وفاداری ،بشرط استواری

Sep 11, 2018

قبولِ اسلام کے ساتھ ہی حضرت عمر ابن خطاب ،نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی توجہات اور تربیت سے فیض یا ب ہونے لگے اور حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے مقر بین خاص میں شامل ہوگئے۔ اللہ رب العزت کے پیارے محبوب کی محبت آپ کے رگ وپے میں سرایت کرگئی اور آپ اس جذبہء محبت کو درجہ کمال تک پہنچانے کے متمنی رہتے۔ ’’حضرت عبداللہ بن ہشام کہتے ہیں کہ ہم حضور سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھے اور آپ حضرت عمر بن خطاب کا ہاتھ پکڑے ہوئے تھے۔(اس التفاتِ خاص سے فائدہ اٹھا کر )حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے (اپنی قلبی کیفیات کی طرف توجہ مبذول کرواتے ہوئے )عرض کیا : یا رسول اللہ ! آپ مجھے اپنی جان کے سوا ہر چیز سے زیادہ عزیز ہیں ۔ آپ نے ارشاد فرمایا اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے ۔جب تک میں تمہارے نزدیک اپنی جان سے بھی زیادہ محبو ب نہ قرار پائوں تم مومن نہیں ہوسکتے ۔ (اب) حضرت عمر نے( اپنی کیفیت کو محسوس کیا تو بے ساختہ)عرض کیا۔ اب آپ مجھے اپنی جان سے بھی عزیز ہوگئے ہیں۔ ارشادہوا ہے : عمر اب تمہارا ایمان درجہ کمال پرپہنچ گیا ہے۔ اس حدیث مبارکہ نے تربیت وتزکیہ کے بہت سے پہلو آشکار کیے ہیں ۔ حضرت عمر دن رات رسول اللہ کی سیرت و کردار کا مطالعہ کر رہے تھے، اوصاف وکمالات کے مشاہدے میں تھے،اپنے ظاہر وباطن کی تبدلیاں بھی ان کے پیش نظر تھیں ۔ اس لیے موقع پاتے ہی انھوں نے محبت کا درجہ کمال بھی طلب کرلیا،اور اس صاحبِ تعلیم وتزکیہ نے فوراً ہی ان کے جذبہء تسلیم واخلاص اور خود سپردگی کو معراجِ کمال تک پہنچا دیا ۔اسی کیفیت کا اعجاز تھا کہ حضرت عمر کو لمحہ لمحہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی رضا ء کا خیال رہتا ۔ آپ کے مفادات کی حفاظت کی کوشش کرتے ۔ آپ کی پسند کو ہمیشہ پیش نظر رکھتے ۔ حضرت جابر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ ایک بار جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت عالیہ میں خوبصورت اور قیمتی قبا بطور ہدیہ ء پیش کی گئی۔ آپ نے اسے زیبِ تن فرما لیا۔ مگر فوراً ہی اسے اتار دیا اور فرمایا:کہ اسے عمر کو دے آئو،آنجناب سے اس قبا کو فوراً اتا ر دینے کی وجہ دریافت کی گئی تو آپ نے ارشاد فرمایا : مجھے جبرئیل امین نے اسے پہننے سے روک دیا تھا۔ یہ بات حضرت عمر تک پہنچی (تو بڑے پریشان ہوئے ،کہ جس چیز کو آپ نے ناپسند کیا ،اسے میری طرف بھیج دیا یقینا مجھ سے کوئی فروگذاشت ہوئی ہے)روتے ہوئے خدمت اقدس میں حاضر ہوئے ،عرض کیا :یا رسول اللہ ! جس قبا کو آپ نے خود ناپسند کیا ، وہ مجھے عنایت فرمادی ، اب میری لیے کیسے ممکن ہے کہ آپ کی مبغوضہ چیز کو پہن لوں، فرمایا: یہ قبا میں نے تمہیں استعمال کے لیے نہیں دی بلکہ اس لیے دی ہے کہ اسے بیچ دو (یہ سن کر آپ کے قلب مضطرب کو تسلی ہوئی ،حضور کی ناراضگی کا اندیشہ ختم ہوا)اور آپ نے اسے دوہزار درہم میں فروخت کردیا۔(مسلم)رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نگاہ نے چونکہ آپ کو ’’فاروق‘‘بنادیا تھا، لہٰذا آپ کے جذبہ محبت رسو ل میں ’’غیرت ‘‘کا پہلو بہت ہی نمایاں تھا۔ممکن نہیں تھا کہ کوئی مرتکب توہین وتنقیص آپ کی گر فت میںآئے اور کیفر کردار تک نہ پہنچے۔

مزیدخبریں