مستقل نہ کرنے پر پنجاب بھر سے نرسوں کا پریس کلب کے باہر دھرنا

11 مارچ 2014

لاہور (نیوز رپورٹر) ینگ نرسز ایسو سی ایشن کی جانب سے ایڈہاک او ر کنٹریکٹ نرسوں نے مستقل نہ کئے جانے پر لاہور پریس کلب کے باہر آٹھ گھنٹے دھرنا دیا جبکہ ینگ نرسز ایسو سی ایشن کی جانب سے پنجاب بھر سے دھرنے میں شرکت کی، مطالبات کی منظوری کے لئے نرسزنے آج وزیراعلی ہائوس کے باہر دھرنا دینے کا فیصلہ کیا۔ محکمہ صحت کی جانب سے صرف ڈی جی نرسنگ نے نرسوں سے مذکرات کئے جو کامیاب نہیں ہو سکے۔ دھرنا میں تحریک انصاف پنجاب کے صدر اعجاز چوہدری  اور ینگ ڈاکٹرز ایسو سی ایشن نے شرکت کرکے نرسز کے ساتھ یک جہتی کا اظہار کیا۔ دھرنا میں شریک نرسوں نے اپنے مطالبات کے حق میں شدید نعر بازی کی اور وزیراعلی پنجاب میاں شہبازشریف سے نوٹس لینے کا مطالبہ کیا۔ دھرنا کے راستے کو پولیس نے خار دار تاروں سے بند کر دیا تھا۔ پولیس کی بھاری نفری بھی موقع پر موجود رہی۔ احتجاج میں شریک نرسوں نے الزام عائد کیا کہ دھرنا میں شرکت کے لئے نرسوں کو ہسپتالوں سے نکلنے نہیں دیا گیا۔ ہسپتالوں کے دروازے بند کردئیے گئے جس کی وجہ سے دھرنا میں نرسز کی تعداد کم رہی۔ ینگ نرسز ایسو ی ایشن کی صدر روزینہ منظور نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مشیر صحت خواجہ سلمان رفیق کی نرسز کے مسائل پر خاموشی پر حیرت  ہو رہی ہے۔ نرسز اپنے مطالبات پورے ہونے تک سڑکوں پر رہیں گی۔ نرسز کو ہسپتالوں کی انتظامیہ نے دھرنے میں آنے سے زبردستی روکا گیٹ بند کردئیے گئے محکمہ صحت نرسز کو روک کر نرسز کی آواز کو دبا نہیں سکتا ہے۔ دریں اثناء سیکرٹری صحت بابر حیات تارڑ نے کہا کہ عدالت عالیہ کے فیصلے کی روشنی میں پنجاب کے علاوہ دوسرے صوبوں ونجی سکولوں کی فارغ التحصیل نرسز کی مدت ملازمت میں توسیع نہیں ہو گی۔ 2010ء میں سینکڑوں نرسوں کو ریگولر کیا اور 10 ہزار روپے سپیشل الائونس  بھی دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ چند مفاد پرست عناصر  نرسوں کو سڑکوں پر لاکر احتجاج کرا رہے ہیں۔