افغان طالبان کا صدارتی انتخابات کے دوران حملوں کا اعلان …

11 مارچ 2014
افغان طالبان کا صدارتی انتخابات کے دوران حملوں کا اعلان …

کابل(نیوز ایجنسیاں)افغان طالبان نے کہا ہے کہ وہ آئندہ صدارتی انتخابات کی مہم اور انتخابی عمل کو حملوں کا نشانہ بنائیں گے۔امریکہ جنگ میں ناکامی کے بعد بلاواسط طریقے سے انتخابات کے ذریعے اپنا قبضہ برقرار رکھنا چاہتا ہے ‘فغان عوام یہ جان لیں کہ ان کا کاسٹ کیا ہواایک ووٹ نہ صرف امریکہ بلکہ اسلام کیخلاف کفار کی حمایت تصور ہوگا۔ کابل سے ملنے والی رپورٹوں کے مطابق افغان طالبان کی قیادت نے اپنے حامی عسکریت پسندوں سے کہا ہے کہ وہ انتخابی عملے، عام رائے دہندگان اور سکیورٹی فرائض انجام دینے والے اہلکاروں کو نشانہ بنائیں تاکہ اگلے مہینے کے شروع میں ہونے والے صدارتی الیکشن کو ناکام بنایا جا سکے۔افغانستان میں آئندہ صدارتی انتخابات پانچ اپریل کو ہوں گے۔ اگر آئندہ صدارتی انتخابات کے دوران بھی بہت زیادہ خونریزی دیکھنے میں آئی تو افغانستان کی مالی مدد کرنے والے ملکوں اور انٹرنیشنل اداروں کے اس ملک میں صورتحال بہتر ہو جانے سے متعلق دعووں کو دھچکا لگے گا۔کابل کی مالی مدد کرنے والے ملکوں اور بین الاقوامی تنظیموں کا کہنا ہے کہ اس ملک میں 2001ء میں جو بیرونی فوجی اور سویلین مداخلت کی گئی تھی۔افغان اخبار کی رپورٹ کے مطابق طالبان کی طرف سے صدارتی الیکشن کے دوران اور اس سے پہلے خونریز حملوں کا اعلان ایک ای میل بیان میں کیا گیا۔  ترجمان نے کہا کہ انتخابات امریکہ کی چال ہے جو جنگ میں ناکامی کے بعد بلاواسطہ طریقے سے افغان سرزمین پر قابض ہونا چاہتا ہے۔  بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکہ نے افغان سرزمین پر طویل قیام کیلئے نظریں جما رکھی ہیں۔ دس سالہ جنگ میں بدترین شکست اور ناکامی کے بعد اب انتخابات جیسے حربوں کے ذریعے وہ اپنے مقاصد میں کامیابی حاصل کرنے کا خواہاں ہے لیکن ایسا ہرگز نہیں ہونے دیا جائے گا۔ امریکہ انتخابات کے ذریعے ایسے ڈمی شخص کو ملک کا سربراہ بنانا چاہتا ہے جو بظاہر افغان شہری لیکن اس کی ذہنیت اور سوچ امریکی ہو۔ امریکی ہمدردی سے بننے والے سربراہ مملکت کو افغانیوں سے غرض ہوسکتی ہے نہ ہی مذہب اسلام‘ ہماری اقدار و ثقافت اور روایات سے بلکہ وہ مکمل طور پر امریکی ایجنڈا آگے بڑھائے گا۔ بیان میں افغان عوام سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ انتخابات سے دور اور لاتعلق رہ کر امریکہ کے اس آخری حربے کو بھی ناکام بنائیں۔ اس سلسلے میں علماء کرام‘ مدارس کے اساتذہ‘ مذہبی سکالرز اور قبائلی عمائدین کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس امریکی منصوبے کو ناکام بنانے کیلئے اپنا کردار ادا کریں جبکہ معاشرے کے ہر فرد کو یہ سمجھنا ہوگا کہ ان کا کاسٹ کیا ہوا ایک ووٹ نہ صرف یہ کہ امریکی منصوبے بلکہ اسلام کیخلاف کفار کی حمایت تصور ہوگا لہٰذا تمام افغان شہری اور ووٹرز بھی اپنی ذمہ داری کو سمجھتے ہوئے انتخابات سے دور رہیں اور پولنگ والے روز پولنگ سٹیشن کے قریب تک نہ جائیں جبکہ انتخابی ریلیوں اور جلسے جلوسوں میں بھی شرکت نہ کریں ورنہ ان کی زندگیوں کو بھی خطرات لاحق ہوسکتے ہیں اور اس کے ذمہ دار وہ خود ہوں گے۔

مری بکل دے وچ چور ....

فاضل چیف جسٹس کے گذشتہ روز کے ریمارکس معنی خیز ہیں۔ کیا توہین عدالت کا مرتکب ...