانگرس اور انگریز حکومت متفق ہو کر بھی ہماری روح کو فنا کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکتے ہیں۔ تم اس تہذیب کو مٹا نہ سکو گے‘ اس اسلامی تہذیب کو جو ہمیں ورثہ میں ملی ہے۔ ہمارا نور ایمان زندہ ہے۔ زندہ رہا ہے اور زندہ رہے گا۔ تم ہمیں مغلوب کرو، ہم پر ظلم و تشدد کرو۔ ہمارے ساتھ بدترین سلوک روا رکھو۔ ہم ایک نتیجے پر پہنچ چکے ہیں‘ ہم نے یہ فیصلہ کر لیا ہے کہ اگر مرنا ہی ہے تو لڑتے لڑتے مر جائیں گے“۔ قائداعظم کی حیات اور کارناموں پر طائرانہ نظر ڈالیں تو یہ حقیقت روز روشن کی طرح واضح ہے کہ وہ پاکستان کو ایک ایسی مسلم نیشن سٹیٹ بنانے کے خواہاں تھے جہاں اسلام کے عدل عمرانی کے اصول آزادانہ طور پر روبہ عمل لائے جا سکیں۔

مزیدخبریں