لوگ بھوک سے مر رہے ہیں‘ گندم گوداموں میں بند پڑی رہی : جسٹس عظمت سعید‘ تھر میں صورتحال کی ذمہ دار سندھ حکومت ہے‘ ہمارے شرم سے جھک جانے چاہیں : چیف جسٹس

11 مارچ 2014

اسلام آباد (نمائندہ نوائے وقت+ ایجنسیاں) چیف جسٹس تصدق حسین جیلانی نے کہا ہے کہ سندھ میں جو کچھ ہو رہا ہے اسے دیکھ کر سر شرم سے جھک جانے چاہئیں تھر میں صورتحال کی ذمہ دار سندھ حکومت ہے، میڈیا نہ ہوتا تو تھرپارکر میں بچے خاموشی سے مرتے رہتے جبکہ جسٹس شیخ عظمت سعید نے کہا کہ لوگوں کو وزیراعظم یا وزیراعلیٰ کی ضرورت نہیں انہیں کھانا چاہئے جبکہ ایڈووکیٹ جنرل سندھ کا کہنا تھا کہ تھرپارکر میں حکومت کی جانب سے کوتاہی ہوئی ہے، حکومت کو اس کا پچھتاوا بھی ہے،  ذمہ داروں کا تعین ہونا چاہئے اس پر عدالت نے کہا کہ پہلے بتایا جائے خشک سالی اور بھوک سے کل کتنے بچے مرے۔ ذمہ داروں کا تعین بعد میں ہوتا رہے گا۔ عدالت نے ایڈووکیٹ جنرل سندھ کو حکم دیا ہے کہ تھر میں غذائی قلت اور وہاں پیدا ہونے والی بیماریوں سے نمٹنے کے لئے ایکشن پلان کی تفصیلات 17 مارچ کو عدالت میں پیش کی جائیں۔ ہوم سیکرٹری سندھ اور ایڈووکیٹ جنرل کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ آج سندھ کابینہ کا ہنگامی اجلاس صرف اسی ایک نکتہ پر مبنی ایجنڈا پر غور کیلئے بلایا گیا ہے اور اس کے لئے ایکشن پلان تیار کیا جا رہا ہے غذا اور ادویات کی قلت دور کرنے کیلئے مناسب اقدامات کئے گئے ہیں ایک لاکھ 20 ہزار بوری گندم تھر پہنچا دی گئی ہے جبکہ ادویات بھی پہنچا دی گئی ہیں مٹھی ہسپتال کو 30 کروڑ روپے جاری کر دیئے ہیں جبکہ مجموعی طور پر 48 کروڑ فراہم کئے جائیں گے۔ ایڈووکیٹ جنرل سندھ کا کہنا تھا کہ بنیادی طور پر صورت حال اتنی خراب نہیں، میڈیا صورت حال کو بڑھا چڑھا کر پیش کر رہا ہے اس پر چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ اگر میڈیا معاملہ کو نہ اٹھاتا تو یہ معاملہ اسی طرح دب جاتا جبکہ جسٹس شیخ عظمت سعید نے چیف سیکرٹری سندھ سے پوچھا کہ کیا آپ کو علم ہے کہ گزشتہ روز کتنے بچوں کی اموات ہوئی ہیں۔ اس پر چیف سیکرٹری کے پاس کوئی جواب نہیں تھا ان کا کہنا تھا کہ میرے پاس جنوری فروری کی رپورٹ ہے اس پر جسٹس عظمت سعید شیخ نے کہا کہ صاحب اقتدار کتنے بچے مرنے پر حرکت میں آتے ہیں ہم صرف یہ جاننا چاہتے ہیں کہ کیا آپ کے بچے نہیں ہیں، خشک سالی کا سب کو پتہ تھا اور یہ کوئی پہلی مرتبہ نہیں اس خشک سالی کی اطلاع آپ کو کس تاریخ کو ملی کل کتنے بچے مرے عدالت کو اس بارے میں بتائیں لیکن چیف  سیکرٹری کے پاس اس کا کوئی جواب نہیں تھا، ایڈووکیٹ جنرل سندھ کا کہنا تھا کہ علاقہ میں ٹھنڈ بہت تھی اور یہ لوگ علاج نہیں کراتے۔ جسٹس عظمت سعید نے کہا کہ آپ یہ ذمہ داری بھی ان پر ڈالتے ہیں کہ وہ ذمہ دار ہیں آپ بچوں کے مرنے کی ذمہ داری بھی تھر کے لوگوں پر ہی ڈال رہے ہیں۔ خوراک کا ذخیرہ آپ کے پاس ہے اور بچے بھوک سے بلک بلک کر مر رہے ہیں، حکومت کی کارکردگی کا یہ حال ہے کہ گندم گوداموں میں پڑی ہے۔ بعدازاں سماعت 17مارچ تک ملتوی کر دی گئی۔