بیٹے اور پوتوں نے گھر پر قبضہ کرکے 90سالہ بزرگ کو نکال دیا، تشدد کا نشانہ بنایا، میاں میر کا حاجی ایوب 10برس سے مسجد میں رہنے پر مجبور، عدالت میں بیٹے کیخلاف کیس دائر

11 مارچ 2014

لاہور (اپنے نامہ نگار سے) بیٹے اور پوتوں نے مکان پر قبضہ کرکے بوڑھے باپ کو گھر سے نکال دیا جو 10برس سے مسجد میں رہنے پر مجبور ہے،  لاٹھی کے سہارے چلنے والے ضعیف العمر باریش شخص کو لوگوں نے دونوں کندھوں سے پکڑ کر گذشتہ روز عدالت میں پیش کیا۔ میاں میر کے رہائشی 90سالہ حاجی ایوب نے ایڈیشنل سیشن جج نعیم احمد کی عدالت میں بیٹے کیخلاف اندراج مقدمہ کی درخواست میں مئوقف اختیار کیا کہ اسکا بیٹا اور پوتا جان سے مارنے پر تلے ہوئے ہیں پولیس بات نہیں سنتی۔ ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج نے ایس ایچ او تھانہ شمالی چھائونی سے12 مارچ کو رپورٹ طلب کرلی۔ استغاثہ کے مطابق میاں میر کالونی کے رہائشی محمد ایوب نے اندراج مقدمہ کی درخواست میں موقف اختیار کیا کہ اسکے بیٹے عبدالزبیر، اس کی بہو طاہرہ اور پوتوں رئوف اور ہارون نے دس سال قبل میرے جعلی انگوٹھے لگا کر درخواست گزار کا مکان اپنے نام کروا لیا اور سائل کو گھر سے نکال دیا جس کی وجہ سے وہ گزشتہ 10سال سے غوثیہ مسجد میں رہ رہا ہے اور بے سہارا ہونے کے باعث اسے وہاں کے لوگ کھانا وغیرہ دے دیتے ہیں اس دوران سائل نے اپنے بیٹے اور پوتوں کے خلاف دیوانی دعویٰ کیا جس کی سماعت 8 مارچ کو تھی تاہم اس سے ایک روز قبل سائل کا بیٹا اور دونوں پوتے مسجد میں گھس گئے اور نمازیوں کی موجودگی میں درخواست گزار کو  ڈنڈوں سے زد و کوب کیا، نمازیوں نے سائل کی جان بچائی انہوں نے کہا کہ درخواست گزار نے دعویٰ واپس نہ لیا تو جان سے مار دیں گے جس پر سائل نے پولیس کو کارروائی کرنے کے لئے درخواست دی مگر شنوائی نہیں ہوئی۔