حکومت نے عسکریت پسندوں کے مختلف گروپوں سے انفرادی سطح پر امن معاہدہ کیلئے کوششیں شروع کردی

11 مارچ 2014

اسلام آباد (آن لائن) وفاقی حکومت خاموشی کے ساتھ عسکریت پسندوں کے مختلف گروپوں سے انفرادی سطح پر امن معاہدے کرنے کی کوشش کر رہی ہے کیونکہ حکومتی امن کمیٹی کا متفقہ موقف ہے کہ ایک وقت میں تحریک طالبان پاکستان کے تمام گروپوں کے ساتھ امن معاہدہ ناممکن ہے۔ حکومتی امن کمیٹی کے کم از کم 2 ارکان نے معاملے کی حساسیت کے پیش نظر نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پربتایا کہ توقع ہے کہ وفاقی حکومت تحریک طالبان کے بعض گروپوں سے کسی مفاہمت پر پہنچ سکے گی۔ یہ حقیقت ہے کہ تمام گروپوں کے ساتھ امن معاہدہ کسی صورت نہیں ہوسکتا۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت اس وقت ان گروپوں کے انتخاب  میں مصروف ہے جو امن کے خواہاں ہیں اور مفاہمت چاہتے ہیں۔ حکومتی کمیٹی کے ایک اور رکن نے کہا کہ عسکریت پسندوں کے مختلف گروپوں سے مذاکرات کے لئے حکومت بیک ڈور چینلز کا سہارا لے رہی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے مختلف گروپوں سے امن معاہدے کے لئے رابطے ظاہر کرتے ہیں کہ حکومت کو یقین ہے کہ تحریک طالبان پاکستان کی عسکریت پسندوں کے تمام گروپوں پرگرفت مضبوط نہیں۔ حکومتی مذاکراتی کمیٹی کے رکن نے بتایا کہ دہشت گردی کے حالیہ واقعات نے بھی ثابت کیا ہے کہ تحریک طالبان پاکستان کا مختلف گروپوں پر کنٹرول کمزور پڑ رہا ہے۔ اگر تمام شدت پسند گروپ تحریک طالبان پاکستان کی قیادت کے موقف کی تائید کرتے تو جنگ بندی کے اعلان کے بعد دہشت گردی کی تازہ وارداتیں نہ ہوتیں۔