کشمیری طلبہ نے جشن منا کر تشویش کا پیغام دیا‘ سلمان خورشید : دہلی میں دھرنے پر ہندوئوں کا دھاوا

11 مارچ 2014

نئی دہلی  (اے این این+ کے پی آئی+ آئی این پی) بھارتی وزیر خارجہ سلمان خورشید نے کشمیری طلباء کو نشانہ بنانے کے عمل سے لاعلمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے بھارت کے وقار کو ٹھیس پہنچانے کے لئے پاکستان کے حق میں جشن منانا ہمارے لئے باعث تشویش ہے، پولیس حکام کیا کرتے ہیں اس کا فیصلہ کرنے کے لئے میں کوئی جج نہیں۔ بھارتی ٹی وی کو دئیے انٹرویو میں انہوں نے کہا اترپردیش میں پاکستانی کرکٹ ٹیم کی جیت پر مبینہ طور پر جشن منانے والے کشمیری طلبہ سے متعلق تنازعہ کے حقائق اور حالات کے بارے میں مجھے مکمل معلومات تو نہیں لیکن  میں پریشانی محسوس کر رہا ہوں۔ انہوں نے کہا میں اس وقت پریشانی محسوس کرتا ہوں جب صرف اس وجہ سے کسی ٹیم کے لئے جشن نہیں منایا گیا کہ وہ کسی خاص ٹیم کو ترجیح دے رہا ہے بلکہ اس لئے جشن منا رہا ہے کہ اس سے وہ ایک ایسا پیغام دینا چاہتے ہیں جس سے ہمیں ٹھیس پہنچتی ہے۔ ایک ایسا پیغام جس سے ہندوستانی ہونے کے طور پر ہمارے وقار کو ٹھیس پہنچتی ہے۔ کے پی آئی کے مطابق  کشمیری طلبا کے ساتھ کی گئی ناانصافی، ریاست میں نافذ افسپا اور انسانی حقوق کی پامالیوں پر نئی دہلی میں احتجاجی دھرنے کا اہتمام کیا گیا جس میں جواہر لال نہرو یونیورسٹی میں زیر تعلیم طلبہ اور رضا کار تنظیموں کے افراد نے شرکت کی اس موقع پر ہندو بلوائیوں نے دھرنا دینے والے افراد پر دھاوا بول دیا تاہم پولیس نے بروقت کارروائی کر کے صورت حال پر قابو پا لیا۔ نئی دہلی میں جنتر منتر کے مقام پر جواہر لال نہرو یونیورسٹی میں زیر تعلیم کشمیری طلبہ اور رضا کار تنظیموں نے سوامی وویکا نند یونیورسٹی میرٹھ کی جانب سے کشمیری طلبہ کے خلاف کی گئی کارروائی پر احتجاج کا اہتمام کیا گیا اس موقع پر ڈیموکریٹک سٹوڈنٹس یونین کے عمر خالد نے خطاب کرتے ہوئے اس بات کا انکشاف کیا بھارت میں صرف سیاست دانوں کو آزادی نصیب ہے جبکہ ملک کے شہریوں کو معمولی باتوں پر زد و کوب کرنے کے علاوہ نوجوان نسل کے مستقبل کو مخدوش بنانے کی کارروائیاں بھی انجام دی جاتی ہیں۔ انہوں نے کہا گجرات کے وزیراعلیٰ جو مبینہ طور پر آبروریزی اور مسلمانوں کے قتل و غارت گری میں براہ راست ملوث ہے وزیراعظم بننے کے خواب دیکھ رہا ہے جس سے اس بات کی عکاسی ہوتی ہے ملک میں صرف سیاست دانوں کو یہ چھوٹ ملی ہے وہ جس طرح کی کارروائی چاہے کر سکتے ہیں اور انہیں کوئی پوچھنے والا نہیں جبکہ 67 کشمیریوں کو صرف میرٹھ میں قائم کی گئی سوامی وویکا نند یونیورسٹی کی انتظامیہ نے اس وجہ سے نکالا کہ انہوں نے پاکستانی کرکٹ ٹیم کے میچ جیتنے کی خوشی میں تالیاں بجائیں تھیں۔ شہلا رشید نے کہا ہم صرف میرٹھ یونیورسٹی سے نکالے گئے طلبہ کے سلسلے میں احتجاج نہیں کر رہے بلکہ ریاست خاص کر وادی کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالیاں عروج پر پہنچ گئی ہیں آبرو ریزی کے واقعات رونما ہو رہے ہیں جو ملک کی جمہوریت پر ایک دھبہ ہے۔ آئی این پی کے مطابق پاکستانی ٹیم کی جیت پر خوشی منانے کے ’’جرم‘‘ میں مختلف یونیورسٹیوں سے کشمیری  طلباء کی بے دخلیوں کے خلاف پاکستان اور آزادکشمیر سمیت دنیا بھر میں  احتجاج  کے بعد بھارت گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہوگیا،  میرٹھ کی سوامی ویویکانند سوبھارتی یونیورسٹی نے  بے دخل کیے 67 کشمیری طلباء کو واپس لینے پر رضا مندی ظاہر کردی ہے جبکہ پولیس نے بھی  یقین دہانی کرائی ہے متاثرہ  کشمیری طلباء کے خلاف کسی بھی الزام کی قانونی چارہ جوئی کی جائے گی نہ انہیں ہراساں کیا جائے گا، میرٹھ پولیس نے مقبوضہ کشمیر کی کٹھ پتلی حکومت کو یقین دہانی کرائی ہے اتر پردیش یونیورسٹی سے نکالے گئے 67کشمیری طلباء واپس کیمپس  آسکتے ہیں۔ ان کے خلاف کیسز کا تعاقب نہیں کیا جائے گا۔ وزیر اعلی عمر عبداللہ کے نمائندے جنید عظیم مٹو نے اخبار کو بتایا کہ طلباء  کا مسئلہ حل ہو گیا۔ یونیورسٹی نے طلباء  کو واپس لینے پر اتفاق کر لیا ہے جبکہ ڈویژنل کمشنر میرٹھ منجیت سنگھ اور اعلیٰ مقامی پولیس حکام نے یقین دہانی کرائی ہے ان طلباء کے خلاف کسی بھی قسم کی قانونی چارہ جوئی نہیں کی جائے گی۔ پولیس نے اعتراف کیا کہ طلباء  پر بغاوت کے الزامات عائد کرنا پروسیجر کی خامی تھی۔