آج چین اور روس کےساتھ دوستی اور تعاون بڑھانے کی ضرورت ہے

Sep 11, 2018

بانی ¿ پاکستان قائداعظم کا 70واں یوم وفات اور ملک کو درپیش چیلنجز

قوم آج 11 ستمبر کو بانی¿ پاکستان قائداعظم محمدعلی جناح کا 70واں یوم وفات قومی اور ملی اتحاد و یگانگت کے جذبے کے ساتھ عقیدت و احترام سے منا رہی ہے۔ اس موقع پر آج سرکاری اور نجی سطح پر مختلف تقریبات کا اہتمام کیا جا رہا ہے۔ پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کی جانب سے یوم وفات قائداعظم کے حوالے سے خصوصی ایڈیشنز اور پروگرامز کا اہتمام کیا گیا ہے جبکہ نظریہ¿ پاکستان ٹرسٹ اور تحریک پاکستان ورکرز ٹرسٹ کی جانب سے بھی آج یوم قائداعظم کی خصوصی تقریب کا اہتمام کیا جا رہا ہے۔ اسکی صدارت سالہا سال سے جناب مجید نظامی کیا کرتے تھے‘ ان کے انتقال کے بعد اب ان کے جانشین چیئرمین نظریہ پاکستان ٹرسٹ اور سابق صدر پاکستان جناب رفیق تارڑ قائداعظم کی برسی کی تقریب کی صدارت کرتے ہیں۔ بانی¿ پاکستان کو خراج عقیدت پیش کرنے کیلئے آج دن کا آغاز کراچی میں مزار قائد پر گارڈ کی تبدیلی سے ہوگا۔ اس موقع پر پاک فوج کا ایک چاق و چوبند دستہ سلامی پیش کریگا۔ قائداعظم کی روح کو ایصال ثواب کیلئے آج تعلیمی اداروں‘ مدارس‘ مساجد اور دیگر مقامات پر خصوصی تقریبات کا بھی اہتمام کیا گیا ہے۔ اس موقع پر ملک کی بقاءو سلامتی اور ترقی و خوشحالی کی بھی دعائیں مانگی جائیں گی۔

قیام پاکستان کے صرف ایک سال ایک ماہ بعد بانی¿ پاکستان کی وفات حسرت آیات ایک ایسا قومی المیہ ہے‘ جس کے اثرات آج تک محسوس کئے جا رہے ہیں‘ کیونکہ قیام پاکستان کے بعد قوم کو درپیش سنگین مسائل کے حل اور اندرونی و بیرونی سازشوں سے نمٹنے کیلئے قائداعظم کی رہنمائی کی اشد ضرورت تھی اور مہاجرین کے سیلاب‘ بھارت کی اثاثوں کی تقسیم میں ریشہ دوانیوں‘ باﺅنڈری کمیشن کی غیرمنصفانہ کارروائیوںجن کے نتیجے میں کشمیر کے تنازعہ نے جنم لیا اور دیگر ناگزیر حالات کی وجہ سے ملکی آئین کی تدوین اور ملک کی مختلف اکائیوں کے مابین بنیادی معاملات پر اتفاق رائے کے حصول میں جو تاخیر ہوئی‘ وہ قائد کی وفات کی وجہ سے مزید الجھ گئے‘ قائداعظمؒ کی زندگی میں نہ تو سول اور خاکی بیوروکریسی کو جمہوری اداروں اور سیاسی نظام میں دخل اندازی کا موقع ملااور نہ ملک کے مختلف سیاسی و مذہبی طبقات اور جغرافیائی اکائیوں میں اختلاف کی خلیج گہری ہوتی‘ کیونکہ قوم کے بھرپور اعتماد‘ احترام اور عقیدت کے علاہ خداداد بصیرت کی وجہ سے قائدؒ نہ صرف اتحاد و یکجہتی کی علامت تھے بلکہ لاینحل مسائل کو حل کرنے کی صلاحیت سے بھی مالامال تھے اور یہ صلاحیتیں قوم کی کشتی کو مسائل کے طوفان سے نکالنے میں صرف ہوئیں۔ صرف ایک سال کے مختصر عرصہ میں قائداعظمؒ چل بسے اور ساڑھے تین چار سال بعد انکے جانشین لیاقت علی خان بھی شہید ہو گئے۔ قائداعظمؒ کے انتقال کے بعد مسلم لیگ بھی ملک کی بانی جماعت کے طور پر اپنا مضبوط اور موثر کردار ادا کرنے کے بجائے حصوں بخروں میں بٹتی چلی گئی اور اس کا فائدہ ان سیاسی ومذہبی قوتوں نے اٹھایا جن میں سے بعض یا تو قیام پاکستان کی مخالف تھیں یا پاکستان کے نظریہ یعنی دو قومی نظریئے سے اتفاق نہیں کرتی تھیں۔ مسلم لیگ کی تقسیم‘ قائداعظمؒ کے ساتھیوں کی باہمی سرپھٹول‘ آئین کی تدوین میں بے جا تاخیر اور ملک کے مختلف حصوں میں جنم لینے والے نسلی‘ لسانی‘ علاقائی اور فرقہ ورانہ اختلافات کی وجہ سے جمہوری نظام کمزور ہوا اور سول و خاکی بیوروکریسی نے پرپرزے نکالنے شروع کئے۔ قائداعظمؒ نے انگریز اور ہندو سے لڑ کر ذات برادری اور فرقے کی بنیاد پر منقسم مسلمانوں کے انبوہ کثیر کو ایک قوم بنایا تھا اور اپنی پرامن‘ سیاسی جدوجہد‘ مثالی بصیرت‘ امانت و دیانت اور مسلم عوام کے تعاون سے ایک ایسی آزاد ریاست کا قیام ممکن بنایا جسے انگریز اور ہندو پریس دیوانے کی بڑ قرار دیتا تھا مگر انکی وفات کے بعد یہ قوم پھر ایک ہجوم میں تبدیل ہو گئی جس پر سول و خاکی بیوروکریسی نے چاروں طرف سے حملہ کر دیا۔

قائداعظمؒ نے مسلم قوم کو متحد کیا‘ اسے ایک نصب العین دیا اور الگ وطن کے قیام کیلئے پرامن جمہوری جدوجہد کی راہ دکھائی‘ قیام پاکستان کے بعد انہوں نے آئین کی تشکیل کا معاملہ عوام کے منتخب نمائندوں پر چھوڑا اور خود کو بطور گورنر جنرل سیاسی سرگرمیوں کے علاوہ مسلم لیگ کی صدارت سے الگ کرکے پارلیمانی جمہوریت کی جانب پیش رفت کی جس میں پارلیمنٹ خودمختار اور عوام کے منتخب نمائندے ہی قومی معاملات اور حکومتی امور چلانے کے حق دار ہوں لیکن بدقسمتی سے قائداعظمؒ کی وفات اور انکے جاںنشینوں کی کمزوریوں کی وجہ سے سول و خاکی بیوروکریسی نے 1958ءمیں پہلی فوجی بغاوت کی راہ ہموار کرکے ملک کو جمہوریت کی پٹڑی سے اتار دیا اور پھر 1958ءسے لے کر 2007ءتک چار مارشل لاﺅں نے اس ارض وطن کی عمر عزیز کے 33 سال غارت کر دیئے۔ مشرف کے 2008ءمیں ختم ہونیوالے نیم جمہوری دور کے بعد آج جمہوریت بتدریج مضبوط ہو رہی ہے۔ 2008ءکے انتخابات میں پاکستان پیپلز پارٹی پر قوم نے اعتماد کیا‘ وہ توقعات پر پورا نہ اتر سکی تو 2013ءمیں عوام نے پاکستان مسلم لیگ (ن) کے ہاتھ میں زمام اقتدار تھما دی مگر بدقسمتی سے پاکستان اس منتخب جمہوری دور میں بھی شدید بحرانوں اور مسائل کی آماجگاہ بنا رہا۔ حکمران اقبال و قائد کے وارث ہونے کے ضروردعویدار تھے لیکن ملک و قوم کو درپیش مشکلات سے نجات دلانے کی ان میں وہ کمٹمنٹ مفقود ہی رہی جس کے حالات متقاضی ہیں۔ قائد کی جانشینی کے دعوے دار مسلم لیگی حکمران بھی عوام کی توقعات اور قومی سلامتی کے تقاضوں پر پورا نہ اتر سکے تو قوم نے 25 جولائی 2018ءکو اقتدار کا تاج پی ٹی آئی اور اسکے قائد عمران خان کے سر سجا دیا جنہوں نے اس ارض وطن کو ریاست مدینہ کے قالب میں ڈھالنے کا اعلان و عہد کرکے درحقیقت بانیانِ پاکستان قائد و اقبال کے وضع کردہ قیام پاکستان کے مقاصد کی تکمیل کا بیڑہ اٹھایا ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ قائداعظم پاکستان کو اسلامی جمہوری‘ فلاحی اور جدید ریاست بنانا چاہتے تھے جس سے قوم آج بھی کوسوں دور نظر آتی ہے اور اس کے ساتھ ساتھ آج بھارت کی مودی سرکار کے ہاتھوں پاکستان کی سالمیت کو پہلے سے بھی زیادہ خطرات لاحق ہیں کیونکہ جنگی جنون میں مبتلا بھارتی وزیراعظم اپنی پارٹی بی جے پی کے پاکستان دشمنی پر مبنی ایجنڈا کی تکمیل کیلئے پاکستان پر جارحیت مسلط کرنے پر تلے بیٹھے نظر آتے ہیں۔ کنٹرول لائن اور ورکنگ باﺅنڈری پر تسلسل کے ساتھ جاری بھارتی بلااشتعال فائرنگ اور گولہ باری سے پاکستان کی سالمیت تاراج کرنے کی مودی سرکار کی گھناﺅنی منصوبہ بندی کا واضح عندیہ بھی مل رہا ہے۔

مودی نے کچھ عرصہ قبل بنگلہ دیش کے دورے کے موقع پر وزیراعظم حسینہ واجد کی موجودگی میں پاکستان توڑنے میں اپنے کردار کا دعویٰ کیا۔ پھر بلوچستان‘ گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں اپنے پروردہ ایجنٹوں کو اکسایا‘ انکی طرف سے شکریے کے فون موصول ہوئے تو میڈیا میں اس کو فخریہ بیان کیا۔ مودی پاکستان کو پوری دنیا میں تنہاءکرنے کیلئے سرگرم ہیں۔ بیجنگ میں ہونیوالے G-20 کے اجلاس اور لاﺅس میں آسیان کانفرنس کے دوران پاکستان کیخلاف زہر اگلتے رہے اور ان اجلاسوں میں شریک سربراہان مملکت کو باور کرانے کی کوشش کرتے رہے کہ پاکستان دہشت گردوں کی پشت پناہی کرتا ہے‘ اس پر پابندیاں لگائی جائیں اور اسے تنہا کر دیا جائے۔وہ پاکستان کو دوست مسلم ممالک سے بھی دور کرنے کیلئے سرگرداں ہیں۔ سی پیک کی مودی اور انکی انتظامیہ کی طرف سے شدید مخالفت ہورہی ہے۔ بھارت چین پر سی پیک منصوبے کے خاتمے کیلئے ممکنہ حد تک دباﺅ ڈال رہا ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں گورنر راج کے نفاذ کے بعداسکے مظالم اور بربریت کا سلسلہ تیز ہو گیا ہے۔ بھارت پہلے کشمیر کو متنازعہ علاقہ قرار دیتا تھا۔ پھر اسے اپنا اٹوٹ انگ قرار دینے لگا اور اب مودی نے آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان پر بھی اپنا حق جتانا شروع کر دیا ہے۔ پاکستان کا مشرقی بارڈر ہمیشہ بھارت کی جارحیت کے نشانے پر رہا ہے۔ نائن الیون کے بعد افغان سرحد بھی غیرمحفوظ ہو گئی۔ بھارت سے قربت کے بعد سے پاکستان کے ایران کے ساتھ تعلقات میں بھی پہلے جیسی گرم جوشی نہیں رہی۔

اب تو امریکہ بھی بھارت کی ہاں میں ہاں ملاتے ہوئے پاکستان کو دھمکیاں دے رہا ہے جس نے بھارت کی زبان بولتے ہوئے پاکستان پر بے بنیاد الزامات کی بوچھاڑ کی اور پاکستان پر جارحیت کی دھمکی دی۔ حد تو یہ ہے کہ پاکستان سے مخاصمت والا ٹرمپ انتظامیہ کا رویہ پی ٹی آئی کی موجودہ حکومت کے دور میں اور بھی سخت ہوگیا ہے۔ گزشتہ ہفتے امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو کے دورہ¿ اسلام آباد میں پاکستان کی سپورٹ فنڈ سے ملنے والی فوجی گرانٹ بند کرنے کا اعلان کیا گیا اور پھر پومپیو اسلام آباد میں مختصر قیام کے دوران افغانستان میں طالبان کیخلاف کارروائی کیلئے تعاون مانگتے اور ڈومور کے تقاضے کرتے بھارت روانہ ہوگئے جہاں انہوں نے اور امریکی وزیر دفاع نے بھارت کے ساتھ ایٹمی دفاعی تعاون کے نئے معاہدے کرکے اسکے حوصلے مزید بلند کئے۔ آج بے شک ملک کی سول اور عسکری قیادتیں ملکی سلامتی اور قومی مفادات کے تقاضے نبھانے کیلئے مکمل متحد و یکجہت ہیں جس کا اندازہ یوم دفاع و شہداءکے موقع پر ان میں نظر آنیوالی ہم آہنگی سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے تاہم موجودہ صورتحال میں ہمیں دفاع وطن کیلئے مکمل قومی یکجہتی کی ضروت ہے اس لئے تمام سیاسی جماعتوں اور ان کی قیادتوں کو ملک کے تحفظ و دفاع کے تقاضوں کے تحت اپنے سیاسی مفادات کی قربانی دے کر دشمن کو قومی اتحاد و یکجہتی کا ٹھوس پیغام دینا چاہئے۔ موجودہ حالات اس امر کے متقاضی ہیں کہ ہم چین اور روس کے ساتھ اپنے تعاون بالخصوص دفاعی تعاون کو مضبوط بنائیں اور انکے ساتھ تعلقات میں کوئی دراڑ پیدا نہ ہونے دیں۔ اس حوالے سے چین کے ساتھ سی پیک کے منصوبے کے بارے میں غلط فہمیاں پیدا کرنے کی بعض عناصر کی جانب سے کوشش ہورہی ہے اور یہ پراپیگنڈا کیا جارہا ہے کہ چین کے وزیر خارجہ زانگ ژی نے گزشتہ روز وزیراعظم عمران خان سے ملاقات کے موقع پر سی پیک معاہدے پر نظرثانی کا عندیہ دیا ہے۔ حکمران پی ٹی آئی کو بالخصوص چین کے ساتھ تعلقات کے معاملہ میں کوئی غلط فہمی پیدا نہیں ہونے دینی چاہیے۔ ہمیں آج چین اور روس کے تعاون کی زیادہ ضرورت ہے۔

ہم قائد کے پاکستان کے دفاع کو یقینی بنا کر ہی قائد کی روح کو تسکین پہنچا سکتے ہیں۔ اس کےلئے ہمیں دہشت گردی اور کرپشن سے پاک پاکستان کی بھی ضمانت فراہم کرنا ہو گی جبکہ روٹی روزگار کے آزار میں پھنسے عوام کو خوشحال بنانے کیلئے وطن عزیز کو اقتصادی طور پر مستحکم کر کے ہی ہم قائداعظم کے آدرشوں اور امنگوں کے مطابق قیام پاکستان کے مقاصد کو شرمندہ¿ تعبیر کر سکتے ہیں۔ آج ملک میں جمہوریت مستحکم ہورہی ہے تو یہ قیام پاکستان کے مقاصد کی تکمیل کی جانب ہی پیش رفت ہے۔

مزیدخبریں