لاہور ہائیکورٹ نے 250 ینگ ڈاکٹرز کی برطرفی روک دی‘ پنجاب حکومت اور محکمہ صحت سے تحریری جواب طلب

11 مارچ 2014

لاہور (اپنے نامہ نگار سے+وقائع نگار خصوصی)لاہور ہائی کورٹ نے پنجاب حکومت کو 250 ینگ ڈاکٹرز کو نوکری سے فارغ کرنے سے روک دیا۔ پیر کولاہور ہائیکورٹ کے جسٹس خالد محمود خان نے کیس کی سماعت شروع کی تو عدالت کے روبرو میڈیکل آفیسر اور ینگ ڈاکٹرز کی جانب سے بتایا گیا کہ پنجاب حکومت زبردستی ان سے ایسے حلف ناموں پر دستخط کروانا چاہتی ہے جس کے مطابق غیر ملکی خاتون سے شادی پر پابندی ہو گی اور 3 سال تک ینگ ڈاکٹرز  چھٹی لے سکتے ہیں اور نہ ٹرانسفر کی درخواست کر سکتے ہیں جبکہ محکمہ صحت نے تین سال کے اندر اندر کسی بھی وقت انہیں برطرف کرنے کا اختیار دے رکھا ہے۔ عدالت سے استدعا ہے کہ یہ حلف نامے آئین اور قانون کی خلاف ورزی ہے جبکہ ان حلف ناموں پر دستخط سے انکار پر ڈاکٹرز کو برطرف کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے۔ عدالت نے 250 ینگ ڈاکٹرز کی برطرفی کیخلاف حکم امتناعی جاری کرتے ہوئے آئندہ سماعت پر محکمہ صحت اور حکومت پنجاب سے تحریری جواب طلب کر لیا۔پنجاب حکومت نے نئے بھرتی ہونے والے ڈاکٹروں سے بیان حلفی طلب کیا تھا جس میں یہ کہا گیا تھا کہ آپ یقین دھانی کرائیں کہ ینگ ڈاکٹرز تین سال تک چھٹی نہیں لے سکتے اپنی مرضی سے شادی نہیں کر سکتے کسی پوسٹ گریجویٹ کورس پر بیرون ملک بھی نہیں جا سکتے تاہم ان ڈاکٹروں نے ان شرائط کے تحت نوکری جوائن کرنے سے انکار کر دیا تھا جس پر پنجاب حکومت نے ان تمام ڈاکٹرز کو نوکری سے فارغ کر دیا تھا ۔کیس کی ابتدائی سماعت کرتے ہوئے جسٹس خالد محمود خان نے اس پر اظہار برہمی کرتے ہوئے کہا کہ ہے کسی بادشاہ کی حکومت ہے جو اپنی مرضی سے لوگوں کو زندگی گزارنے کا پابند بنانا چاہتی ہے ۔عدالت نے پنجاب حکومت کو 250 ینگ ڈاکٹروں کو نوکری سے فارغ کرنے سے روکتے ہوئے 14 مارچ کو تحریری جواب طلب کر لیا ہے کہ ینگ ڈاکٹرز کو نوکریوں سے کیوں نکالا جا رہا ہے ۔